سب اختیار اس کاہے، کم اختیار میں
شاید اسی لئے ہوئی، بے اعتبار میں
پھرتی ہے مرے گھر میں اماوس کی سرد رات
دالان میں کھڑی ہوں بہت بے قرار میں
تھل سے کسی کا اونٹ سلامت گزر گیا
راہِ وفا میں رہ گئی مثلِ غبار میں
انگلی میں رہ گئی ہے انگوٹھی گھِسی ہوئی
لاؤں کہاں سے اب وہی نقش و نگار میں
جی چاہتا ہے رات کے بھرپور جسم سے
وحشت سمیٹ لوں تری دیوانہ وار میں
پارس نے دفعتاً مجھے سونا بنا دیا
قسمت سے آج ہو گئی سرمایہ دار میں
نیلے سمندروں کا نشہ بڑھ نہ جائے گا
موتی نکال لاؤں اگر بے شمار میں
میں ضبطِ غم کی آخری حد تک گئی مگر
ہر شخص کی نگاہ میں ہوں سوگوار میں
نیناں مجھے بھی دیکھ رتیں اوڑھ اوڑھ کر
قو سِ قزح کبھی ہوں کبھی اشک بار میں
0

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.