Jump to content

Recommended Posts

Posted

سنو
تم جب کبھی تنہا کسی بھی پیڑ کے سائے میں بیٹھو
تو کبھی کچھ بھی نہیں لکھنا
نہ میرا نام اپنے ساتھ
نہ اپنا علیحدہ سے
محبت کا شجر سب کچھ سمجھتا ہے
اُسے پڑھنا بھی آتا ہے
تمہیں میں اس لیے محتاط کرتا ہوں
کہ اُس کا بخت اپنا ہے
تم اپنا اور میرا نام اپنے دل میں ہی لکھو
تو بہتر ہے۔
جب اپنے بخت سے تم لڑ نہیں سکتیں
تو پھر کس واسطے پیڑوں کو اپنا دکھ سناتی ہو

وہ اپنے درد سے عاجز
تمہارا دُکھ کہاں بانٹیں؟
محبت کے درختوں سے
گرے ،بکھرے ہوئے پتے جہاں دیکھو
اُٹھاؤ
اپنے آنچل میں سمیٹو
اور واپس لوٹ کر آؤ
سو ممکن ہے تمہارا درد بَٹ جائے

 

14516531_1678543149129332_3039742220656264936_n.jpg

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.