👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Waqas Dar

🔥 Admin/Core Authority
  • Posts

    11,279
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    552

Blog Entries posted by Waqas Dar

  1. Waqas Dar
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ اک بار پھر ہماری کرکٹ ٹیم منہ لٹکائے واپس وطن لوٹ رہی ہے اور یہ منظر اب کوئی نیا نہیں رہا ۔۔۔ بہت مدت سے دہرایا جارہا ہے ،،، کتنے ہی ٹؤر اسی انجام سے دوچار ہوئے اور کتنے ہی شائقین اور مداحوں کی امنگوں کا خون ہوا ،،، ہر بار آشاؤں تمناؤں کے دیپ جلائے جاتے ہیں پھر واپسی پہ ان بجھے چراغوں کا دھواں ہوتا ہے اور دلگرفتہ ناظرین کے ہاتھوں کتنے ہی ٹی وی سیٹ توڑے جا چکے ہوتے ہیں کہ جنکی دسترس میں بس ٹی وی سیٹ ہی ہوتے ہیں اگر تو ایسے وقت کہیں انہیں یہ کھلاڑی ، کوچ اورکرکٹ بورڈ کے گرو ہاتھ لگ جائیں تو نجانے کیا کیا ہوجائے ۔۔۔ لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے احساسات و جذبات سے ہماری ٹیم کے بیشتر کھلاڑی اور بالخصوص کپتان صاحب بالکل عاری ہیں کیونکہ اس بدترین کارکردگی کے بعد بھی شاہد آفریدی نے اپنی واپس لی گئی اعلان ریٹائرمینٹ پہ نظر ثانی کرنے کے معاملے کو لٹکائے رکھنے کو ترجیح دی ہے اور یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ کپتان کے طور پہ نہ بھی سہی لیکن کھلاڑی کے طور پہ فٹ ہیں ،،، جبکہ انکی بطور کھلاڑی ذاتی کارکردگی کا گراف اب تو چیخ چیخ کے یہ پکار رہا ہے بھائی آفریدی اب بس کیجیئے گھر کو جائیئے اور مڑ کے نہ دیکھیئے - بھارت میں اپنی ناکامی کے آخری باب میں انہوں نے اپنے بیان میں کشمیر کا تذکرہ ڈال کر جہاں اپنے اس بیان کی تلافی کرنے کی کوشش کی کہ جس میں انہوں نے ہندوستان میں پاکستان سے بھی زیادہ پیار ملنے کی بات کرکے اہل پاکستان کی بڑی دلآزاری کی تھی تو ساتھ ہی یہ ثبوت بھی دیدیا ہے کہ وہ کرکٹ کے نہ بھی سہی لیکن سیاست کی شطرنج کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں- جہاں تک بات غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی ہے تو ابھی اسی ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کی داستان کو لے لیں اس میں سیکھنے اور آنکھیں کھولنے کے لیئے بہت مواد موجود ہے ۔۔۔ اس نہایت اہم ٹورنامنٹ میں ہماری ٹیم سے کل ملا کے ایک میچ جیتا جاسکا اور کسی بھی میچ میں نہ تو ٹیم مستحکم نظر آئی اور نہ ہی جم کے کھیلتی دیکھی گئی ،،، برسوں سے کھیلے چلے آرہے پرانے کھلاڑیوں نے وہی روایتی عجلت کے ساتھ غیر محتاط شارٹ لگا کر پویلین لوٹنے کی روایت دہرائی اور اس حقیقت کو مزید واضح کیا کہ انہوں نے شکستوں سے ذرا بھی نہیں سیکھا اور ذمہ داری کا فقدان ہونا ہی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور انکی اس خامی پہ قابو پانے میں کوچ وقار یونس بری طرح ناکام رہے کہ جو عرصے سے ناکام ہی چلے آرہے ہیں اورجنکا کام بہت مدت سے یہی رہ گیا ہے کہ وہ ہر بار ہارنے کی وضاحتیں بیان کرتے رہیں اور کھلاڑیوں کے لتے لیتے سنائی دیتے رہیں ،، اسی طرح چیف سیلیکٹر ہارون رشید کا بھی معاملہ ہے کہ اک زمانے سے ناکام چلے آرہے ہیں لیکن انہیں اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا اور کبھی ندامت کی ادنیٰ سی رمق بھی انکے چہرے پہ نہیں جھلکی اور اس حوالے سے کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی کبھی پشیمان یا پریشان نظر نہیں آئے ،،، لوگ حیران ہوتے ہیں کہ وہ بڑے اطمینان سے اتنی بڑی بڑی ناکامیاں کیسے ہضم کرلیتے ہیں جبکہ وہ اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ان سے اب دہی بھی ہضم کرنا آسان نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے ابکے ایک ہمہ جہت تبدیلی کی جھاڑو پھری جائے