کچھ یوں کرو کہ آئے وہ مہماں ابھی ابھی
یا یہ کرو کہ جائے مری جاں ابھی ابھی
جھیلا ہے تجھ کو زندگی کچھ اس یقین سے
ہونے لگی ہے جیسے تو آساں ابھی ابھی
پھر اس کی یاد آئی بجھانے کے واسطے
ہم نے کیا تھا دل میں چراغاں ابھی ابھی
جانے مرے فراق پہ کیوں خوش ہے یہ جہاں
دیکھا ہے ہم نے غم کو بھی رقصاں ابھی ابھی
زندان میں ہی خوش رہو ، آباد تم رہو
جاری ہوا ہے وقت کا فرماں ابھی ابھی
اب حال ہم سے اس کا بھلا پوچھتے ہو کیا
پہلو کو جس نے دیکھا ہے ویراں ابھی ابھی
پوچھا جو اک خیال نے گر لوٹ آوں میں
بے ساختہ جواب تھا جاناں ابھی ابھی
اس کو ڈرا رہا ہے خزاں سے بھلا تو کیا
گلشن جو کر کے بیٹھا، بیاباں ابھی ابھی
جس میں قصیدے اس کے، اسی کا بیان تھا
ہم نے جلا دیا ہے وہ دیواں ابھی ابھی

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.