waqas dar⚙ Posted January 8, 2017 Posted January 8, 2017 سر ہی اب پھوڑیے ندامت میں نیند آنے لگی ہے فرقت میں ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر سوچتا ہوں تیری حمایت میں روح نے عشق کا فریب دیا جسم کو جسم کی عداوت میں اب فقط عادتوں کی ورزش ہے روح شامل نہیں شکایت میں عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میں چیختا ہوں بدن کی عسرت میں یہ کچھ آسان تو نہیں ہے کہ ہم روٹھتے اب بھی ہیں مروت میں وہ جو تعمیر ہونے والی تھی لگ گئی آگ اس عمارت میں اپنے حجرہ کا کیا بیاں کہ یہاں خون تھوکا گیا شرارت میں وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں اس سے کیا گفتگو ہو خلوت میں زندگی کس طرح بسر ہو گی دل نہیں لگ رہا محبت میں
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now