اور نیچے سے اوپر یعنی صرف ٹیم پہ سے کپتان سمیت پرانے کھلاڑیوں کا بوجھ اتارنے ہی پہ بس نہ کیا جائے بلکہ کوچ ، سیلکیٹر و مینیجر سے لے کر چیئرمین کو بھی فارغ کیا جائے اور کرکٹ کی بہبود سے حقیقی دلچسپی رکھنے والے تجربہ کار افراد کو آگے لایا جائے - دیکھنے میں ہمیشہ یہی آتا ہے کہ ہر شکست کے بعد وقتی طور پہ بڑی اور اہم تبدیلیوں کے دعوے تو ضرور کیئے جاتے ہیں لیکن ہوتا ہواتا پھر بھی کچھ نہیں ہے جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے تو پھر اگلی بار زیادہ تر بلکہ 80 فیصد وہی پرانے بابے ٹیم کی بس میں بیٹھے کھانس رہے ہوتے ہیں ،، یعنی ٹیم میں نئے لڑکوں کی شمولیت کا تناسب ایک چوتھائی سے زیادہ کبھی بھی نہیں دیکھا جاتا اور اسی لیئے رزلٹ کارڈ میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی جاتی- جتنی مدت میں دنیا بھر میں ٹیمیں کئی کئی بار مکمل بدل چکتی ہیں اتنی مدت میں ہمارے یہاں محض 2 یا 3 ہی نئے لوگ سامنے آپاتے ہیں ۔۔۔ ہماری ٹیم میں بہتر کھلاڑی نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نچلی سطح پہ ٹیلنٹ ڈھونڈھنے کا کوئی قابل اعتبار اور واضح نظام موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے اسکول کی سطح سے مستقبل کے کام کے کرکٹر آگے نہیں آپا رہے ہیں اس لیئے اب اس سطح پہ کام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلی سطح کی کرکٹ کو مضبوط کیا جائے اور اگر ایک بار رسک لے کر ٹیم میں نچلی سطح سے 80 فیصد نیا خون سمولیا جائے تو گو وہ کھلاڑی کہنے کو ابھی اچھے رزلٹ نہیں دینگے لیکن بتدریج اعتماد حاصل کرکے اور سیکھ کے مستحکم ہوتے چلے جائینگے ۔۔۔ ویسے بھی اس دوران اگر ہارتے بھی رہے تو کیا فرق پڑے گا ،،، پرانے کھلاڑیوں کے ہوتے ہارنے کے موجودہ ریکارڈ سے تو یہ کہیں بہتر ہے کہ کچھ عرصے کیلیئے نئے کھلاڑیوں کے ساتھ ہی ہارنے کا رسک لے لیا جائے -

    View the full article
  2. Waqas Dar

     
    چین میں قبر سے خواتین کی لاشیں نکال کر ان کی شادی کرنے کی خوفناک رسم کا انکشاف ہوا ہے
     
    بیجنگ: (آن لائن) چین میں قبروں سے خواتین اور لڑکیوں کی لاشیں نکال کر ان کی مردہ آدمی سے شادی کرنے کے بعد دوبارہ دفن کرنے کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ چین میں توہم پرستی کے مارے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کوئی کنوارہ شخص اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اگلی دنیا میں اسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اسی لیے مرنے والے تنہا افراد کی کسی خاتون یا لڑکی کی لاش سے شادی کرا دی جاتی ہے اور اس کے بعد اسے مرد کے ساتھ یا اس کے برابر قبر میں دفنا دیا جاتا ہے۔ قدیم چینی تہذیب میں یہ بات بھی عام ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر شادی کے مر جائے تو اس کی روح بھٹک کر اس کے عزیزوں کو اذیت پہنچاتی رہتی ہیں، اسی لیے کئی خاندان اپنے مرنے والوں کے لیے ’بھوت دلہن‘ تلاش کرتے ہیں اور اسے اپنے عزیز کے ساتھ دفن کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے عقائد کے مطابق تمام بلائیں ٹل جاتی ہیں اور خاندان محفوظ رہتا ہے۔


     
    چین کے مختلف علاقوں میں کنوارے شخص کی موت کے بعد کسی خاتون کا چاندی کا مجسمہ، پلاسٹ کا پتلا اور دیگر اشیا دفنائی جاتی رہی ہیں تاہم ان میں سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ کسی تازہ قبر کو کھود کر خاتون کی لاش نکالی جاتی ہے، پھر اسے میک اپ کرکے نئے کپڑے پہنا کر مرنے والے کی قبر کے ساتھ دفنا دیا جاتا ہے جبکہ یہ لاشیں قبر سے نکالنے کے لیے خطرات مول لینے کے ساتھ ساتھ خطیر رقم بھی خرچ کی جاتی ہے۔ چین میں اس کام کے لیے مردہ خواتین کو چرانے والے کئی خفیہ گروہ کام کر رہے ہیں جو لاشوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا نہیں کر سکتے۔
