waqas dar⚙ Posted December 29, 2016 Posted December 29, 2016 دکھ کی لہر نے چھیڑا ھوگا یاد نے کنکر پھینکا ھوگا آج تو میرا دل کہتا ھے تو اس وقت اکیلا ھوگا میرے چومے ہوئے ہاتھوں سے اوروں کو خط لکھتا ھوگا بھیگ چلیں اب رات کی پلکیں تو اب تھک کے سویا ھوگا ریل کی گہری سیٹی سن کر رات کا جنگل گونجا ھوگا شہر کے خالی اسٹیشن پر کوئی مسافر اترا ھوگا آنگن میں پھر چڑیاں بولیں تو اب سو کر اٹھا ھوگا یادوں کی جلتی شبنم سے پھول سا مکھڑا دھویا ھوگا موتی جیسی شکل بنا کر آئینے کو تکتا ھوگا شام ہوئی اب تو بھی شاید اپنے گھر کو لوٹا ھوگا نیلی دھندلی خاموشی میں تاروں کی دھن سنتا ھوگا میرا ساتھی شام کا تارا تجھ سے آنکھ ملاتا ھوگا شام کے چلتے ہاتھ نے تجھ کو میرا سلام تو بھیجا ھوگا پیاسی کرلاتی کونجوں نے میرا دکھ تو سنایا ھوگا میں تو آج بہت رویا ھوں تو بھی شاید رویا ھوگا ناصر تیرا میت پرانا تجھ کو یاد تو آتا ھوگا۔۔ 2
waqas dar⚙ Posted December 29, 2016 Author Posted December 29, 2016 سودا ہے کوئی سر میں نہ سودائی کا ڈر ہے اس بار مجھے خُود سے شناسائی کا ڈر ہے لے آیا مرا عشق مجھے ایسی گلی میں آوازہ لگاتا ہوں تو رُسوائی کا ڈر ہے دُشمن سے لڑائی کوئی آسان نہیں ہے وہ ساتھ نہ آئے جسے پسپائی کا ڈر ہے رنگوں کے طلسمات نے یوں گھیر لیا ہے منظر سے نکلتا ہوں تو بینائی کا ڈر ہے میں گھر میں سہولت سے پڑا ٹھیک ہوں گوہر جنگل کی طرح شہر میں تنہائی کا ڈر ہے 2
jannat malik👑 Posted December 29, 2016 Posted December 29, 2016 1 minute ago, waqas dar said: سودا ہے کوئی سر میں نہ سودائی کا ڈر ہے اس بار مجھے خُود سے شناسائی کا ڈر ہے لے آیا مرا عشق مجھے ایسی گلی میں آوازہ لگاتا ہوں تو رُسوائی کا ڈر ہے دُشمن سے لڑائی کوئی آسان نہیں ہے وہ ساتھ نہ آئے جسے پسپائی کا ڈر ہے رنگوں کے طلسمات نے یوں گھیر لیا ہے منظر سے نکلتا ہوں تو بینائی کا ڈر ہے میں گھر میں سہولت سے پڑا ٹھیک ہوں گوہر جنگل کی طرح شہر میں تنہائی کا ڈر ہے 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now