Zarnish Ali👑 Posted November 15, 2017 Posted November 15, 2017 نہ میں خواب گر نہ میں کوزہ گر میری منزلیں کہیں اور ھیں مجھے اس جہاں کی تلاش ھے جہاں ھجر روح وصال ھے ابھی در وہ مجھ پہ کھلا نہیں ابھی آگ میں ھوں میں جل رھا ابھی اسکا عرفاں ھوا نہیں مجھے رقص رومی ملا نہیں ابھی ساز روح بجا نہیں رہ سرمدی کا خیال ھے میں ازل سے جسکا ھوں منتظر مجھے اس ابد کی تلاش ھے نہ میں گیت ھوں نہ میں خواب ھوں نہ سوال ھوں نہ جواب ھوں نہ عذاب ھوں نہ ثواب ھوں میں مکاں میں ھوں اک لا مکاں میں ھوں بے نشان کا اک نشاں میری اک لگن میری زندگی میری زندگی میری بندگی میرے من میں ایک ھی آگ ھے مجھے رقص رومی کی لاگ ھے میرا مست کتنا یہ راگ ھے کہ بلند میرا یہ بھاگ ھے نہ میں خواب گر، نہ میں کوزہ گر 1
waqas dar⚙ Posted November 21, 2017 Posted November 21, 2017 Bohat Awalaa آج پھر تم نے مرے دل میں جگایا ہے وہ خواب میں نے جس خواب کو رو رو کے سُلایا تھا ابھی کیا ملا تم کو انہیں پھر سے فروزاں کر کے میں نے دہکے ہوئے شعلوں کو بجُھایا تھا ابھی میں نے کیا کچھ نہیں سوچا تھا مری جانِ غزل کہ میں اس شعر کو چاہوں گا، اسے پوجوں گا اپنی ترسی ہوئی آغوش میں تارے بھر کے قصرِ مہ تاب تو کیا عرش کو بھی چُھو لوں گا تم نے تب وقت کو ہر زخم کا مرہم سمجھا اور ناسور مرے دل میں چمکتے بھی رہے لذّتِ تشنہ لبی بھی مجھے شیشوں نے نہ دی محفلِ عام میں تا دیر چھلکتے بھی رہے اور اب جب نہ کوئی درد نہ حسرت نہ کسک اک لرزتی ہوئی لو کو تہِ داماں نہ کرو! تیرگی اور بھی بڑھ جائے گی ویرانے کی میری اُجڑی ہوئی دنیا میں چراغاں نہ کرو ( مصطفیٰ زیدی)
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now