ROHAAN🚀 Posted March 23, 2019 Posted March 23, 2019 "کوئی تو ہے ناں " اداسیوں کے سبب کے بارے میں سوچنا کیا ؟ اداسیوں کا سبب کوئی ہو ! حسین تر ہے کسی کی باتوں میں کھوئے رہناکسی کی یادوں میں روئے جانا عبادتوں ہی کی شکل ٹھہری عقیدتوں کے چراغ ہم نے جلائے کتنے ! کسے خبر ہے ؟ یہ رنج کتنے خفا تھے ہم سے، منائے کتنے ؟ کسے خبر ہے ؟ کسے خبر ہے کہ تھپکیاں اور لوریاں دے کے درد ہم نے سلائے کتنے ؟ اُسے خبر ہے ! کہ جس خاطر اُداسیوں کو گلے لگایا اُسے خبر ہے ! کہ جس کے بارے خدا کو ہم نے بہت بتایا بہت دعا کی وہ جانتی ہے ! کہ جس کی خاطر خدا کے گھر میں صدا لگائی وہ مانتی ہے ! کہ جس کی خاطر قبول رنج و الم کیے ہیں وہ کس اذیت کو کاٹتی ہے ! مجھے خبر ہے وہ کیسے لوگوں میں، کس طرح زیست کاٹتی ہے ! مجھے خبر ہے مجھے خبر ہے ! وہ وقت کیسے گزارتی ہے ! مجھے خبر ہے خموشیوں کی، اداسیوں کی وہ ماہرانی اداس دلہن ! غموں کی ملکہ وہ شاہزادی دکھوں کی ماری اداس ہو کر وہ جیسے مجھ کر پکارتی ہے ! مجھے خبر ہے تمہیں خبر ہو ! تو تم کبھی بھی اداسیوں کا سبب نہ پوچھو تمہیں خبر ہو ! تو تم بھی میری اداسیوں کے مزار پر ننگے پاؤں آ کر دیے جلاؤ پھر عمر بھر مسکرا نہ پاؤ ! تو کیا کرو گے ؟ سو میری مانو ! اداسیوں کا سبب نہ پوچھو یہی ہے بہتر ! یہی بہت ہے ! بس اتنا کافی ہے مدتوں سے جو کہہ رہا ہوں کوئی تو ہے نا کہ جس کی خاطر اداس رہنے کا شوق سا ہے 3
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now