Jump to content

Recommended Posts

Posted

57104257-890006704680292-357665152632566


بازوؤں کی چھـتری تھی
 
بازوؤں کی چھـتری تھی راستوں کی بارش میں
بھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں


اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب
مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میں

بھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے
دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں

بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیں
ایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میں

شـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کی
جب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میں

دل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہے
کتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میں

شہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا
پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں

بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی
رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میں

ہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھے
تم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں

کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے
کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں
  • Like 1
  • Thumbs Up 1

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.