waqas dar⚙ Posted October 24, 2016 Posted October 24, 2016 گئے دِنوں کا سراغ لے کر ، کِدھر سے آیا کِدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دِکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سُنا کر ستارہء شام بن کے آیا ، برنگِ خُوابِ سحر گیا وہ خوشی کی رُت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈُھونڈتی ہے ہر دٙم وُہ بُوئے گل تھا کہ نغمہء جاں ، مرے تو دل میں اُتر گیا وہ نہ اب وُہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اُداس برکھا یُونہی ذرا سی کسک ہے دِل میں ، جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دٙورِ آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے ، جو دِن کڑا تھا گزر گیا وہ بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار راستے ہیں اہلِ دل کے یہی تو ہے فرق مجھ میں ، اس میں گزر گیا میں ، ٹھہر گیا وہ شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دِنوں کو بُلا رہا ہوں جو قافلہ میرا ہمسفر تھا ، مثالِ گردِ سفر گیا وہ میرا تو خون ہو گیا ہے پانی سِتمگروں کی پلک نہ بھیگی جو نالہ اُٹھا تھا رات دِل سے ، نہ جانے کیوں بے اٙثر گیا وہ وہ میکدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اُڑانے والا یہ آج کیا اُس کے جی میں آئی ، کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سُخن ہمارا سدا رہے اُس کا نام پیارا ، سُنا ہے کل رات مٙر گیا وہ وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تُو نے منزلوں کا تری گلی سے نہ جانے کیوں آج ، سٙر جُھکائے گزر گیا وہ وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر ، وہ تیرا ناصر تیری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا ، پھر نہ جانے کِدھر گیا وہ ***** ***** شاعر : ناصر کاظمی (دیوان)
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now