    چین میں خواتین کی لاشوں کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے کئی خاندان انہیں قبرستان کی بجائے دور دراز پہاڑی علاقوں پر دفنا رہے ہیں۔ کچھ لوگوں نے قبروں کو پختہ کرکے خاردار تار لگا دیئے اور کچھ نے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کرائے ہیں۔ واضح رہے کہ چین میں مردہ خواتین اور مردوں کی شادی پر 1949 میں پابندی کر دی گئی تھی تاہم گزشتہ کئی سال سے کچھ علاقوں میں یہ واقعات بڑھ گئے ہیں۔
     

  3. Waqas Dar
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کے چیئرمین شہر یارخان نے اعلان کردیا ہے کہ ٹی توئیٹی ورلڈ کپ کے بعد پاکستانی ٹی ٹوئینٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نہیں ہونگے ،،، لیکن یہ ایک ادھورا اچھا بیان ہے کیونکہ اس کھیل کو سمجھنے والے ماہرین اور ٹیم میں میں دیرپا مثبت تبدیلیاں دیکھنے کے خواہشمند لوگ اس سے کچھ زیادہ کے خواہشمند ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ میں نئے خون کو خاطر خواہ طور پہ سمونے کے لیئے پرانے و بوسیدہ ہوتے کئی نامور کھلاڑیوں کو گھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے اور اس ضمن میں‌ سب سے پہلا نام شاہد آفریدی ہی کا ہے - اخر کب تک ہم دھونی کا یہ طنز سنتے رہیں گے کہ کبھی نہ کبھی تو انڈیا بھی پاکستان سے ضرور ہارے گا- یہاں شاہد آفریدی کی جرآت کی داد بھی ضرور دینی چاہیئے کہ اسنے اپنے ریٹائرمنٹ کے اعلان کو کس دھڑلے سے واپس لیا ہے جبکہ اسکی کئی برسوں کی مایوس کن کارکردگی کے بعد تو اب سوشل میڈیا اس قسم کے چلبلے جملوں سے بھرا پڑا ہے کہ " آفریدی دیوار پہ لٹکی اس بندوق کی مانند ہے کہ جو ڈاکوؤں کے آجانے پہ تو کبھی نہیں چلتی لیکن جب اسے صاف کرنے لگو تو چلپ پڑتی ہے" یا پھر یہ فقرے کہ " آفریدی اس خراب جنریٹر کی طرح ہے کہ جب تنگ آکر اسے بیچنے لیجانے لگو تو اہ ایک بار پھر چل پڑتا ہے سوشل میڈیا پہ ان تبصروں سے قطع نظر اکثر لوگوں کو توقعات تھیں کہ شاہد آفریدی اپنے کہے کا پاس رکھیں گے اور گزشتہ برس کئے گئے اپنے اس اعلان کے مطابق اس ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے بعد ریٹائر ہوکے گھر چلے جائینگے لیکن ایسا نہ ہوا اور انہوں نے اپنےاعلان کو واپس لے لیا ،،، اسکے بعد یہ امیدیں باندھ لی گئی تھیں کہ وہ اس اہم ترین ٹورنامنٹ میں بحیثیت کپتان اور بحیثیت کھلاڑی بہت زوردار پرفارمنس دینگے لیکن افسوس کہ بھارت سے ہونے والے حالیہ میچ میں انہوں نے نہایت مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اپنے دونوں کرداروں کی ادائیگی میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے - یہاں لوگوں کو انکے 8 رنز بناکر پویلین پہنچ جانے کا صدمہ تو ہے ہی ،،، یہ شکوہ بھی ہے کہ انہوں نے ایڈن گارڈن گراؤنڈ کی پچ کو سمجھنے میں قطعی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور ایک اسپن وکٹ پہ کئی کئی فاسٹ بالر کھلا دیئے جبکہ بھارت کی ٹیم کے چناؤ کو سامنے رکھ کر بھی اس پچ کی نوعیت سے بخوبی آگاہ ہوا جاسکتا تھا کیونکہ کولکتہ تو بھارتی ٹیم کا اپنا گراؤنڈ ہے اور وہ اسکے حقائق و رموز سے پوری طرح آگاہ ہیں - پھر فیلڈ پلیسنگ بھی غیر معیاری تھی اور تمام وقت کھلاڑیوں کو باآسانی رن لیتے دیکھا جاتا رہا ،،، جو کہ بہت آرام آرام سے کھیلتے ہوئے اسکور بڑھاتے رہے اور رنز کی اوسط کو کامل اطمینان سے اپنے ہاتھ میں رکھا اور مناسب گیند ملنے پہ بھرپور اور تیز شارٹ بھی لگاتے رہے یہ صحیح ہے کہ تاریخی طور پہ پاک بھارت میچ کبھی گھن گھرج سے خالی نہیں ہوتے اور دونوں ٹیموں کے لیئے اس میچ کی نوعیت اک طرح کی جنگ کی سی ہوتی