Jump to content

Recommended Posts

Posted

angel-016528.jpg


جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ


مرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ
سورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھ



کاغذ کی کترنوں کو بھی کہتے ہیں لوگ پھول
رنگوں کا اعتبار ہی کیا سونگھ کے بھی دیکھ



ہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں
جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھ



دشمن ہے رات پھر بھی ہے دن سے ملی ہوئی
صبحوں کے درمیان ہیں جو فاصلے بھی دیکھ



عالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر
دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھ



تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ



اس کی شکست ہو نہ کہیں تیری بھی شکست
یہ آئنہ جو ٹوٹ گیا ہے اسے بھی دیکھ



تو ہی برہنہ پا نہیں اس جلتی ریت پر
تلووں میں جو ہوا کے ہیں وہ آبلے بھی دیکھ



بچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں
اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھ



کیا شاخ با ثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو
نظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ

 

Posted


کون کہے گا تم بن ساجن کیسے کٹے دن رات
ساون کے سو رنگ گھلے اور ڈوب گئ برسات
پل جیسے پتھر بن جائیں گھڑیاں جیسے ناگ
دن نکلے تو شام نا آۓ، آۓ تو کہرام

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.