Urooj Butt 861 Posted October 22, 2016 Posted October 22, 2016 دلِ پُر شوق کو پہلو میں دبائے رکھا تجھ سے بھی ھم نے تیرا پیار چھپائے رکھا چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھ سے پہلے ھم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا غیرممکن تھی زمانے کے غموں سے فرصت پھر بھی ھم نے تیرا غم دل میں بسائے رکھا پھول کو پھول نہ کہتے تو اسے کیا کہتے؟ کیا ھوا غیر نے کالر پہ سجائے رکھا جانے کس حال میں ہیں, کونسےشہروں میں ھیں وہ؟ زندگی اپنی جنہیں ھم نے بنائے رکھا ھائے کیا لوگ تھے, وہ لوگ, پری چہرہ لوگ ھم نے جن کے لیے دنیا کو بھلائے رکھا اب ملیں بھی تو نہ پہچان سکیں ھم انکو جن کو اک عمر خیالوں میں بسائے رکھا 2 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.