Nasir Kazmi
21 topics in this forum
-
- 16 replies
- 7.4k views
ﭘﮭﺮ ﺳﺎﻭﻥ ﺭﺕ ﮐﯽ ﭘﻮﻥ ﭼﻠﯽ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺎﺯﯾﺐ ﺑﺠﯽ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﻮﻧﺠﯿﮟ ﺑﻮﻟﯿﮟ ﮔﮭﺎﺱ ﮐﮯ ﮨﺮﮮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺕ ﺁﺋﯽ ﭘﯿﻠﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﮐﺎﮔﺎ ﺑﻮﻻ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻣﺮﺕ ﺭﺱ ﮐﯽ ﺑﻮﻧﺪ ﭘﮍﯼ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﺦ ﮐﮯ ﺭﻭﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﺎﺩﻝ ﮔﺮﺟﺎ ﺑﺠﻠﯽ ﭼﻤﮑﯽ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺩﮬﻨﺪﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﯾﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺐ ﺩﯾﻮﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﭖ ﮈﮬﻠﯽ ﺗﻢ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﮯ ﻧﺎﺻﺮ ﮐﺎﻇﻤﯽ
Last reply by Zarnish Ali, -
-
- 0 replies
- 1.7k views
تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا روتا تھا ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایا دیر سے میرے ساتھ لگا تھا چھوڑ گئے جب سارے ساتھی تنہائی نے ساتھ دیا تھا سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی تنہائی کا پھول کھلا تھا تنہائی میں یاد خدا تھی تنہائی میں خوف خدا تھا تنہائی محراب عبادت تنہائی منبر کا دیا تھا تنہائی مرا پائے شکستہ تنہائی مرا دست دعا تھا وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا تنہائی مرے دل کی جنت میں تنہا ہوں میں تنہا تھا
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1k views
تنہائی کا دکھ گہرا تھا میں دریا دریا روتا تھا ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ میں طوفانوں سے کھیلا تھا تنہائی کا تنہا سایا دیر سے میرے ساتھ لگا تھا چھوڑ گئے جب سارے ساتھی تنہائی نے ساتھ دیا تھا سوکھ گئی جب سکھ کی ڈالی تنہائی کا پھول کھلا تھا تنہائی میں یاد خدا تھی تنہائی میں خوف خدا تھا تنہائی محراب عبادت تنہائی منبر کا دیا تھا تنہائی مرا پائے شکستہ تنہائی مرا دست دعا تھا وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا تنہائی مرے دل کی جنت میں تنہا …
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 1.1k views
ناز بیگانگی میں کیا کچھ تھا حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے عہد آوارگی میں کیا کچھ تھا آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے عالم بے خودی میں کیا کچھ تھا یاد ہیں مرحلے محبت کے ہائے اس بیکلی میں کیا کچھ تھا کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا کتنے مانوس لوگ یاد آئے صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
Last reply by jannat malik, -
- 2 replies
- 3.1k views
Short Biography of Nasir Kazmi a Poet of Modern Urdu Ghazal ناصر کاظمی 8 دسمبر، 1925 ہندوستانی پنجاب کے شہر امبالہ میں ایک ہندوستانی رائل آرمی کے ایک صوبیدار میجر محمد سلطان کے گھر پیدا ہوئے والد کی نوکر ی کی وجہ سے ناصر کو کئی شہروں میں رہنے کا موقع ملتا رہا۔ مگر ناصر کاظمی نے اپنا میٹرک کا امتحان مسلم ہائی اسکول انبالہ سے پاس کیا۔ پھر کالج کی تعلیم کے لیے وہ لاہور کے اسلامیہ کالج آگئے جہاں پر وہ ہاسٹل میں رہائش پزیر رہے۔باوجود اس کے ناصر کاظمی رفیق خاور کے چہیتے شاگرد رہے ناصر کا دل جانے کیو ں پڑھائی سے اچاٹ ہوگیا ۔۔ اور نا صر نے اپنا بی اے بھی ادھورا چھوڑ دیا اور تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا۔ پاکستان بننے کے بعد ناصر کاظمی لاہور منتقل ہوگئے مگر جلد ہی ان…
Last reply by ADMIN, -
- 4 replies
- 1.7k views
