Urooj Butt 861 Posted June 23, 2018 Posted June 23, 2018 تو بھی اب چھوڑ دے انداز ستانے والے حوصلے اب کہاں اس دل میں پرانے والے یہ خزانے ھیں زمانے سے چھپانے والے زخم ھوتے نہیں ھیں دل کے دکھانے والے تو بھی ھر چیز کی اب مجھ سے وضاحت چاھے ھو گئے تیرے بھی اسلوب پرانے والے اب اندھیروں میں یوں چپ چاپ پڑے رھتے ھیں ھم , چراغوں کو سر شام جلانے والے جن کی تقدیر میں تعبیر نہیں ھوتی ھے اب وہ آتے ھی نہیں خواب سہانے والے آشنا لذت گریہ سے کیا ھے تو نے ھو تری خیر مجھے روگ لگانے والے 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.