Jump to content

Rate this topic

Recommended Posts

میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست
 سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست

 مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار
 میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست

 ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو
 اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست

 دوچار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات
 دوچار دن کے پیار کا قائل نہیں ہُوں دوست

 جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبُرو
 اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہُوں دوست

 لایا ہُوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد
 محبوب ہُوں شمار کا قائل نہیں ہُوں دوست

 ساغر بقدرِ ظرف لُٹاتا ہُوں نقدِ ہوش
 ساقی سے میں ادُھار کا قائل نہیں ہوں دوست
(ساغر صدیقی)

FB_20161122_14_36_47_Saved_Picture.jpg

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

چاکِ دامن کو جو دیکھا تو مِلا عید کا چاند
اپنی تقدیر کہاں بُھول گیا عید کا چاند
اُن کے اَبروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے
اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چُھپا عید کا چاند
جانے کیوں آپ کے رُخسار مہک اُٹھتے ہیں
جب کبھی کان میں چپکے سے کہا عید کا چاند
دُور ویران بسیرے میں دِیا ہو جیسے
غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عِید کا چاند
لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے
آج بھی خُلد کی رنگین فضا عید کا چاند
تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں
گھول کر دَرد کے ماروں نے پیا عید کا چاند
چشم تو وُسعتِ افلاک میں کھوئی ساغرؔ
دِل نے اِک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند
(ساغر صدیقی)

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,948
    Total Topics
    8,133
    Total Posts
×