Jump to content

FDF Members Poetry

  • entries
    163
  • comments
    120
  • views
    37,453

Contributors to this blog

پابہ گِل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون


پابہ گِل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
 دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون

میرا سر حاضر ہے لیکن میرا منصف دیکھ لے
 کر رہاہے مری فردِ جرم کو تحریر کون

آج دروازوں پہ دستک جانی پہچانی سی ہے
 آج میرے نام لاتا ہے مری تعزیر کون

کوئی مقتل کو گیا تھا مدّتوں پہلے مگر
 ہے درِ خیمہ پہ اب تک صورتِ تصویر کون

میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں
 بے ردائی کو مری، پھر ے گیا تشہیر کون

سچ جہاں پا بستہ، ملزم کے کٹہرے میں ملے
 اُس عدالت میں سُنے گا عدل کی تفسیر کون

نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میں
 خواب دیکھے کون اور خوابوں کو دے تعبیر کون

ریت ابھی پچھلے مکانوں کی نہ واپس آئی تھی
 پھر لبِ ساحل گھروندا کر گیا تعمیر کون

سارے رشتے ہجرتوں میں ساتھ دیتے ہیں تو پھر
 شہر سے جاتے ہوئے ہوتا ہے دامن گیر کون

دُشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں
 دیکھنا ہے، کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

 

15823526_1306098199464736_72561726887573

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.