👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Recommended Posts

Posted

نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ وہ بار بار انگلی کی نوک سے آنسو صاف کرتا تھا اور شرمندگی سے دائیں بائیں دیکھتا تھا‘ میں اسے پچھلے پندرہ منٹ سے دیکھ رہا تھا ‘ اس کی زندگی طوفانوں میں گھری تھی‘ وہ تین سال کا تھا تو اس کی والدہ انتقال کرگئی ‘ والد نے دوسری شادی کرلی‘ سوتیلی ماں سوتیلی زیادہ تھی اور ماں کم لہٰذا جوانی تک گھر اس کےلئے گھر نہیں تھا‘ اس کا سارا بچپن ‘ سارا لڑکپن اور جوانی کا ایک لمبا حصہ محرومیوں میں گزرا‘ وہ معمولی معمولی خواہشوں کےلئے ترستا رہا‘ سکول میں اسے اچھے استاد اور ہمدرد دوست نہ ملے‘ اس نے ایف ایس سی کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگیا‘ ایف اے میں اس کے نمبر اچھے نہ آئے‘ اس نے سپورٹس مین بننے کی کوشش کی لیکن نہ بن سکا‘ اس نے اداکاری‘ صدا کاری اور مصوری کی کوشش کی لیکن فیل ہوگیا‘
اس نے موسیقی سیکھنے کی کوشش کی لیکن اس میں بھی آگے نہ بڑھ سکا‘ بی اے میں وہ معمولی نمبروں سے پاس ہوا‘ اس نے ایم اے کیا تو اس میں بھی اس کی کوئی پوزیشن نہ تھی‘ وہ نوکریاں تلاش کرتا رہا‘ ہر جگہ درخواست دی‘ ہر ٹیسٹ میں بیٹھا‘ ہر جگہ انٹرویو دیا لیکن ناکام رہا‘ اس نے اپنا کاروبار شروع کیا وہ بھی نہ چل سکا‘ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کسی ناکام شخص کے حوالے کرنے کےلئے تیار نہیں تھے لہٰذا245 ممالک پر پھیلی اس دنیا میں اس کا کوئی دوست نہ تھا‘ وہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن آدھی سے زیادہ کتاب نہیں پڑھ سکتا‘ وہ آدھی فلم دیکھ کر اٹھ جاتا تھا اور کوئی گانا پورا نہیں سن سکتا تھا‘ وہ تبلیغی جماعت میں شامل ہوا لیکن راستے سے بھاگ آیا‘ وہ کبھی سگریٹ پینا شروع کردیتا تھا اور کبھی سگریٹ نوشی ترک کردیتا تھا‘ وہ کبھی مولوی بن جاتا تھا اور کبھی ڈانسروں کے ساتھ شامل ہوجاتا تھا اور وہ کبھی کسی درگاہ پر بیٹھ جاتا تھا اور کبھی رندوں اور جواریوں کی محفل کا حصہ بن جاتا تھا‘ اسے سمجھ نہیں آتی تھی وہ کیا ہے‘ وہ کیوں ہے اور اس نے زندگی میں کیا کرنا ہے ؟ اس کا کہنا تھا‘ وہ دنیا کا ناکام ترین شخص ہے!
میں بڑے غور سے اس کی کہانی سنتا رہا‘ وہ بول بول کر تھک گیا تو میں نے اسے پانی کا گلاش پیش کیا اور اس سے پوچھا ” تم جانتے ہو دنیا میں کتنے موسم ہیں“ وہ ذرا سوچ کر بولا ” سردی‘ گرمی‘ بہار اور خزاں چار موسم ہیں“ میں نے پوچھا ” سردیوں میں کیا ہوتا ہے!“ اس نے خفگی سے میری طرف دیکھا اور ناراض لہجے میں بولا ” سردیوں میں سردی ہوتی ہے!“ میں نے مسکرا کر گردن ہلائی اور اس سے سوال کیا ” ہم سردیوں میں سردی سے بچنے کےلئے کیا کرتے ہیں“ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا‘ میں نے عرض کیا” ہم کوئلوں کی انگیٹھی جلا لیتے ہیں‘ ہم ہیٹر کا بندوبست کرتے ہیں ‘ ہم گرم کپڑے پہنتے ہیں‘ سویٹر ‘جرسیاں‘ کوٹ اور جیکٹس پہنتے ہیں‘ گردن کے گرد مفلر لپیٹ لیتے ہیں اور سر پر اونی ٹوپی پہن لیتے ہیں‘ ہم پاﺅں میں گرم جرابیں اور بند جوتے پہنتے ہیں اور کم سے کم باہر نکلتے ہیں‘ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟“ میں اس کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ ذرا دیر رک کر بولا ” ہم سردی سے بچنے کےلئے کرتے ہیں“ میں نے انکار میں سر ہلایا اور آہستہ سے جواب دیا ” نہیں ہم جانتے ہیں سردیاں چند دنوں کی بات ہے اگر ہم نے یہ دو تین ماہ گزار لئے تو موسم کھل جائے گا اور ہم گرم کپڑوں کے بغیر باہرنکل سکیں گے“ وہ خاموش رہا‘ میں نے عرض کیا ” گرمیوں میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے ہم ٹھنڈے کپڑے پہنتے ہیں‘ کمروں میں پنکھے‘ روم کولر اور ایئر کنڈیشنر لگا لیتے ہیں‘ درختوں کے نیچے بیٹھتے ہیں اور سایوں میں چلتے ہیں‘ ہم دن میں دو دو تین تین بار غسل کرتے ہیں‘ شربت پیتے ہیں اور گرم دوپہروں میں باہر نہیں نکلتے‘ کیوں؟“ میں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں‘ وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتا رہا‘ میں نے دوبارہ عرض کیا ” موسم خزاں میں پودوں کے پتے گرجاتے ہیں‘ ساری گھاس جل جاتی ہے اور درخت ٹنڈ ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد بہار آتی ہے‘ گھاس کی کونپلیں نکلتی ہیں‘ شاخیں ہری ہوتی ہیں‘ ان پر پتے نکلتے ہیں اور پتوں کے ساتھ پھول کھلتے ہیں“ میں خاموش ہوگیا‘ اس نے کروٹ بدلی اور گرم آواز میں بولا ” لیکن سر ان موسموں کا میری کہانی کے ساتھ کیا تعلق ‘ جناب عالیٰ آپ بالکل لایعنی اور فضول بات کررہے ہیں‘ میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں اور آپ کچھ جواب دے رہے ہیں‘ مجھے آپ کی بالکل سمجھ نہیں آرہی“
