ADMIN👑 Posted August 26, 2015 Posted August 26, 2015 اس شہر میں ـــ ایسی بھی قیامت نہ ہوئی تھیتنہا تھے ـــ مـــگر خود سے تو وحشت نہ ہوئی تھییہ دن ہیں ـ ـ ـ کہ یاروں کا بھروسا بھی نہیں ہےوہ دن تھے ـــ کہ دشـــمن سے بھی نفرت نہ ہوئی تھیاب سانس کا احساس بھی ـ ـ ـ اک بار گراں ہےخود اپنے خلاف ـــ ایسی بغاوت نہ ہوئی تھیاجڑے ہوئے اس دل کے ـ ـ ـ ہر اک زخم سے پوچھو!اس شہر میں ـــ کس کس سے مـــحبت نہ ہوئی تھیاب تیرے قریب آ کے بھی ـ ـ ـ کچھ سوچ رہا ہوںپہلے تجھے کھو کر بھی ـــ ندامت نہ ہوئی تھیہر شام ابھرتا تھا ـ ـ ـ اسی طور سی مہتابلیکن ــــــ دل وحشی کی یہ حالت نہ ہوئی تھیخوابوں کی ہوا راس تھی ـ ـ ـ جب تک مجھے "محسن"یوں جاگتے رہنا ـــ میری عادت نہ ہوئی تھی .. 3
waqas dar⚙ Posted March 28, 2016 Posted March 28, 2016 لمحوں میں قید کر دے جو صدیوں کی چاہتیں حسرت ہی رہی کہ ایسا کوئی اپنا بھی طلبگار ہو
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now