Jump to content

Recommended Posts

Posted

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا

 

 

اب وہ گھر اک ویرانہ تھا بس ویرانہ زندہ تھا
سب آنکھیں دم توڑ چکی تھیں اور میں تنہا زندہ تھا

ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میں
ہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا

وہ جو کبوتر اس موکھے میں رہتے تھے کس دیس اڑے
ایک کا نام نوازندہ تھا اور اک کا بازندہ تھا

وہ دوپہر اپنی رخصت کی ایسا ویسا دھوکا تھی
اپنے اندر اپنی لاش اٹھائے میں جھوٹا زندہ تھا

تھیں وہ گھر راتیں بھی کہانی وعدے اور پھر دن گننا
آنا تھا جانے والے کو جانے والا زندہ تھا

دستک دینے والے بھی تھے دستک سننے والے بھی
تھا آباد محلہ سارا ہر دروازہ زندہ تھا

پیلے پتوں کو سہ پہر کی وحشت پرسا دیتی تھی
آنگن میں اک اوندھے گھڑے پر بس اک کوا زندہ تھا

 

1.jpg

Posted


ہم نہ کرنے کے کام کرتے ہیں
اور عجب طرح کر گزرتے ہیں
مارڈالیں اسے یہ ہے مقصود
سو میاں جی ہم اس پہ مرتے ہیں
میں‌ہوں اس شہر میں مقیم جہاں
اپنے ہونے سے لوگ ڈرتے ہیں
رنگ ہی کیا ترے سنورنے کا
ہم لہو تھوک کر سنورتے ہیں
اپنے گنگ و جمن میں زہر تھا کیا؟
ہم سمندر کا دم جو بھرتے ہیں
ناؤ سمجھیں بھنور کو جونؔ جو لوگ
بس وہی ڈوب کر ابھرتے ہیں
....................

 

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.