میں نے قہقہہ لگایا اور نوجوان سے عرض کیا” میں دوباتیں ثابت کرنا چاہتا ہوں ہم لوگ موسم کی سختیاں اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ
سردیاں‘ یہ گرمیاں اور یہ خزاں چند دنوں کی بات ہے اور اس کے بعد وقت بدل جائے گا‘ اگر ہم اس حقیقت سے واقف نہ ہوں تو تم یقین کرو ہم لوگ سردیوں میں جم جائیں یا پھر گرمیوں میں پگھل جائیں‘ تمہار پہلا مسئلہ یہ ہے تم وقت کی حقیقت سے واقف نہیں ہو‘ تم یہ نہیں جانتے تبدیل ہونا وقت کی فطرت ہے‘ جب تک زندگی اور کائنات قائم ہے وقت تبدیل ہوتا رہے گا‘ سردیاں گرمیوں میں ضرور تبدیل ہوں گی اور گرمیاں سردیوں میں ضرور ڈھلیں گی‘ شام کی صبح ضرور ہوگی اور صبح شام کے پردوں میں ضرور گم ہو گی‘ ناکامی کامیابی میں ضرور بدلے گی‘ کمال ضرور زوال پذیر ہوگا اور طاقت کمزور‘ کمزور طاقت اور اختیار بے اختیاری میں ضرور تبدیل ہوگا‘ خوشبو بدبو اور بدبو خوشبو میں ضرور تبدیل ہو گی اور دوسرا تم یہ نہیں جانتے دنیا کی کوئی طاقت موسموں کو نہیں بدل سکتی‘ دنیا کے سارے حکمران‘ سارے اختیارات اور ساری قوتیں مل کر سردیوں کو نہیں رو ک سکتیں‘ دنیا کا کوئی شخص گرمیوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اور دنیا کی کوئی طاقت خزاں اور بہار کو نہیں روک سکتی‘ دنیا کا کوئی شخص ناکامی‘ مشکل‘ سختی اور بیماری سے نہیں بچ سکتا اور دنیا کا کوئی شخص سدا کامیاب ‘ ہمیشہ خوشحال‘ تامرگ صحت مند اور پوری زندگی سکھی نہیں رہ سکتا‘ وقت اور کیفیت کبھی یکساں نہیں رہتی“ وہ خاموشی سے سنتا رہا‘ میں نے عرض کیا ” ہم لوگ موسموں‘ وقت اور کیفیتوں کو تبدیل نہیں کر سکتے‘ ہم ان کے ساتھ صرف ایڈجسٹ کر سکتے ہیں‘ آندھی آئے تو ہمیں نیچے بیٹھ جانا چاہیے‘سردیاں ہوں تو آگ جلا کر سردی گزرنے کا انتظار کریں‘ گرمیاں آئیں تو ٹھنڈی جگہ بیٹھ جائیں اور ہلکے پھلکے کپڑے پہن لیں‘ خزاں آئے تو ٹنڈ منڈ درختوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں اور بہار آئے تو چند دن کی بہار سے لطف اٹھا ئیں‘ ہمارے پاس
وقت اور موسموں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ اسی طرح ہم نے برے وقتوں ‘ ناکامیوں‘ خرابیوں ‘ بیماریوں اور پریشانیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے‘ اگر ہماری ماں تین سال میں ہمیں چھوڑ گئی تو ہم اسے واپس نہیں لا سکتے چنانچہ ہم نے ماں کی کمی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہمیں اچھے سکول‘ اچھے استاد اور اچھے کلاس فیلو نہیں ملے‘ ہم کسی کلاس میں اچھے نمبر نہیں لے سکے‘ ہمیں نوکری نہیں ملی‘ ہم بزنس میں ناکام ہوگئے اور ہماری شادی مرضی کے مطابق نہیں ہوئی تو ہم نے ان کمیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی خواہشوں پر کمبل دے دینا ہے اور کبھی اپنی حسرتوں کو سائے میں لٹا دینا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی آرزوﺅں کو دو دو بار غسل دینا اور کبھی انہیں ہیٹر کے سامنے بٹھا دینا ہے‘ ہم نے کبھی آندھیوں میں زمین پر لیٹ کر وقت بدلنے کا انتظار کرنا ہے اور کبھی درختوں پر چڑھ کر صبح کی راہ تکنی ہے‘ ہم نے زندگی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں رکا اور ذرا دیر بعد بولا”ہم میں سے جو لوگ موسموں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرتے وہ جم جاتے ہےں یا پگھل جاتے ہےں“ میں خاموش ہو گیا‘ وہ سوچتا رہا اور سوچتے سوچتے بولا ” لیکن سر میں نے کب تک ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور ہنس کر جواب دیا ” جب تک تمہارے مقدر کی آندھی نہیں تھم جاتی‘ یاد رکھو دنیا کی کوئی سختی ساڑھے سات برس سے لمبی نہیں ہوتی اور دنیا کا کوئی شخص جس کیفیت میں پیدا ہوتا ہے اس کیفیت میں فوت نہیں ہوتا اور دنیا کا کوئی ناکام شخص پوری زندگی ناکام نہیں رہتا کیونکہ تبدیلی وقت کا مقدر بھی ہے اور فطرت بھی“۔