دیارِ دِل کی رات میں چراغ سا جلا گیا مِلا نہیں تو کیا ہُوا ، وہ شکل تو دِکھا گیا وہ دوستی تو خیر اب نصیبِ دُشمناں ہُوئی وہ چھوٹی چھوٹی رنجِشوں کا لُطف بھی چلا گیا جُدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے تجھے بھی نِیند آگئی، مُجھے بھی صبر آگیا پُکارتی ہیں فُرصتیں، کہاں گئیں وہ صحبتیں؟ زمِیں نِگل گئی اُنہیں، کہ آسمان کھا گیا یہ صُبح کی سفیدِیاں ، یہ دوپہر کی زردِیاں اب آئینے میں دیکھتا ہُوں مَیں کہاں چلا گیا یہ کِس خوشی کی ریت پر ،غموں کو نِیند آگئی وہ لہر کِس طرف گئی، یہ میں کہاں سما گیا گئے دِنوں کی لاش پر پڑے رہوگے کب تلک الَم کشو ! اُٹھو کہ آفتاب سر پہ آگیا ناصؔر کاظمی
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.6k views
ترے خیال سے لَو دے اٹھی ہے تنہائی شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی اُنھیں بھی دیکھ جِنھیں راستے میں نیند آئی پُکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لئے یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی یہ سانحہ بھی محبّت میں بارہا گزرا کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا تمام رات ترے پہلوؤں سے آنچ آئی جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی کھُل…
Last reply by Kainat Khan, -
- 2 replies
- 1.5k views
کب تلک مدعا کہے کوئی نہ سنو تم تو کیا کہے کوئی غیرت عشق کو قبول نہیں کہ تجھے بے وفا کہے کوئی منتِ ناخدا نہیں منظور چاہے اس کو خدا کہے کوئی ہر کوئی اپنے غم میں ہے مصروف کس کو درد آشنا کہے کوئی کون اچھا ہے اس زمانے میں کیوں کسی کو برا کہے کوئی کوئی تو حق شناس ہو یارب ظلم کو ناروا کہے کوئی وہ نہ سمجھیں گے ان کنایوں کو جو کہے برملا کہے کوئی آرزو ہے کہ میرا قصہء شوق آج میرے سوا کہے کوئی جی میں آتا ہے کچھ کہوں ناصر کیا خبر سن کے کیا کہے کوئی دیوان (ناصر کاظمی)
Last reply by Zarnish Ali, -
- 9 replies
- 1.9k views
دکھ کی لہر نے چھیڑا ھوگا یاد نے کنکر پھینکا ھوگا آج تو میرا دل کہتا ھے تو اس وقت اکیلا ھوگا میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے اوروں کو خط لکھتا ھوگا بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں تو اب تھک کے سویا ھوگا ریل کی گہری سیٹی سن کر رات کا جنگل گونجا ھوگا شہر کے خالی اسٹیشن پر کوئی مسافر اترا ھوگا آنگن میں پھر چڑیاں بولیں تو اب سو کر اٹھا ھوگا یادوں کی جلتی شبنم سے پھول سا مکھڑا دھویا ھوگا موتی جیسی شکل بنا کر آئینے کو تکتا ھوگا شام ہوئی اب تو بھی شاید اپنے گھر کو لوٹا ھوگا نیلی دھندلی خاموشی میں تاروں کی دھن سنتا ھوگا میرا ساتھی شام کا تارا تجھ سے آنکھ ملاتا ھوگا شام کے چلت…
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.6k views
کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ چاپ گزر جاتا ہے کبھی اس شخص کو ہم پیار کیا کرتے تھے اتفاقاتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر آج وہ دیکھ رہے ہیں جو سنا کرتے تھے ناصر کاظمی
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 2.1k views
کِسی کا درد ہو دِل بے قرار اپنا ہے ہَوا کہِیں کی ہو، سینہ فگار اپنا ہے ہو کوئی فصل مگر زخم کِھل ہی جاتے ہیں سدا بہار دلِ داغدار اپنا ہے بَلا سے ہم نہ پیئیں، میکدہ تو گرم ہُوا بقدرِ تشنگی رنجِ خُمار اپنا ہے جو شاد پھرتے تھے کل، آج چُھپ کے روتے ہیں ہزار شُکر غمِ پائیدار اپنا ہے اِسی لیے یہاں کُچھ لوگ ہم سے جلتے ہیں کہ جی جلانے میں کیوں اِختیار اپنا ہے نہ تنگ کر دلِ مخزوں کو اے غمِ دنیا ! خُدائی بھر میں یہی غم گسار اپنا ہے کہیں مِلا تو کِسی دن منا ہی لیں گے اُسے وہ ذُود رنج سہی ، پھر بھی یار اپنا ہے وہ کوئی اپنے سِوا ہو تو اُس کا شِکوہ کرُوں جُدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے نہ ڈھونڈھ ناصرِ آشفتہ حال کو گھر میں وہ بُوئے گُل کی طرح بے قرار اپ…
Last reply by jannat malik, -
- 0 replies
- 6.6k views
