Zarnish Ali Posted November 29, 2016 Report Posted November 29, 2016 میں التفاتِ یار کا قائل نہیں ہوں دوست سونے کے نرم تار کا قائل نہیں ہوں دوست مُجھ کو خزاں کی ایک لُٹی رات سے ہے پیار میں رونقِ بہار کا قائل نہیں ہُوں دوست ہر شامِ وصل ہو نئی تمہیدِ آرزو اتنا بھی انتظار کا قائل نہیں ہوں دوست دوچار دن کی بات ہے یہ زندگی کی بات دوچار دن کے پیار کا قائل نہیں ہُوں دوست جس کی جھلک سے ماند ہو اشکوں کی آبُرو اس موتیوں کے ہار کا قائل نہیں ہُوں دوست لایا ہُوں بے حساب گناہوں کی ایک فرد محبوب ہُوں شمار کا قائل نہیں ہُوں دوست ساغر بقدرِ ظرف لُٹاتا ہُوں نقدِ ہوش ساقی سے میں ادُھار کا قائل نہیں ہوں دوست (ساغر صدیقی) 2
Zarnish Ali Posted February 20, 2017 Author Report Posted February 20, 2017 چاکِ دامن کو جو دیکھا تو مِلا عید کا چاند اپنی تقدیر کہاں بُھول گیا عید کا چاند اُن کے اَبروئے خمیدہ کی طرح تیکھا ہے اپنی آنکھوں میں بڑی دیر چُھپا عید کا چاند جانے کیوں آپ کے رُخسار مہک اُٹھتے ہیں جب کبھی کان میں چپکے سے کہا عید کا چاند دُور ویران بسیرے میں دِیا ہو جیسے غم کی دیوار سے دیکھا تو لگا عِید کا چاند لے کے حالات کے صحراؤں میں آ جاتا ہے آج بھی خُلد کی رنگین فضا عید کا چاند تلخیاں بڑھ گئیں جب زیست کے پیمانے میں گھول کر دَرد کے ماروں نے پیا عید کا چاند چشم تو وُسعتِ افلاک میں کھوئی ساغرؔ دِل نے اِک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند (ساغر صدیقی)
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now