ROHAAN Posted April 20, 2019 Report Posted April 20, 2019 بازوؤں کی چھـتری تھی بازوؤں کی چھـتری تھی راستوں کی بارش میںبھیگ بھیگ جـــاتے تھے دھڑکنوں کی بارش میں اور ہی زمـــــانہ تھا اور ہی تھے روز و شب مجھ سےجب ملاتھا وہ چاہتوں کی بارش میںبھیگتی ہوئی ســـــانسیں ، بھیگتے ہوۓ لمحے دل گداز رم جھم تھی خوشبوؤں کی بارش میں بجــــلیاں چمکتی تھیں ، کھــڑکیاں دھڑکتی تھیںایک چھت کے نیچے تھے دو دلوں کی بارش میںشـــــــام تھی جدائ کی اور شب قیامت کیجب اسے کیـــا رخصت آنسوؤں کی بارش میںدل پـــــــہ زخم ہے کوئی روح میں اداسی ہےکتنے درد جاگے ہیں سسکیوں کی بارش میںشہر ِ کج نگاہاں میں کون خوش نظر نکلا پھول کس نے پھینکا ہے پتّھروں کی بارش میں بـــــــرق سی لپکتی تھی ، روشنی نکلتی تھی رات کے اندھیرے سے ان دنوں کی بارش میںہم تو خیر ایسے تھے، راستے میں بیٹھے تھےتم کہاں سے آ نکلے اس غموں کی بارش میں کــــر چیاں سمیٹیں اب زخم زخم پوروں سے کچھ نہیں بچا فوزی پتھــــروں کی بارش میں 1 1
jannat malik Posted April 24, 2019 Report Posted April 24, 2019 تو نے دیکھا ہی نہیں میرے ساتھ چل کے کبھی میں تو تنہائی کا بھی ساتھ نبھاتا رہا صدیوں💗
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now