اے دردِ ہجر یار غزل کہہ رہا ہوں میں بے موسمِ بہار غزل کہہ رہا ہوں مہیں میرے بیانِ غم کا تسلسل نہ ٹوٹ جائے گیسئوں ذرا سنوار غزل کہہ رہا ہوں میں راز و نیازِ عشق میں کیا دخل ہے تیرا ہٹ فکرِ روزگار غزل کہہ رہا ہوں میں ساقی بیانِ شوق میں رنگینیاں بھی ہو لا جامِ خوشگوار غزل کہہ رہا ہوں میں تجھ سا سخن شناس کو ئی دوسرا نہیں سن لے خیالِ یار غزل کہہ رہا ہوں میں ناصر کاظمی
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 1.6k views
گئے دِنوں کا سراغ لے کر ، کِدھر سے آیا کِدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وہ بس ایک موتی سی چھب دِکھا کر بس ایک میٹھی سی دُھن سُنا کر ستارہء شام بن کے آیا ، برنگِ خُوابِ سحر گیا وہ خوشی کی رُت ہو کہ غم کا موسم نظر اُسے ڈُھونڈتی ہے ہر دٙم وُہ بُوئے گل تھا کہ نغمہء جاں ، مرے تو دل میں اُتر گیا وہ نہ اب وُہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اُداس برکھا یُونہی ذرا سی کسک ہے دِل میں ، جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دٙورِ آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے ، جو دِن کڑا تھا گزر گیا وہ بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار راستے ہیں اہلِ دل کے یہی تو ہے فرق مجھ میں ، اس میں گزر گ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.5k views
اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے دھڑکنیں بچھا دیں گے، شوخ ترے قدموں میں ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اتاریں گے . تو کہ آج قاتل ہے، پھر بھی راحتِ دل ہے زہر کی ندی ہے تو، پھر بھی قیمتی ہے تو پَست حوصلے والے، تیرا ساتھ کیا دیں گے زندگی اِدھر آجا! ہم تجھے گزاریں گے . آہنی کلیجے کو، زخم کی ضرورت ہے انگلیوں سے جو ٹپکے، اُس لہو کی حاجت ہے آپ زلفِ جاناں کے خم سنواریے صاحب زندگی کی زلفوں کو آپ کیا سنواریں گے . ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں بے قرار لمحے ہیں، بے تھکان صدیاں ہیں کوئی ساتھ میں اپنے، آئے یا نہیں آئے جو ملے گا رستے میں، ہم اسے پکاریں گے ناصر کاظمی
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.9k views
یہ رنگِ خوُ ں ہے گلوں پر نکھار اگر ہے حنائے پائے خزاں ہےٙ بہار اگر ہےٙ بھی یہ پیش خیمئہِ بیدادِ تازہ ہو نہ کہیں بدل رہی ہے ہوا ساز گار اگر ہے بھی لہوُ کی شمعیں جلاوٴ قدم بڑھائے چلو سروں پہ سایئہ شب ہائے تارا اگر ہے بھی ابھی تو گرم ہے میخانہ جام کھنکاءو بلا سے سر پہ کسی کا ادھار اگر ہے بہی حیاتِ درد کو آلوُ دہ نشاط نہ کر یہ کاروبار کوئی کاروبار اگر ہے بھی یہ امتیاز ِ من و توُ خدا کے بندوں سے وہُ آدمی نہیں طاعت گزار اگر ہے بھی نہ پوُ چھ کیسے گزُ رتی ہے ذِ ندگی ناصرِ بس ایک جبر ہے یہ اختیار اگر ہے بھی ناصر_کاظمی کلام؛ کلیاتِ ناصر ۔۔۔12-3-1969 ریڑیو لاہور
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 3k views
ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﺭﺍﺳﺘﮯﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﯾﻮﮞ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻣﻨﺰﻝ ﺑﺪﻟﻨﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻤﻨﺪﺭِ ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻭﺳﻌﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻓﻘﻂ ﺳﺎﺣﻞ ﭘﮧ ﻗﯿﺎﺱ ﺁﺭﺋﯿﺎﮞ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﭽﮫ ﭘﺎﺱ ﻣﺘﺎﻉِ ﺧﻮﺩﯼ ﺗﻮ ﮨﻮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮﻧﺎ ﺁﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺩﺭﮐﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺐ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﮦ ﻓﻠﮏ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻢ ﺧﺎﮎ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻓﻨﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺫﺍﺕ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ
Last reply by Waqas Dar, -
- 6 replies
- 1.8k views