ہے لیکن بھارت کے خلاف میچ میں پاکستانی ٹیم اکیلی دباؤ میں نہیں ہوتی ،،، ابھی تک بھارتی ٹیم بھی اسی فضاء میں یہ میچ کھیلتی چلی آرہی ہے ،،، لیکن اب غالب گمان یہ ہے کہ متواتر فتوحات کے باعث مستقبل قریب میں اس پہ یہ دباؤ موجود نہیں رہے گا اور وہ پہلے سے زیادہ اعتماد سے کھیلتی نظر آئے گی اور اسکی یہ خود اعتمادی والی صورتحال پاکستان کے لیئے اور بھی دل شکن ہوجائے گی - روایتی طور پہ بھارت سے ہونے والے مقابلے کیلیئے ہمیشہ ہی پاکستانی کپتانوں کو بہت سوچ سمجھ کے فیصلے کرنے ہوتے ہیں لیکن اس بار ذرا دیر کے لیئے بھی ایسا نہیں لگا کہ اس میچ کو آفریدی کی جانب سے سیریس لیا گیا تھا- ویسے بھی کپتان کا کام فیصلے کرنے کے علاوہ اور کیا ہوتا ہے اور یہ کسی کپتان کے درست فیصلے ہی تو ہوتے ہیں کہ جو بعض اوقات ٹیم کے کمزور کھیل کو بھی فتح تک لیجاتے ہیں ۔۔۔ پھر آفریدی کوئی نئے کھلاڑی تو ہیں نہیں کہ انہیں پچ کی سمجھ نہ رکھنے کی رعایت دی جاسکے - وہ دو دہائیوں سے ٹیم میں کسی نہ کسی طور شامل چلے آرہے ہیں اور ان یہ توقع رکھنے میں ساری قوم حق بجانب ہے کہ وہ ہر طرح کی پچ کی نوعیت سے باخبر ہونگے یا اسکا صحیح اندازہ لگانے کی اہلیت رکھتے ہونگے لیکن ہفتے کو ایڈن گارڈن میں انکا طویل تجربہ یا ایسا کوئی ہنر مکمل فلاپ رہے - آخر میں یہاں یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ دنیا کی تاریخ میں ایسا کئی بار ہوا ہے کہ گھمسان کی جنگوں کے درمیان بھی جنرلوں اور چلتے ٹورنامنٹوں میں کپتانوں کو تبدیل کیا گیا ہے لہٰذا اس وقت بھی اگر کوئی فوری تبدیلی لے آئی جائے تو یہ کوئی معیوب بات ہرگز نہیں ہوگی کیونکہ اب تو قرائن تو صاف بتا رہے ہیں کہ ہماری ٹیم کا سیمی فائنل تک رسائی پانا بھی ایک معجزہ ہوگا
     
    View the full article
     
  4. Waqas Dar
    ...عاقب علی …آج 23مارچ کا تاریخی دن ، یعنی ’یوم اسلامی جمہوریہ پاکستان‘، جس پر قومی ترانے کے الفاظ میں ’ سایہ خدائے ذوالجلال‘۔۔۔ ایک تاریخی دن، آئین میں درج ملک کا نام اور اس کے قومی ترانے کے ذریعے خدا کے سائے کی موجودگی کا اعتراف۔۔۔ مجھے خوش کردیتا ہے،مگر یہ خوشی ادھوری سی محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ بھی ایک خوشی تو ہے۔ ادھوری خوشی میں سمجھا نہیں؟آصف نے حیرت سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ بھائی یہ ناسمجھی صرف تمہارا ہی مسئلہ نہیں،کئی لوگ اپنی اس شناخت پر ،ملک کی بنیادوں پر اور اپنے آباو اجداد کی تشکیل پاکستان کیلئے دی گئی قربانیوں پر بھی شرمندہ ہیں۔انہیں تو ملک کے فوجیوں کو مختلف محاذوں پر ملنے والی’ شہادت‘ اور کامیاب لوٹنے پر ملنے والا ’غازی‘ کا لقب بھی اپنی چڑ محسوس ہوتا ہے،وہ نہیں چاہتے کہ ملک وہ پاکستان بنے جو اصل میں اسے بننا تھا۔وہ ملک جو ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر تھا، ان کے لیے ایک عزم اور حوصلہ تھا ، جس کیلئے وہ اپنا اضافی وقت، صلاحیتیں دے کر اس کی تعمیر و ترقی دینے کی آرزو کی عملی تعمیل کیلئے کوشاں رہے۔ جملہ ختم ہوتے ہی مزید گہری حیرت میں مبتلا آصف نے فورا کہہ دیا’ یار یہ فلسفیانہ باتیں چھوڑو ،سیدھے اور آسان الفاظ میں بتاؤ تم کہنا کیا چاہتے ہو‘۔یہ یوم پاکستان پر تمہاری خوشی ادھوری کیوں ہے؟ میں نے کہا آج ہم کون سا ’ یوم اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ منا رہے ہیں؟ میں نے سمجھانے کے انداز میں سوال پوچھ لیا۔77 واں یوم پاکستان ہے، درست ، تمہیں آج کے پاکستان میں کن مسائل کا سامنا ہے؟ جواب ملتے ہی دوسرا سوال پوچھا۔ جناب محترم آپ کو گھر میں درپیش مسائل سے آگاہ کروں یا معاشرتی ، سیاسی ، اخلاقی اور معاشی سطح تک پھیلی پرابلمز کی فہرست گنواؤں؟‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ گھر کی باتیں باہر نہیں کرتے ،اس نے زور سے قہقہہ لگایا۔اچھا تو سنو،میرے خیال سے ایک مسئلہ تو مہنگائی ہے؟ دوسرا مسئلہ بے روزگاری ہے،تیسرا بے امنی اور چوتھا کرپشن اور پانچواں بڑا مسئلہ صحت،تعلیم اور انصاف کی بہتر اور بروقت فراہمی نہ ہونا ہے۔ تمہاری فہرست معمولی ردو بدل کے بعد تقریباًدرست ہے،ان سب مسائل سے نجات کیلئے میں تم سے کہوں کہ تمہارے کئی سو ارب ڈالرکئی بینکوں میں ہیں،اگر تم انہیں نکال لو،انہیں درست انداز سے استعمال میں لے آؤ ،تو تم پر موجود قرضے بھی اتر جائیں گے ،ترقی اور تعمیر کا سفر بھی تیز تر ہوجائیگا۔ ارے بھائی کیوں مذاق کررہے ہوں،میرے پیسے بینکوں میں ؟؟ ہا ہا ہا۔۔ ویسے مجھے دل جلانے والا یہ مذاق ہرگز اچھا نہیں لگا۔ قہقہے کے بعد آصف نے دل کی بات کہہ دی۔میں نے فورا سوری کہااور چپ ہوگیاکیونکہ وہ میری گفتگومیں دوسری بار الجھ سا گیاتھا۔ اس نے تھوڑی دیر بعد خود ہی پوچھ لیا،بھائی کیا آپ سچ کہہ رہے ہوکہ میرے کئی سو ارب ڈالر بینکوں میں ہیں؟ میں نے کہا یہ میں نہیں کہہ رہا ،یہ بات موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب نے قومی اسمبلی سے خطاب میں بطور اعتراف کہی تھی کہ ’ماضی میں حکمرانوں نے قومی دولت (یعنی پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی بھاری رقم )لوٹی جس کی مالیت 2سو ارب ڈالر سے زائد ہے،جسے ن لیگ کی حکومت ضرورقومی خزانے میں واپس لے کر آئے گی ۔ تو کیا ہوا ،وہ دولت آگئی ؟ کیوں کہ ن لیگ کی حکومت کو بھی ڈھائی برس سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے؟ آصف نے سنجیدہ لہجے میں سوال کیا۔میں نے کہا یہ سوال تو اسحاق ڈار سے یاپھر ہمارے’ لبرل‘ وزیراعظم سے پوچھنا پڑے گاجو ملکی معیشت کو قرضوں سے لبریز کررہے ہیں،جو پٹرول کی قیمت میں تھوڑی کمی کرتے ہیں مگر ان کے بس میں نہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں ،ان کی کوالٹی پر بھی توجہ دے سکیں،عوام کیا کھا رہی ہے ،کیسا کھارہی ہے،اس پر کوئی توجہ نہیں کیونکہ ان کی نظر صرف ٹیکس کی شرح اور اس کی آمدن پر ہے تاکہ ’زندگی کا کارروبار‘ چلے ،جیسے وہ ملک نہیں کوئی صنعت چلا رہے ہوں جس کی آمدنی سے بینک بیلنس بھرتا اور گھر چلتا ہے۔ اس سے پہلے والی حکومت نے اتنی بڑی رقم کی واپسی کیلئے کچھ نہیں کیا ؟آصف کے سوال پر میں قہقہہ لگانا چاہتا تھا مگر خاموش رہا۔میرے معصوم بھائی ،اس حکومت نے ملک کی 5برس بعد جان چھوڑ دی یہ کیا کم احسان ہے اس کا،اس کی کرپشن اور نااہلی کی داستانیں نہ پوچھ۔سنادی تو سن کر کان لال ہوجائیں گے۔ بس یہ سب دیکھ کر ہی تو دل سوچ میں پڑ جاتا ہے،20کروڑ پاکستانیوں کا یہ حال اور پھر بدحال مستقل نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے، آزادی کے حصول کی داستان سے جڑی، خوشی ادھوری سی لگتی ہے۔میرا تو خیال ہے کہ لوٹی دولت واپس لائی جائے اور کرپشن کو دہشت گردی سے کسی بھی درجے میں کم جرم قرار نہ دیا جائے۔ اب تم ہی بتاؤ چند ’سو‘ ناسمجھ دانشورجو یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی مسائل کا حل اس کی نظریاتی بنیادوں میں تبدیلی سے وابستہ ہے ،جو یہ چاہتے ہیں کہ بزرگوں کی قربانیوں کو بلڈوز کردیا جانا چاہیے،اپنی ماضی کی تابناکی کو بھول کر وہ خیالات بلا چو چراں قبول کرلئے جائیں جن پر وہ ’ایمان ‘ لا چکے ہیں۔کیا درست ہوگا؟۔اور ہاں یہ بھی بتاؤ ،چند حکمرانوں کے دوسروں کی جنگ میں جڑ جانے کے غلط فیصلوں ، کرپشن اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے کیا ملک کو ویسا بنادینا چاہیے کہ ہر طرف آزادی ہو،’مادر پدر آزادی‘؟۔ اس سوچ پر توصرف میں نے اتنا ہی کہنا ہے کہ مسائل کا حل ’ سیاستدانوں‘ ،’بیورکریٹس ‘اور ملکی ’کرتا دھرتاؤں‘کے ذریعے قانون سازی پر قانون سازی کا کھیل کھیلنا نہیں،ملک میں جو قوانین ہیں ان پر ہر صورت میں عمل کو ممکن بنانا ہے،ان سے یہ کام تو ہوتا نہیں،اس معاملے پر ان کی آواز نکلتی ہے ، نہ ہی کوئی تحریر سامنے آتی ہے۔ اب تم سمجھے میری ادھوری خوشی؟ آصف تو شائدسمجھ ہی گیا ہو ،آپ کا کیا خیال ہے؟۔

