Urooj Butt👑 Posted October 17, 2016 Posted October 17, 2016 سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے رقم تھیں اپنے چہرے پرخراشیں میں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے یہ کیسی روشنی تھی میرے اندر کہ مجھ پر دھوپ کا سایہ پڑا ہے مری آنکھوں میں تم کیا جھانکتے ہو تہوں میں آنسوؤں کے کیا پڑا ہے حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے بدن شوقین کم پیراہنی کا در و دیوار پر پردہ پڑا ہے اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میرا گریباں پر خود اپنے جا پڑا ہے محبت آنسوؤں کے گھاٹ لے چل بہت دن سے یہ دل میلا پڑا ہے زمیں ناراض ہے کچھ ہم سے شاید پڑا ہے پاؤں جب الٹا پڑا ہے ڈبو سکتی نہیں دریا کی لہریں ابھی پانی میں اک تنکا پڑا ہے مظفر رونقوں میلوں کا رسیا ہجومِ درد میں تنہا پڑا ہے
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now