اب وہ زیبائشیں کہاں باقی
دل کی فرمائشیں کہاں باقی
یونہی خود ساختہ سا ہنستا ہوں
ورنہ گنجائشیں کہاں باقی
کوئی کہہ دے تو مسکراتا ہوں
خود میں اب خواہشیں کہاں باقی
دسترس میں حیات ہے لیکن
اس کی آرائشیں کہاں باقی
ساری آلودگی ہے یادوں کی
نئی آلائشیں کہاں باقی
روز و شب آج بھی ہیں پہلے سے
اِن کی پیمائشیں کہاں باقی
www.fundayforum.com
2


0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.