وہ اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں رواں سے
بسے ہوۓ ہیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے
یہ عکس داغ شکست پیماں وہ رنگ زخم خلوص یاراں
میں غمگساروں میں سوچتا ہوں کہ بات چھیڑوں کہاں کہاں سے؟
یہ سنگریزے عداوتوں کے وہ آبگینے سخاوتوں کے
دل مسافر قبول کر لے، ملا ہے جو کچھ جہاں جہاں سے
بچھڑنے والے بچھڑ چلا تھا تو نسبتیں بھی گنوا کے جاتا
ترے لیے شہر بھر میں اب بھی میں زخم کھاؤں زباں زباں سے
مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ
جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ہو کے آیا وہاں وہاں سے
تو ہم نفس ہے نہ ہمسفر ہے کسے خبر ہے کہ تو کدھر ہے؟
میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکیں مکیں سے مکاں مکاں سے
ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن!
ابھی ہے چاہت نئی نئی سی، ابھی ہیں جذبے جواں جواں سے
-
entries
163 -
comments
120 -
views
37,564
2

1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.