Jump to content

Recommended Posts

Posted

girhain.jpg کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے 
 کتنی گرہیں اب باقی ہیں 

 پاؤں میں پائل 
 باہوں میں کنگن 
 گلے میں ہنسلی 
 کمر بند، چھلّے اور بِچھوے 
 ناک کان چِھدوائے گئے ہیں 
 اور زیور زیور کہتے کہتے 
 رِیت رواج کی رسیوں سے میں جکڑی گئی 

 اُف 
 کتنی طرح میں پکڑی گئی 

 اب چِھلنے لگے ہیں ہاتھ پاؤں 
 اور کتنی خراشیں اُبھری ہیں 
 کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے 
 کتنی رسّیاں اتری ہیں 

 اَنگ اَنگ، میرا روپ رنگ 
 میرے نقش نین، میرے بول بین 
 میری آواز میں کوئل کی تعریف ہوئی 
 میری زلف سانپ، میری زلف رات 
 زلفوں میں گھٹا، میرے لَب گلاب 
 آنکھیں شراب 
 غزلیں اور نظمیں کہتے کہتے 
 میں حُسن اور عشق کے افسانوں میں جکڑی گئی 

 اُف 
 کتنی طرح میں پکڑی گئی 

 میں پوچھوں ذرا 
 آنکھوں میں شراب دِکھی سب کو 
 آکاش نہیں دیکھا کوئی 
 ساون بھادو تو دِکھے مگر 
 کیا درد نہیں دیکھا کوئی 

 فن کی جِھلّی سی چادر میں 
 بُت چِھیلے گئے عریانی کے 
 تاگا تاگا کر کے، پوشاک اُتاری گئی 
 میرے جسم پہ فن کی مشق ہوئی 
 اور آرٹ کا نام کہتے کہتے 
 سنگِ مرمر میں جکڑی گئی 

 اُف 
 کتنی طرح میں پکڑی گئی 

 بتلائے کوئی، بتلائے کوئی 
 کتنی گرہیں کھولی ہیں میں نے 
 کتنی گرہیں اب باقی ہیں 

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.