    View the full article
  5. Waqas Dar
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ میڈیا پہ نشر ہونے والی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے کہ جس کے تحت ٹریبونل نے این اے 108 منڈی بہاءالدین سے 2013 کے الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پہ منتخب ہونے والے سابق رکن قومی اسمبلی اعجاز چوہدری کو گریجویشن کی جعلی ڈگری رکھنے پہ انہیں کسی عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیدیا تھا اور وہاں مقابلے میں دوسرے نمبر پہ رہنے والے نون لیگ کے ممتاز احمد تارڑ کو فاتح قرار دیدیا تھا - اعجاز چوہدری الیکشن تو منڈی بہاءالدین سے لڑتے ہیں کہ جو انکا پشتینی علاقہ ہے لیکن انکی رہائش اب اسلام آباد میں ہے وہ آج کل پی ٹی آئی میں ہیں اس سے قبل مسلم لیگ نون میں تھے اور اس سے پہلے مسلم لیگ ق کا حصہ تھے لیکن گزشتہ دونوں الیکشن انہوں نے بطور آزاد امیدوار لڑے تھے وہ پہلے بھی دو بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں اور اس ملک میں ایک وہ ہی نہیں، نااہل قرار پانے والے کئی ارکان اسمبلی ایسے ہیں کہ جو کئی بار پہلے بھی رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور ملک کے سیاسی نظام میں اپنی دولت کے بل پہ بے پناہ طاقت کے حامل شمار کیئے جاتے ہیں اور پارٹیاں بدلتے رہنے کی لمبی تاریخ رکھتے ہیں - یہ اور انکی طرح سیاسی اشرافیہ کے چند بااثر لوگ وہ ہیں کہ جنکے پیچھے سیاسی پارٹیاں اپنے ٹکٹ لیئے بھاگتی پھرتی ہیں اور وہ کبھی کسی لیڈر تو کبھی لیڈر کے دست و بازو بنے دکھائی دیتے ہیں اور انکے لیئے سیاسی اخلاقیات کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں کہ ڈوبتے جہاز سے کود کر نئے اور مضبوط جہاز میں جا بیٹھا جائے میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن کمیشن میں کاغزات نامزدگی داخل کرتے وقت جعلی ڈگری پیش کرنے کا معاملہ کسی طور کوئی معمولی معاملہ نہیں اور اس طرح کے جرم سے جڑے کئی معاملات ایسے ہیں کہ جو بہت اہم ہیں اور ان پہ بڑی سنجیدگی سے غور کیا جانا ازحد ضروری ہے مثلاً یہ کہ 1- جعلی ڈگری پیش کرنے والا دھوکا دہی کے علاوہ جھوٹا حلف اٹھانے کے جرم کا ارتکاب بھی کرتا ہے کیونکہ الیکشن میں حصہ لینے کیلیئے کاغزات نامزدگی جمع کراتے وقت ان میں بیان کردہ کوائف کی درستگی اور پیش کی جانے والی اسناد کے مستند ہونے کا حلف نامہ بھی لازمی جمع کرانا پڑتا ہے تو یہ جھوٹا حلف اٹھانے کا جرم بھی ازخود ہی ہوجاتا ہے 2- یہ اپنے حلقے کے لاکھوں ووٹروں کے اعتماد کو دھوکا دینے کا بھی جرم ہے اور ساتھ ہی الیکشن کے نام پہ پیسے اور توانائی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ان وسائل کے استعمال کے باوجود ایک غلط بندہ کامیاب ہوگیا جبکہ کاغذات کی تصدیق و توثیق یا اثاثوں سے متعلق گوشواروں کی تفتیش اور چھان بین کے لیئے اگر الیکشن کمیشن کو مناسب وقت مل جاتا تو جعلی ڈگری یا غلط اثاثوں والے امیدوار کا کلیئر ہونا ہی ممکن نہ رہتا 3- ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی امیدوار کے نااہل قرار دیئے جانے پہ الیکشن کمیشن اس حلقے میں دوسرے نمبر پہ ووٹ لینے والے کو اسکی جگہ فاتح قرار دے دیتا ہےجس سے اکثر اس حلقے کی جائز نمائندگی نہیں ہو پاتی اس آخری نکتے کی وضاحت کچھ اس طرح سے ہے کہ دوسرے نمبر پہ آنے والا اپنے عللاقے کا درست طور پہ نمائندہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کو اکثریتی رائے نے بہرحال