jannat malik👑 Posted January 12, 2020 Posted January 12, 2020 بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ تھی چشم قاتل مری دشمن تھی ہمیشہ لیکن جیسی اب ہو گئی قاتل کبھی ایسی تو نہ تھی کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ظفرؔ سے ہر بار خو تری حور شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now