Posted
1 hour ago, Jannat malik said:

نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ وہ بار بار انگلی کی نوک سے آنسو صاف کرتا تھا اور شرمندگی سے دائیں بائیں دیکھتا تھا‘ میں اسے پچھلے پندرہ منٹ سے دیکھ رہا تھا ‘ اس کی زندگی طوفانوں میں گھری تھی‘ وہ تین سال کا تھا تو اس کی والدہ انتقال کرگئی ‘ والد نے دوسری شادی کرلی‘ سوتیلی ماں سوتیلی زیادہ تھی اور ماں کم لہٰذا جوانی تک گھر اس کےلئے گھر نہیں تھا‘ اس کا سارا بچپن ‘ سارا لڑکپن اور جوانی کا ایک لمبا حصہ محرومیوں میں گزرا‘ وہ معمولی معمولی خواہشوں کےلئے ترستا رہا‘ سکول میں اسے اچھے استاد اور ہمدرد دوست نہ ملے‘ اس نے ایف ایس سی کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگیا‘ ایف اے میں اس کے نمبر اچھے نہ آئے‘ اس نے سپورٹس مین بننے کی کوشش کی لیکن نہ بن سکا‘ اس نے اداکاری‘ صدا کاری اور مصوری کی کوشش کی لیکن فیل ہوگیا‘
اس نے موسیقی سیکھنے کی کوشش کی لیکن اس میں بھی آگے نہ بڑھ سکا‘ بی اے میں وہ معمولی نمبروں سے پاس ہوا‘ اس نے ایم اے کیا تو اس میں بھی اس کی کوئی پوزیشن نہ تھی‘ وہ نوکریاں تلاش کرتا رہا‘ ہر جگہ درخواست دی‘ ہر ٹیسٹ میں بیٹھا‘ ہر جگہ انٹرویو دیا لیکن ناکام رہا‘ اس نے اپنا کاروبار شروع کیا وہ بھی نہ چل سکا‘ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کسی ناکام شخص کے حوالے کرنے کےلئے تیار نہیں تھے لہٰذا245 ممالک پر پھیلی اس دنیا میں اس کا کوئی دوست نہ تھا‘ وہ کتابیں پڑھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن آدھی سے زیادہ کتاب نہیں پڑھ سکتا‘ وہ آدھی فلم دیکھ کر اٹھ جاتا تھا اور کوئی گانا پورا نہیں سن سکتا تھا‘ وہ تبلیغی جماعت میں شامل ہوا لیکن راستے سے بھاگ آیا‘ وہ کبھی سگریٹ پینا شروع کردیتا تھا اور کبھی سگریٹ نوشی ترک کردیتا تھا‘ وہ کبھی مولوی بن جاتا تھا اور کبھی ڈانسروں کے ساتھ شامل ہوجاتا تھا اور وہ کبھی کسی درگاہ پر بیٹھ جاتا تھا اور کبھی رندوں اور جواریوں کی محفل کا حصہ بن جاتا تھا‘ اسے سمجھ نہیں آتی تھی وہ کیا ہے‘ وہ کیوں ہے اور اس نے زندگی میں کیا کرنا ہے ؟ اس کا کہنا تھا‘ وہ دنیا کا ناکام ترین شخص ہے!
میں بڑے غور سے اس کی کہانی سنتا رہا‘ وہ بول بول کر تھک گیا تو میں نے اسے پانی کا گلاش پیش کیا اور اس سے پوچھا ” تم جانتے ہو دنیا میں کتنے موسم ہیں“ وہ ذرا سوچ کر بولا ” سردی‘ گرمی‘ بہار اور خزاں چار موسم ہیں“ میں نے پوچھا ” سردیوں میں کیا ہوتا ہے!“ اس نے خفگی سے میری طرف دیکھا اور ناراض لہجے میں بولا ” سردیوں میں سردی ہوتی ہے!