Waqas Dar 7,050 Posted August 11, 2016 Posted August 11, 2016 پہلا سا حال پہلی سی وحشت نہیں رہی شاید کہ تیرے ہجر کی عادت نہیں رہی شہروں میں ایک شہر مرے رَت جگوں کا شہر کوچے تو کیا دِلوں ہی میں وسعت نہیں رہی لوگوں میں میرے لوگ وہ دل داَریوں کے لوگ بچھڑے تو دُور دُور رقابت نہیں رہی شاموں میں ایک شام وہ آوارگی کی شام اب نیم وَا دریچوں کی حسرت نہیں رہی راتوں میں ایک رات مِرے گھر کی چاند رات آنگن کو چاندنی کی ضرورت نہیں رہی راہوں میں ایک راہ وہ گھر لَوٹنے کی راہ ٹہرے کسی جگہ وہ طبیعت نہیں رہی یادوں میں ایک یاد کوئی دل شکن سی یاد وہ یاد اب کہاں ہے کہ فرصت نہیں رہی ناموں میں ایک نام سوال آشنا کا نام اب دل پہ ایسی کوئی عبارت نہیں رہی خوابوں میں ایک خواب تری ہم رَہی کا خواب اب تجھ کو دیکھنے کی بھی صورت نہیں رہی رنگوں میں ایک رنگ تری سادگی کا رنگ ایسی ہَوا چلی کہ وہ رنگت نہیں رہی باتوں میں ایک بات تیری چاہتوں کی بات اور اب یہ اِتّفاق کہ چاہت نہیں رہی یاروں میں ایک یار وہ عیّاریوں کا یار مِلنا نہیں رہا تو شکایت نہیں رہی فصلوں میں ایک فصل وہ جان دادگی کی فصل بادل کو یاں زمین سے رغبت نہیں رہی زخموں میں ایک زخم متاعِ ہنر کا زخم اب کوئی آرزوئے جراحت نہیں رہی سنّاٹا بولتا ہے صدا مت لگا نصیر آواز رہ گئی ہے سماعت نہیں رہی 0 Quote ⚡ Quick Access & Member Actions 📝 Create Account / Register 🔐 Member Login 🔍 Search Everything 🔥 Activity Feed (Live Updates) 🏠 Go to Portal Home 📩 Contact Admin Support ❓ Help & Support Center 🏆 Community Leaderboard 👨💼 Forum Staff Team 📜 Terms & Rules 🔒 Privacy Policy 📢 Forum Announcements
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.