👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Recommended Posts

Posted

بہت سُلجھی ہوئی لڑکی
بہت سُلجھی ہوئی لڑکی 
جس نے عمر کا اک ناسمجھ عرصہ
بہت محتاط ہو کر گزارا تھا
ملی خود ایسے لڑکے سے
کہ جس کے لفظ جادو تھے
وہ کہتی زخم ہے
تو لفظ مرحم تھے
وہ کہتی غم ہے، تو لفظ ھمدم تھے
اُنہی لفظوں کی مٹھی میں تھمائے اپنی اُنگلی کو،
نئی اک راہ پہ چل دی،
وہی سُلجھی ہوئی لڑکی
گلابی تتلیاں مٹھّی میں جیسے قید لگتی تھیں
ہر اک خواب جیسے پیرہن اُوڑھے نکلتا تھا
شبیں آباد لگتی تھیں
وہ کہتا تھا کہ سُندر ہو، تو وہ چاہتی کہ میں کچھ اور بھی سُندر نظر آؤں
یہ لڑکا اپنے دل کے کواڑ کھولے اور میں اندر نظر آؤں
وہ کہتا کہ یہ آنکھیں تو وہ آنکھیں ہیں جن پہ جنگ ہو جائے
اور وہ سُلجھی ہوئی لڑکی یہ سُن کے یوں نکھرتی تھی
کہ جیسے شام میں شامل ،
شفق کا رنگ ہو جائے
بڑے دلکش سے پیرائے میں ہوتی گفتگو کو کس طرح روکیں 
یہ بس ایک اُلجھن تھی
مگر اُلجھن بھی کیسی
" خوشگوار اُلجھن "
کہ جس میں مبتلا دونوں ہی یکسر شاد لگتے تھے
دلوں کے حال "وہ" جانے
بظاہر تو بہت آباد لگتے تھے
یہی محسوس ہوتا تھا کہ
جیسے عمر گھٹ کے پھر سے سولہ سال ہو جائے
ذرا سی دیر کو منقطع ہو رابطہ اُن سے بُرا سا حال ہو جائے
اور پھر جیسے، ہر ایک اچھی کہانی میں کوئی منظر بدلتا ہے
یہاں بھی روز و شب بدلے
ذرا سی بات پہ رنجش
ذرا سی بات پہ جھگڑے
یہ مجھ سے تم بات کرتی ہو، تو کیوں کھو سی جاتی ہو۔۔۔۔ "
خاموشی اوڑھ لیتی ہو، یہ تم کیوں سو سی جاتی ہو
" تمہیں کچھ پاس ہے میرا" ؟
"کوئی احساس ہے میرا"؟
وفا سے دور لگتی ہو
مجھے تم چاہتی کب ہو 
فقط مجبور لگتی ہو
اگر تم سے نبھا لوں گا تو تم ناشاد کر دو گی
رہو گی ساتھ میرے، مجھے برباد کر دو گی
چلو اب جی لیا کافی، ابھی واپس پلٹ جاؤ
مجھے آواز مت دینا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے واپس نہیں آنا ۔۔۔۔۔۔
میں گر کوئی فیصلہ کر لوں، تو پھر اُس کو نبھاتا ہوں۔۔۔۔
میں خود تعمیر کرتا ہوں،
سو میں خود ہی گراتا ہوں
تو یہ تو سوچنا بھی مت کہ گر آنسو بہاؤ گی
تو اپنے فیصلے میں میں کوئی ترمیم کر دوں گا
"ہاں !گر پھر بھی نہ سمجھیں تم تو ایسی ضرب دوں گا کہ تمہیں تقسیم کر دوں گا
مگر
تقسیم تو تب تک بخوبی ہو چکی تھی
جہاں وہ تھی،
وہاں اُلجھی ہوئی سی اجنبی لڑکی،
کئی حصّوں میں بٹ کے بھی کھڑی تھی
یقین سے بے یقینی تک کا رستہ سوچتی تھی
ستم جتنے بھی لڑکی نے اُٹھائے' اُن' کی مرضی ہیں
رہے واضح ، کہ کہانی کے سبھی کردار فرضی ہیں

 

FB_IMG_1528188836032.jpg

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts


×
×
  • Create New...