Urooj Butt 861 Posted November 29, 2016 Posted November 29, 2016 نگاہ- شوق سے کب تک مقابلہ کرتے وہ التفات نہ کرتے تو اور کیا کرتے یہ رسم- ترک- محبت بھی ہم ادا کرتے تیرے بغیر مگر زندگی کو کیا کرتے غرور- حسن کو مانوس- التجا کرتے وہ ہم ہیں کہ جو خود داریاں فنا کرتے کسی کی یاد نے تڑپا دیا پھر آ کے ہمیں ہوئی تھی دیر نہ کچھ دل سے مشورا کرتے یہ پوچھو حسن کو الزام دینے والوں سے جو وہ ستم بھی نہ کرتا تو آپ کیا کرتے ستم شعار ازل سے ہے حسن کی فطرت جو میں وفا بھی نہ کرتا تو وہ جفا کرتے ہمیں تو اپنی تباہی کی داد بھی نہ ملی تری نوازش- بیجا کا کیا گلا کرت نگاہ- ناز کی معصومیت ارے توبہ جو ہم فریب نہ کھاتے تو اور کیا کرتے نگاہ- لطف کی تسکیں کا شکریہ، لیکن متاع- درد کو کس دل سے ہم جدا کرتے (عرشی بھوپالی) 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.