Sahrish Dar⚙ Posted February 22, 2017 Posted February 22, 2017 چلو اس اک لفظ محبت کو چلو اس اک لفظ محبت کو اک دلکش انداز میں لوح دل پر نقش کرتے ہیں اس رستے پر ہم بھی آنکھیں بند کر کے اندھا دھند چلتے ہیں وہ جو اس رستے پر صرف پھول ہی پھول کھلتے ہیں وہ جہاں پر خزاں ڈھیرہ نہیں سجاتی جہاں پر پریاں رقص کرتی ہیں ہم ایسے رستے پر اپنے قدموں کے نشاں ثبت کرتے ہیں مگر جاناں کیا تم مجھے یقین دلاتے ہو کہ اس رستے پر سدا پھول ہی کھلتے رہیں گے خزاں ڈھیرے نہیں ڈالے گی اگر ہاں تو یہ یقین تمہاری آنکھوں میں کیوں نہیں دکھتا کہ راہ محبت پر چلنے والوں کی آنکھیں تو پیغامِ وفا سرِ عام دیتی ہیں تو پھر جاناں تمہاری آنکھیں مجھے احترامِ محبت سے خالی کیوں دکھتی ہیں 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now