“ میں نے مسکرا کر گردن ہلائی اور اس سے سوال کیا ” ہم سردیوں میں سردی سے بچنے کےلئے کیا کرتے ہیں“ وہ حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا‘ میں نے عرض کیا” ہم کوئلوں کی انگیٹھی جلا لیتے ہیں‘ ہم ہیٹر کا بندوبست کرتے ہیں ‘ ہم گرم کپڑے پہنتے ہیں‘ سویٹر ‘جرسیاں‘ کوٹ اور جیکٹس پہنتے ہیں‘ گردن کے گرد مفلر لپیٹ لیتے ہیں اور سر پر اونی ٹوپی پہن لیتے ہیں‘ ہم پاﺅں میں گرم جرابیں اور بند جوتے پہنتے ہیں اور کم سے کم باہر نکلتے ہیں‘ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں ؟“ میں اس کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ ذرا دیر رک کر بولا ” ہم سردی سے بچنے کےلئے کرتے ہیں“ میں نے انکار میں سر ہلایا اور آہستہ سے جواب دیا ” نہیں ہم جانتے ہیں سردیاں چند دنوں کی بات ہے اگر ہم نے یہ دو تین ماہ گزار لئے تو موسم کھل جائے گا اور ہم گرم کپڑوں کے بغیر باہرنکل سکیں گے“ وہ خاموش رہا‘ میں نے عرض کیا ” گرمیوں میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے ہم ٹھنڈے کپڑے پہنتے ہیں‘ کمروں میں پنکھے‘ روم کولر اور ایئر کنڈیشنر لگا لیتے ہیں‘ درختوں کے نیچے بیٹھتے ہیں اور سایوں میں چلتے ہیں‘ ہم دن میں دو دو تین تین بار غسل کرتے ہیں‘ شربت پیتے ہیں اور گرم دوپہروں میں باہر نہیں نکلتے‘ کیوں؟“ میں نے اس کے چہرے پر نظریں گاڑ دیں‘ وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتا رہا‘ میں نے دوبارہ عرض کیا ” موسم خزاں میں پودوں کے پتے گرجاتے ہیں‘ ساری گھاس جل جاتی ہے اور درخت ٹنڈ ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد بہار آتی ہے‘ گھاس کی کونپلیں نکلتی ہیں‘ شاخیں ہری ہوتی ہیں‘ ان پر پتے نکلتے ہیں اور پتوں کے ساتھ پھول کھلتے ہیں“ میں خاموش ہوگیا‘ اس نے کروٹ بدلی اور گرم آواز میں بولا ” لیکن سر ان موسموں کا میری کہانی کے ساتھ کیا تعلق ‘ جناب عالیٰ آپ بالکل لایعنی اور فضول بات کررہے ہیں‘ میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں اور آپ کچھ جواب دے رہے ہیں‘ مجھے آپ کی بالکل سمجھ نہیں آرہی“
میں نے قہقہہ لگایا اور نوجوان سے عرض کیا” میں دوباتیں ثابت کرنا چاہتا ہوں ہم لوگ موسم کی سختیاں اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ
سردیاں‘ یہ گرمیاں اور یہ خزاں چند دنوں کی بات ہے اور اس کے بعد وقت بدل جائے گا‘ اگر ہم اس حقیقت سے واقف نہ ہوں تو تم یقین کرو ہم لوگ سردیوں میں جم جائیں یا پھر گرمیوں میں پگھل جائیں‘ تمہار پہلا مسئلہ یہ ہے تم وقت کی حقیقت سے واقف نہیں ہو‘ تم یہ نہیں جانتے تبدیل ہونا وقت کی فطرت ہے‘ جب تک زندگی اور کائنات قائم ہے وقت تبدیل ہوتا رہے گا‘ سردیاں گرمیوں میں ضرور تبدیل ہوں گی اور گرمیاں سردیوں میں ضرور ڈھلیں گی‘ شام کی صبح ضرور ہوگی اور صبح شام کے پردوں میں ضرور گم ہو گی‘ ناکامی کامیابی میں ضرور بدلے گی‘ کمال ضرور زوال پذیر ہوگا اور طاقت کمزور‘ کمزور طاقت اور اختیار بے اختیاری میں ضرور تبدیل ہوگا‘ خوشبو بدبو اور بدبو خوشبو میں ضرور تبدیل ہو گی اور دوسرا تم یہ نہیں جانتے دنیا کی