Urooj Butt 861 Posted October 17, 2016 Member ID: 3,008 Group: 🌟 LEGACY MEMBER Topic Count: 318 Topics Per Day: 0.08 Content Count: 708 Content Per Day: 0.19 Reputation: 861 Days Won: 68 Joined: 01/07/2016 Status: Offline Last Seen: December 10, 2021 Timezone: Asia/Karachi Posted October 17, 2016 سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے رقم تھیں اپنے چہرے پرخراشیں میں سمجھا آئینہ ٹوٹا پڑا ہے یہ کیسی روشنی تھی میرے اندر کہ مجھ پر دھوپ کا سایہ پڑا ہے مری آنکھوں میں تم کیا جھانکتے ہو تہوں میں آنسوؤں کے کیا پڑا ہے حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے بدن شوقین کم پیراہنی کا در و دیوار پر پردہ پڑا ہے اٹھا تھا زندگی پر ہاتھ میرا گریباں پر خود اپنے جا پڑا ہے محبت آنسوؤں کے گھاٹ لے چل بہت دن سے یہ دل میلا پڑا ہے زمیں ناراض ہے کچھ ہم سے شاید پڑا ہے پاؤں جب الٹا پڑا ہے ڈبو سکتی نہیں دریا کی لہریں ابھی پانی میں اک تنکا پڑا ہے مظفر رونقوں میلوں کا رسیا ہجومِ درد میں تنہا پڑا ہے 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.