waqas dar⚙ Posted March 16, 2016 Posted March 16, 2016 دیا اس نے محبت کا جواب، آہستہ آہستہ کھلے ہونٹوں کی ٹہنی پر گلاب، آہستہ آہستہ بڑھا مہتاب کی جانب سحاب، آہستہ آہستہ فتح اس نے بھی ڈھلکایا نقاب، آہستہ آہستہ سبق پڑھنا نہیں صاحب سبق محسوس کرنا ہے سمجھ میں ائے گی دل کی کتاب، آہستہ آہستہ کہیں تیری طرف عجلت میں کچھ شامیں نہ رہ جائیں چُکا دینا محبت کا حساب ، آہستہ آہستہ وہ سارے لمس چاہت کے، ضرورت میں جو مانگے تھے وہ واپس بھی تو کرنے ہیں جناب، آہستہ آہستہ ابھی کچھ دن لگیں گے دید کی تکمیل ہونے میں بنے گا چاند پورا ماہتاب، آہستہ آہستہ وہی پھولوں کی لڑیاں، نیلگوں سی نیم تاریکی سنایا مجھ کو پھر اس نے وہ خواب، آہستہ آہستہ وہ چہرہ صحن کی دیوار کے پیچھے سے یوں ابھرا سحر کے وقت جیسے آفتاب، آہستہ آہستہ فتح آہستہ آہستہ جوانی سب پر آتی ہے مگر جاتا نہیں عہدِ شباب، آہستہ آہستہ 2
waqas dar⚙ Posted September 7, 2016 Author Posted September 7, 2016 On 9/1/2016 at 8:54 AM, Pink Pari said: very nice bohat umda @waqas dar thanks pink pari
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now