Bahadur Shah Zafar
5 topics in this forum
-
- 1 reply
- 1.6k views
ﻭﮦ ﺳﻮ ﺳﻮ ﺍﭨﮭﮑﮭﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺩﻭ ﻗﺪﻡ ﻧﮑﻠﮯ ﺑﻼ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻣﻀﻄﺮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﮑﻠﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺁﻧﺴﻮ ﮐﮯ ﻗﻄﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﺩﻝ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﻢ ﻧﮑﻠﮯ ﯾﮧ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ ﻣﺪﺕ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﯿﮑﺎﻥ ﻏﻢ ﻧﮑﻠﮯ ﻣﺮﮮ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﺳﻮﺯ ﻭ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺧﻂ ﺳﺐ ﺟﻞ ﮔﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﺣﺮﻑ ﺟﻮ ﻧﮑﻠﮯ ﺷﺮﺭ ﮨﯽ ﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﻧﮑﻠﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺍﮮ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮ ﺗﻮ ﺷﻮﻕ ﺳﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺮ ﭘﯿﮑﺎﮞ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮑﻠﮯ ﺟﮕﺮ ﺳﮯ ﺗﯿﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻗﺎﻟﺐ ﺳﮯ ﺩﻡ ﻧﮑﻠﮯ ﺗﺼﻮﺭ ﺳﮯ ﻟﺐ ﻭ ﻟﻌﻠﯿﮟ ﮐﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻢ ﺍﮔﺮ ﺭﻭ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺟﻮ ﻟﺨﺖ ﺟﮕﺮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺍﮎ ﺭﻗﻢ ﻧﮑﻠﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺭﺗﮯ ﺍﮔﺮ ﮨﻮﮞ ﻻﮐﮫ ﺯﻧﺪﺍﮞ ﯾﺎﺭ ﺯﻧﺪﺍﮞ ﺳﮯ ﺟﻨﻮﻥ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻣﺜﺎﻝ ﻻﻟﮧﺀ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻧﮑﻠﮯ ﺟﮕﺮ ﭘﺮ ﺩﺍﻍ ﻟﺐ ﭘﺮ ﺩﻭﺩ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﺷﮏ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﯼ ﻣﺤﻔﻞ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺷﻤﻊ ﺻﺒﺢ ﺩﻡ ﻧﮑﻠﮯ ﺍﮔﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮔﯿﺴﻮﮰ ﺷﺐ ﺭﻧﮓ ﮐﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﺮﯼ ﺷﺐ ﺩﯾﺰ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﻗﺪﻡ ﻧﮑﻠﮯ ﮐﺠﯽ ﺟ…
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 0 replies
- 1.7k views
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی پائے کوباں کوئی زنداں میں نیا ہے مجنوں آتی آواز سلاسل کبھی ایسی تو نہ تھی نگہ یار کو اب کیوں ہے تغافل اے دل وہ ترے حال سے غافل کبھی ایسی تو نہ ت…
Last reply by jannat malik, -
- 1 reply
- 2.4k views
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے اس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں ایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا وہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار پوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے …
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.7k views
اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل دنیا ہے چل چلاؤ کا رستہ سنبھل کے چل کم ظرف پر غرور ذرا اپنا ظرف دیکھ مانند جوش غم نہ زیادہ ابل کے چل فرصت ہے اک صدا کی یہاں سوز دل کے ساتھ اس پر سپند وار نہ اتنا اچھل کے چل یہ غول وش ہیں ان کو سمجھ تو نہ رہ نما سائے سے بچ کے اہل فریب و دغل کے چل اوروں کے بل پہ بل نہ کر اتنا نہ چل نکل بل ہے تو بل کے بل پہ تو کچھ اپنے بل کے چل انساں کو کل کا پتلا بنایا ہے اس نے آپ اور آپ ہی وہ کہتا ہے پتلے کو کل کے چل پھر آنکھیں بھی تو دیں ہیں کہ رکھ دیکھ کر قدم کہتا ہے کون تجھ کو نہ چل چل سنبھل کے چل …
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.2k views
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا تو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریبان اے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشق تسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نے کی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نے مفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھا تم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نے صدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا پہنچ…
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