کوئی طاقت موسموں کو نہیں بدل سکتی‘ دنیا کے سارے حکمران‘ سارے اختیارات اور ساری قوتیں مل کر سردیوں کو نہیں رو ک سکتیں‘ دنیا کا کوئی شخص گرمیوں کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا اور دنیا کی کوئی طاقت خزاں اور بہار کو نہیں روک سکتی‘ دنیا کا کوئی شخص ناکامی‘ مشکل‘ سختی اور بیماری سے نہیں بچ سکتا اور دنیا کا کوئی شخص سدا کامیاب ‘ ہمیشہ خوشحال‘ تامرگ صحت مند اور پوری زندگی سکھی نہیں رہ سکتا‘ وقت اور کیفیت کبھی یکساں نہیں رہتی“ وہ خاموشی سے سنتا رہا‘ میں نے عرض کیا ” ہم لوگ موسموں‘ وقت اور کیفیتوں کو تبدیل نہیں کر سکتے‘ ہم ان کے ساتھ صرف ایڈجسٹ کر سکتے ہیں‘ آندھی آئے تو ہمیں نیچے بیٹھ جانا چاہیے‘سردیاں ہوں تو آگ جلا کر سردی گزرنے کا انتظار کریں‘ گرمیاں آئیں تو ٹھنڈی جگہ بیٹھ جائیں اور ہلکے پھلکے کپڑے پہن لیں‘ خزاں آئے تو ٹنڈ منڈ درختوں کے ساتھ سمجھوتہ کرلیں اور بہار آئے تو چند دن کی بہار سے لطف اٹھا ئیں‘ ہمارے پاس
وقت اور موسموں کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا‘ اسی طرح ہم نے برے وقتوں ‘ ناکامیوں‘ خرابیوں ‘ بیماریوں اور پریشانیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے‘ اگر ہماری ماں تین سال میں ہمیں چھوڑ گئی تو ہم اسے واپس نہیں لا سکتے چنانچہ ہم نے ماں کی کمی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہمیں اچھے سکول‘ اچھے استاد اور اچھے کلاس فیلو نہیں ملے‘ ہم کسی کلاس میں اچھے نمبر نہیں لے سکے‘ ہمیں نوکری نہیں ملی‘ ہم بزنس میں ناکام ہوگئے اور ہماری شادی مرضی کے مطابق نہیں ہوئی تو ہم نے ان کمیوں کے ساتھ بھی ایڈجسٹ کرنا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی خواہشوں پر کمبل دے دینا ہے اور کبھی اپنی حسرتوں کو سائے میں لٹا دینا ہے‘ ہم نے کبھی اپنی آرزوﺅں کو دو دو بار غسل دینا اور کبھی انہیں ہیٹر کے سامنے بٹھا دینا ہے‘ ہم نے کبھی آندھیوں میں زمین پر لیٹ کر وقت بدلنے کا انتظار کرنا ہے اور کبھی درختوں پر چڑھ کر صبح کی راہ تکنی ہے‘ ہم نے زندگی کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں رکا اور ذرا دیر بعد بولا”ہم میں سے جو لوگ موسموں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں کرتے وہ جم جاتے ہےں یا پگھل جاتے ہےں“ میں خاموش ہو گیا‘ وہ سوچتا رہا اور سوچتے سوچتے بولا ” لیکن سر میں نے کب تک ایڈجسٹ کرنا ہے“ میں نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور ہنس کر جواب دیا ” جب تک تمہارے مقدر کی آندھی نہیں تھم جاتی‘ یاد رکھو دنیا کی کوئی سختی ساڑھے سات برس سے لمبی نہیں ہوتی اور دنیا کا کوئی شخص جس کیفیت میں پیدا ہوتا ہے اس کیفیت میں فوت نہیں ہوتا اور دنیا کا کوئی ناکام شخص پوری زندگی ناکام نہیں رہتا کیونکہ تبدیلی وقت کا مقدر بھی ہے اور فطرت بھی“۔