درد کـــم ہونے لگا آؤ کہ کــــــــچھ رات کٹے غم کی معیاد بڑھا جاؤ کہ کــــــچھ رات کٹے ہجــــــــر میں آہ و بکا رســـمِ کہـــــــن ہے لیکن آج یہ رســـــم ہی دہـراؤ کہ کـــــــچھ رات کٹے یوں توتم روشنئ قلب و نظـــــــر ہو لیــــــکن آج وہ معجزہ دکـــــھلاؤ کہ کــــــچھ رات کٹے دل دکھاتا ہے وہ مل کر بھی مگــر آج کی رات اُسی بے درد کـــــو لے آؤ کہ کـــــــچھ رات کٹے دم گــــھٹا جاتا ہے ہے افســــــردہ دلی سے یارو کوئی افـــــٖواہ ہی پھیلاؤ کہ کــــــچھ رات کٹے میں بھی بیکار ہوں اور تم بھی ہو ویــران بہت دوستو آج نہ گـــــھر جــاؤ کہ کـــــچھ رات کٹے چھوڑ آئے ہو سرشــــــام اُسے کـــیوں ناصــــــــر اُسے پھــر گـــھر سے بلا لاؤ کہ …
Last reply by Waqas Dar, -
- 7 replies
- 2.1k views
کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلے دل کا یہ حال کہاں تھا پہلے اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوں نشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفر ہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھ وقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے یہ الگ بات کہ غم راس ہے اب اس میں اندیشۂ جاں تھا پہلے یوں نہ گھبراۓ ہوۓ پھرتے تھے دل عجب کنجِ اماں تھا پہلے اب بھی تو پاس نہیں ہے لیکن اس قدر دور کہاں تھا پہلے ڈیرے ڈالے ہیں بگولوں نے جہاں اُس طرف چشمہ رواں تھا پہلے اب وہ دریا، نہ وہ بستی، نہ وہ لوگ کیا خبر کون کہاں تھا پہلے ہر خرابہ یہ صدا دیتا ہے میں بھی آباد مکاں تھا پہلے اُڑ گۓ شاخ سے یہ کہہ کے طیور سرو ایک شوخ جواں تھا پہلے کی…
Last reply by Waqas Dar, -
- 7 replies
- 2.6k views
Naye Kapre Badal Kar Jaun Kahan Or Baal Banaun Kis K Liye Wo Shakhs To Shehar Hi Chor Gaya Ab Khak Uraun Kis K Liye Jis Dhoup Ki Dil Ko Thandak Thi Wo Dhoup Usi K Sath Gai In Jalti Bujhti Galiyun Mein Ab Khak Uraun Kis K Liye Wo Shehar Mein Tha To Us K Liye Auron Se Milna Parta Tha Ab Aise-Waise Logon K Main Naz Uthaun Kis K Liye Ab Shehar Mein Is Ka Badal Hi Nahikoi Waisa Jan-E-Ghazal Hi Nahi Aiwan-E-Ghazal Mein Lafzon K Guldan Sajaun Kis K Liye Muddat Se Koi Aya Na Gaya Sunsan Pari Hai Ghar Ki Fiza In Khali Kamron Mein 'Nasir' Ab Shamma Jalaun Kis K Liye
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 1.6k views
مِٹی مِٹی سی اُمیدیں، تھکے تھکے سے خیال بجھے بجھے سے نگِاہوں میں غم کے افسانے اُمیدِ پُرسِشِ غم کِس سے کیجے، ناؔصر جو اپنے دِل پہ گُزرتی ہے کوئی کیا جانے ناؔصر کاظمی
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 5.5k views
ﮐﭽﮫ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭِ ﺷﮩﺮِ ﺳﺘﻤﮕﺮ ﮨﯽ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﺘﮭﺮ ﮨﯽ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﭩﮯ ﮔﺎ ﮐﮍﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺧﯿﺎﻝِ ﯾﺎﺭ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﮨﯽ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ ﺭﻧﺞِ ﺳﻔﺮ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺗﻮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺧﺎﮎِ ﮐﻮﭼۂ ﺩﻟﺒﺮ ﮨﯽ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﮧ ﭼﮭﯿﮍﺗﯽ ﮨﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻝ ﮔﺮﻓﺘﮕﯽ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﺗﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﯽ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ ﺍﺱ ﺷﮩﺮِ ﺑﮯ ﭼﺮﺍﻍ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗُﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﺁ , ﺍﮮ ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ! ﺗﺠﮭﮯ ﮔﮭﺮ ﮨﯽ ﻟﮯ ﭼﻠﯿﮟ ﻧﺎﺻﺮؔ ﮐﺎﻇﻤﯽ
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
