Waqas Dar 7,036 Posted September 29, 2016 Posted September 29, 2016 محسن نقوی کی ایک منقبت ، حسین کے چاہنے والوں کے نام نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ جہانِ عزمِ وفا کا پیکر خِرد کا مرکز، جنوں کا محور جمالِ زھراسلام اللہ علیہا ، جلالِ حیدر ضمیرِ انساں، نصیرِ داور زمیں کا دل، آسماں کا یاور دیارِ صبر و رضا کا دلبر کمالِ ایثار کا پیمبر شعورِ امن و سکوں کا پیکر جبینِ انسانیت کا جھُومر عرب کا سہرا، عجم کا زیور حسین تصویرِ انبیاء ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اہلِ وفا کی بستی حسین آئینِ حق پرستی حسین صدق و صفا کا ساقی حسین چشمِ اَنا کی مستی حسین پیش از عدم، تصور حسین بعد از قیامِ ہستی حسین نے زندگی بکھیری فضا سے ورنہ قضا برستی عروجِ ہفت آسمانِ عظمت حسین کے نقشِ پا کی مستی حسین کو خُلد میں نہ ڈھونڈو حسین مہنگا ہے خلد سستی حسین مقسومِ دین و ایماں حسین مفہوم "ھَل اَتٰی" ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین دل ہے حسین جاں ہے حسین قرآن کی زباں ہے حسین عرفاں کی سلطنت ہے حسین اسرا ر کا جہاں ہے حسین سجدوں کی سر زمیں ہے حسین ذہنوں کا آسماں ہے حسین زخموں بھری جبیں ہے حسین عظمت کا آستاں ہے ! اُٹھا رہا ہے جو لاشِ اکبر حسین بوڑھا نہیں جواں ہے وہ سر خروئے نشیبِ صحرا وہ سربلندِ سر سناں ہے ! وہ بدرِ افلاک آدمیّت وہ صدرِ اربابِ کربلا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ایماں کی جستجو ہے حسین یزداں کی آبرو ہے حسین تنہا تھا کربلا میں حسین کا ذکر چار سو ہے فرات کی نبض رُک گئی ہے؟ حسین مصروفِ گفتگو ہے جہاں گلابوں سے اٹ گیا ہے حسین شاید لہو لہو ہے حیات کے ارتقا سے پوچھو حسین پیغمبرِ نمو ہے حسین کو حوصلہ نہ پوچھو حسین لُٹ کر بھی سُرخرو ہے وہ دیکھ فوجوں کے درمیاں بھی حسین تنہا ڈٹا ہواہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے حسین نِکھرا ہُوا قلندر حسین بھپرا ہُوا سمندر حسین بستے دلوں سے آگے حسین اُجڑے دلوں کے اندر حسین سلطانِ دین و ایماں حسین افکار کا سکندر ! حسین سے آدمی کا رُتبہ حسین ہے آدمی کا "مَن دَر" خدا کی بخشش ہی خیمہ زَن ہے حسین کی سلطنت کے اندر حسین داتا، حسین راجہ حسین بھگوان، حسین سُندر حسین آکاش کا رشی ہے حسین دھرتی کی آتما ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین ، میدان کا سپاہی حسین دشتِ اَنا کا راہی حسین فرقِ اَجل کا بَل ہے ! حسین انداز، کجکلاہی ! حسین کی گردَ پا، زمانہ حسین کی ٹھوکروں میں شاہی حسین معراجِ فقرِ عالم حسین ، رمزِ جہاں پناہی حسین ایقان کا مُنارہ حسین اوہام کی تباہی ضمیر انصاف کی لغت میں حسین معیارِ بےگناہی بنامِ جبر و غرورِ شاہی حسین غیرت کا فیصلہ نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین فقرو اَنا کا غازی حسین جنگاہ میں نمازی حسین حسنِ نیاز مندی حسین اعجازِ بے نیازی حسین آغازِ جاں نثاری حسین انجامِ جاں گدازی حسین توقیر کار بندی حسین تعبیر کار سازی حسین معجز نمائے دوراں حسین حق کی فسوں طرازی حسین ہارا تو یوں کہ جیسے حسین نے جیت لی ہو بازی حسین سارے جہاں کا وارث حسین کہنے کو بے نوا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ ! حسین پیغمبرِ بہاراں حسین تسکین دل فگاراں حسین میر حجاز ہستی حسین سالارِ شہسواراں کہ دیدہ و دل کے دشت وور میں حسین تمثیلِ ابر و باراں حسین تدبیرِ جاں فروشاں حسین تقدیرِ سوگواراں کبھی تو چشمِ ہنر سے دیکھو حسین رشکِ رُخِ نگاراں ! حسین حسنِ مہِ محرّم حسین ہی عید ِ روزہ داراں ! حسین سرمایہ انبیا کا حسین اعجازِ اولیا ہے نہ پوچھ میرا حسین کیا ہے؟ حسین اک دلنشیں کہانی حسین دستورِ حق کا بانی حسین عباس کا سراپا حسین اکبر کی نوجوانی حسین کردارِ اہلِ ایماں حسین معیارِ زندگانی حسین قاسم کی کم نمائی حسین اصغر کی بے زبانی حسین سجاد کی خموشی حسین باقر کی نوحہ خوانی حسین دجلہ کا خشک ساحل حسین صحرا کی بیکرانی حسین زینب سلام اللہ علیہا کی کسمپرسی حسین کلثوم سلام اللہ علیہا کی ردا ہے نہ پُوچھ میرا حسین کیا ہے؟ 1 Quote ⚡ Quick Access & Member Actions 📝 Create Account / Register 🔐 Member Login 🔍 Search Everything 🔥 Activity Feed (Live Updates) 🏠 Go to Portal Home 📩 Contact Admin Support ❓ Help & Support Center 🏆 Community Leaderboard 👨💼 Forum Staff Team 📜 Terms & Rules 🔒 Privacy Policy 📢 Forum Announcements
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.