Image result for troll image

mujhe sahi se samjh nahi lagi is ka kya matlib hy puray qisay ka

 

Posted

Pehli baat k topic ko like bh kia krein plzz @Muhammad Rehman SAbir

or 2sri baat abhi ap ki feeder  peene ki umar smjhna smjhana rehne dein abhi :D:D:D

Posted

Jannat malik   u tu jese dadi ammaa huna :D 

:crying-lady:

Posted

Hahaha geee nhhhh :/

Posted
4 minutes ago, Jannat malik said:

Hahaha geee nhhhh :/

tu @Muhammad Rehman SAbir  ko tu feeder de rahi thi tu tum daadi amaa hi hui phir :D wese lesson acha th ... perha mai sara abhi :)  acha th (y) 

Posted

Thanks :)

Posted
1 minute ago, Jannat malik said:

Thanks :)

U WELCOME ACHA GEE MILTA BAAD MAI :) TC BYE SHY 

Posted

Bye :)

Posted
14 hours ago, Jannat malik said:

Pehli baat k topic ko like bh kia krein plzz @Muhammad Rehman SAbir

or 2sri baat abhi ap ki feeder  peene ki umar smjhna smjhana rehne dein abhi :D:D:D

abi pehli baat like to un ko hi diya jata hy jo cheez samjh aye,,,

aur dosri baat feeder peene ki umer main kya insaan sawal nahi kr skta

 

