ROHAAN 71 Posted March 3, 2019 Posted March 3, 2019 جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھمرجھا کے کالی جھیل میں گرتے ہوئے بھی دیکھ سورج ہوں میرا رنگ مگر دن ڈھلے بھی دیکھکاغذ کی کترنوں کو بھی کہتے ہیں لوگ پھول رنگوں کا اعتبار ہی کیا سونگھ کے بھی دیکھہر چند راکھ ہو کے بکھرنا ہے راہ میں جلتے ہوئے پروں سے اڑا ہوں مجھے بھی دیکھدشمن ہے رات پھر بھی ہے دن سے ملی ہوئی صبحوں کے درمیان ہیں جو فاصلے بھی دیکھعالم میں جس کی دھوم تھی اس شاہکار پر دیمک نے جو لکھے کبھی وہ تبصرے بھی دیکھتو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھاس کی شکست ہو نہ کہیں تیری بھی شکست یہ آئنہ جو ٹوٹ گیا ہے اسے بھی دیکھتو ہی برہنہ پا نہیں اس جلتی ریت پر تلووں میں جو ہوا کے ہیں وہ آبلے بھی دیکھبچھتی تھیں جس کی راہ میں پھولوں کی چادریں اب اس کی خاک گھاس کے پیروں تلے بھی دیکھکیا شاخ با ثمر ہے جو تکتا ہے فرش کو نظریں اٹھا شکیبؔ کبھی سامنے بھی دیکھ 0 Quote
Waqas Dar 7,036 Posted March 5, 2019 Posted March 5, 2019 کون کہے گا تم بن ساجن کیسے کٹے دن رات ساون کے سو رنگ گھلے اور ڈوب گئ برسات پل جیسے پتھر بن جائیں گھڑیاں جیسے ناگ دن نکلے تو شام نا آۓ، آۓ تو کہرام 0 Quote ⚡ Quick Access & Member Actions 📝 Create Account / Register 🔐 Member Login 🔍 Search Everything 🔥 Activity Feed (Live Updates) 🏠 Go to Portal Home 📩 Contact Admin Support ❓ Help & Support Center 🏆 Community Leaderboard 👨💼 Forum Staff Team 📜 Terms & Rules 🔒 Privacy Policy 📢 Forum Announcements
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.