Urooj Butt 861 Posted December 24, 2018 Posted December 24, 2018 کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے وہ مجھے ملے تو لیکن، ملے صورتیں بدل کر یہ وفا کی سخت راہیں، یہ تمہارے پائے نازک نہ لو انتقام مجھ سے، مرے ساتھ ساتھ چل کے وہی آنکھ بے بہا ہے جو غمِ جہاں میں روئے وہی جام جامِ ہے جو بغیرِ فرق چھلکے یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں تُو جلا وہ شمع اے دل! جو بجھے کبھی نہ جل کے نہ تو ہوش سے تعارف، نہ جنوں سے آشنائی یہ کہاں پہنچ گئے ہم تری بزم سے نکل کے کوئی اے خمار ان کو مرے شعر نذر کر دے جو مخالفینِ مخلص نہیں معترف غزل کے 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.