Posted
16 hours ago, waqas dar said:

tu @Muhammad Rehman SAbir  ko tu feeder de rahi thi tu tum daadi amaa hi hui phir :D wese lesson acha th ... perha mai sara abhi :)  acha th (y) 

bhai kider acha tha mujhe samjh nahi aye,,

tabdeeli waqt ka tageir hy yeh keh rahi magar bus woh waqt tak hy na k insani halat tak

ik to mahool maousam ki tabdeeli hoti hy jo qudrati toor pe hoti hy

dosra insaan ki kamyabi aur kamrani ki ya ap you keh lein k hansay basay gulshan ko lamho main barbad ker dyna

ya kisi sehra main ronaq laga dyna

7saal kya ager insaan puri zindgi baitha rahy to woh kapray b tabdeel nahi kr skta

kuch tabdeeliyaan insaan k bus main hoti hein

is ne larkay ki nakami ko mahooliyaati tabdeeli se ja mliya in main to zameen asman ka farq hy

is larkay ki zehni kafiat ko maholiyati tabdeeli k sath jor k chup chap se baithne ka keh diya

7saal tak bhala us ka tazkra v na rahy

in ko chahiye tha,,

k mousam aur insaan main hone wali tabdeeli ko alehda se batya jaya

kiyo k mousam tabdeeli to wapis usi routain pe aa jati hy

qudrati nazam hy

magar insaan ki tabdeeli us ki soch us ki sohbat us k pukhta irady pe hoti hy jaha woh qaim ho jaye wohi rahein

aur jo us k liye munasib ho us ko talash kary aur us ko samjhy aysa kiyo tha to aysa kiyo nahi tha

ap ko ik is baat ki mazahib se wabsetgi pe masal dyta ho

ik banda jo kafir tha phir us ko woh acha na laga k kafir rahi

woh yahoodiyo k pas gya yahoodi bana

phir waha b sakoon nahi aya to phir esai bana phir waha sakoon nahi aya to

islam ki tarif ragib howa aur muslim ban gya

mahooliyati tabdeeli to qudrat k zuma hy

baki sardi garmi k malbosaat aur fesion wagera jadeed waqt ki tabdeeli hy

magar insaan jo jaga jaga bhatkta phiray us ki soch us k dill ko jis cheez ki zaroorat hoti woh us ko apna maqsad zindgi jaan lyny k bad hoti hy

jis trha yeh keh rahi yeh to kuch parwane hoty jo ik waqt tak jee k mar jaty

ya kuch shehad ki makhiun main nakhato hotay jo bus ik had tak faida lyty phir jaga jaga bhatakty 

insaan to woh hy jo samjh k sudar jye 

na k waqt ka intizar karay

 

I+put+a+troll+face+on+it+to+this+chick+_5cec17be252eb9667ae45ec4e53187f9.png

Posted

 kuch cheezein samjhne k liye sirf aqal wali daar ki zaroorat nahi parti,,

thora feeder ziada pee lyna chahiye aur us main nido wala milk sath badam aur akhroot v daal lijiye ga..... :D:)

Jo cheezain hum doosron ko advice krte un pe khud bh implementation zruri hoti :)

Posted
2 minutes ago, Jannat malik said:

 kuch cheezein samjhne k liye sirf aqal wali daar ki zaroorat nahi parti,,

thora feeder ziada pee lyna chahiye aur us main nido wala milk sath badam aur akhroot v daal lijiye ga..... :D:)

Jo cheezain hum doosron ko advice krte un pe khud bh implementation zruri hoti :)

mare kol pese hay nahi is ker k soch raha houn mare jese be-aqal e na reh jayein sab

ap ko bata diya ap k paas houn ga na pese is liye khareed k pee lein

 

 

Posted

Ohhhh thanks for ur valuable advice @Muhammad Rehman SAbir :)

Posted
1 minute ago, Jannat malik said:

Ohhhh thanks for ur valuable advice @Muhammad Rehman SAbir :)

dill se ker rahi hein to ok

uper uper se tanzia toor pe keh rahi hein to apne pas e rakhein

pehly hi is trha k thanks sambhal sambhal thaka howa ho

ik aur barh gya dig hi na jao

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts



×
×
  • Create New...