مسترد کردیا ہوتا ہے اور یہ مسئلہ اس وقت اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے کہ جب پہلے اور دوسرے نمبر پہ آنے والوں کے درمیان ووٹوں کا فرق زیادہ ہو یا 2 سے زائد امیدواروں نے بھی مناسب تعداد میں ووٹ لے لیئےہوں جیسا کہ منڈی بہاءالدین کے اس حلقے کو بطور مثال سامنے رکھا جاسکتا ہے کہ جہاں سنہ 2013 میں جیتنے والے سابقہ فاتح نے 85 ہزار ووٹ لیئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پہ نون لیگ کے ممتاز احمد تارڑ نے تقریباً 74 ہزار ووٹ لیئے تھے لیکن 3 دیگر ہارنے والے امیدوارں نے بھی مجموعی طور پہ 73 ہزار ووٹ لیئے تھے اور اب اگر اعجاز چوہدری کی نااہلی کے نتیجے میں ممتاز تارڑ کو دوسرے نمبر پہ ہونے کی وجہ سے فاتح قرار دیا گیا ہے تو پھر یہ سنگین حقائق سامنے آتے ہیں کہ اس حلقے میں اگر 74 ہزار افراد نے انہیں پسند کیا ہے تو اس کے دگنے سے زائد یعنی ایک لاکھ اٹھاون ہزار ڈالے گئے ووٹوں میں انہیں مسترد کیا گیا ہے گویا ڈالے گئےووٹوں کی دو تہائی تعداد انکے خلاف ہونے کے باوجود وہ اس حلقے کی نمائندگی کے مجاذ قرار پائے ہیں - جبکہ ایک مسترد کردہ فرد کو لابٹھانے کی جگہ یہاں پہ دوبارہ الیکشن کرانا زیادہ مفید رہتا کہ جس میں جعلی ڈگری والے امیدوار کو حصہ لینے کی اجازت نہ ہوتی اسی ضمن میں ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ عدالت نے وقتاً فوقتاً کئی جعلی ڈگری یافتگان کو مجرم ثابت ہونے پہ نااہل قرار دے تو دیا لیکن قوم سے کیئے جانے والے انکے فراڈ کے جرم کی ضابطہ فوجداری کی روشنی میں انہیں الگ سے کوئی سزا نہیں دی جبکہ قوم کے ساتھ اس فراڈ کا سلسلہ بند کرنے کیلیئے لازمی ہے کہ ایسے فراڈ کے مرتکبین کو محض سیاسی نااہلی کی سزا دینا کافی نہ سمجھی جائے بلکہ ریاست کی مدعیت میں انکے خلاف ضابطہء فوجداری کے تحت فراڈ کے جرم کے ارتکاب کا باقاعدہ مقدمہ قائم کرکے تعزیرات پاکستان کی رو سے ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا بھی دی جانی چاہیئے کیونکہ سخت سزا نہ ملنے سے دیگر اسی طرح کی فریب کار ذہنیت کے لوگوں پہ عبرت کا تاثر قائم نہیں ہوپاتا اور وہ اس طرح کے جرائم سے باز نہیں آتے اور یوں قوم کا پیسہ اور توانائی ضائع ہوتا رہتا ہے اور ملک کا سیاسی نظام ایسے سیاسی انویسٹرز اور طالع آزماؤں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہتا ہے- اب وقت آگیا ہے اس ضمن میں متعلقہ انتخابی قوانین اور ضابطہء فوجداری میں بھی درکار ترامیم کرلی جائیں تاکہ ملک میں ایک مستحکم سیاسی نظام اپنے پیروں پہ کھڑا ہوسکے

    View the full article
  6. Waqas Dar
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ وطن عزیز کو آزاد ہوئے 68 برس ہوچلے ہیں لیکن ہم اہل وطن ابھی تک نہ ایک قوم کے سانچے میں ڈھل سکے ہیں اور نہ ہی کوئی مشترکہ نصب العین اپنا سکے ہیں ،، عملی صورت یہ ہے کہ ہم ایک بڑے سے خلاء میں تیر رہے ہیں اور بے وزنی کے عالم میں ادھر ادھر ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے کبھی ہمارا منہ نیچے کو ہوجاتا ہے تو کبھی پیر ،،، ابھی ہم کو دائیں کو مڑتے مڑتے بائیں کی جانب ہولیتے ہیں اور بائیں کی طرف جانے کا قصد کرتےہیں تو ہمارا رخ دائیں کی طرف ہوجاتا ہے ۔۔۔ یہ سب اسلیئے ہے کہ وہ اہم کام جو قومیں اپنی زندگی کی ابتداء ہی میں کرلیتی ہیں انہیں ہم کبھی سجنیدگی سے نہیں لیتے اور اسکے برعکس فضول اور بے حیثیت کاموں میں مشغول و مصروف رہنے ہی کو غنیمت گردانتےہیں اب اسی چلن کو لیجیئے کہ اس ملک میں جب جس کا دل چاہے بہت آسانی سے کسی بھی وقت کسی دوسرے کو غدار اور دشمن کا ایجنٹ قرار دے ڈالتا ہے اور اس حوالے سے جو بھی زہر اگل سکتا ہے اس میں کوئی کمی نہیں رہنے دیتا ،،، لیکن اسکے بعد قومی زندگی میں متعدد مرتبہ ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آتے رہتے ہیں کہ جنہیں کبھی کسی نے غدار اور ملک دشمن قرار دیا تھا بعد میں وہی الزامات لگانے والے انہی کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاتے پائے جاتے ہیں ،،، کچھ وقت کے بعد آج کے دوست پھر سے دشمن بن جاتے ہیں اور پھر الزام تراشیوں اور غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جانے لگتے ہیں ،،، یہ سلسلہ وقفے وقفے سے چلتا چلا جارہا ہے اور لگتا یہ ہے کہ اگر اسکی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا کو ہمیں ایک فاترالعقل قوم باور کرنے سے روکا نہیں جاسکے گا کیونکہ لیکن ایسی بے احتیاط و بے لگام دشنام طرازی اور غدار سازی کا معاملہ دنیا بھر میں بھر میں کسی بھی ملک میں دیکھنے میں نہیں آتا ۔بے شک دنیا میں اور کئی ملکوں میًں بھی سیاست میں آپس میں مخالفتیں بھی ہوتی ہیں‌ اور کڑی سے کڑی سے کڑی تنقید بھی لیکن یوں ہماری طرح منہ پھاڑ کر مخالف کو غدار اور وطن دشمن قرار نہیں دیا جاتا گزشتہ دنوں ایک بار کچھ سیاسی لوگوں کی طرف سے کچھ سیاسی افراد کو ''غدار'' اور وطن دشمن قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ بھارت سے ملے ہوئے ہیں اور وہاں سے فنڈنگ وصل کرکے اسکے مفادات کی آبیاری کررہے ہیں ۔۔۔ یہ الزامات سچ ہیں یا جھوٹ ، لیکن معمولی الزامات ہرگز نہیں ہیں اور میڈیا کے سامنے ایک کھلی پریس کانفرنس میں لگائے گئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان الزامات کو لگانے والوں کو یونہی نہ جانے دیا جائے بلکہ ان الزامات کی باضابطہ و کھلی تحقیقات کی جائیں اور اس ضمن میں ایک آزاد و با اختیار عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور اسکے سامنے اس تازہ الزام کے علاوہ ماضی قریب میں اسی نوعیت کےلگائے جانے والے کئی اور ایسے سنگین الزامات کی بھی چھان بین کی جائے کہ جو کئی نامور سیاستدانوں اور مختلف طبقات زندگی کے سرکردہ لوگوں و علماء وغیرہ پہ عائد کیئے گئے ہیں جسکی ایک مثال ایک ممتاز صنعتکار صدر الدین ہاشوانی کی جانب سے اپنی کتاب '' سچ کا سفر'' میں لگئے جانے والے وہ سنگین الزامات بھی ہیں کہ جو انہوں نے سابق صدر آصف زرداری پہ عاد کیئے ہیں ،،، جو اگر سچ ہوں تو ملک میں قانون کی عملدرآمد پہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے یہ بات بہت اہم ہے اور اچھی طرح سے زہن نشین کلرلی جانی چاہیئے کہ کہ جب تک ہم اس طرح کی سوچ اور طزعمل کا خاتمہ نہیں کردیتے کہ جس کے تحت بے جا و غلط الزام تراشی کو عام وطیرہ بنالیا گیا ہے تب تک کسی بھی شعبے میں مثبت پیشرفت ممکن نہیں ہے ،،، اب اس طریقہءکار کو معمول بنانا ہوگا کہ اگر کوئی کسی پہ الزام لگاتا ہے تو وہ یہ کام عدالت میں جاکے کرے یا کوئی ایسا مستقل بنیادوں پہ تحقیقاتی کمیشن الگ سے وضع کردیا جائے کہ جو اس قسم کے معاملات پہ خصوصی دھیان دے اور اسکی باضابطہ تحقیقات سے پہلے کسی کو یوں برسرعام پریس کانفرنس میں یا کتاب لکھ کر ''الزام الزام کا کھیل'' کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے تاہم اگر کوئی الزام پایہ ثبوت کو پہنچتا ہو تو اس حوالے سے درکار قانونی کارروائی کو بھی یقینی بنایا جائے ورنہ جھوٹا الزام لگانے والے کو اسی جرم کی سزا دی جائے کہ جسکا الزام اسنے دوسرے پہ لگایا ہو،،، بس یہی وہ جائز طریقہ کار ہے کہ جس سے ناجائز کردار کشی کی اس روش کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور قوم کے افراد کو کسی کے مفادات کی جنگ کا چارہ بننے سے بچایا جاسکتا ہے

    View the full article
  7. Waqas Dar
    ... فاضل جمیلی ...ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دھرم شالا میں ہونے والا ٹاکرا ہوگا یا نہیں؟ ورلڈکپ کے کوالیفائنگ میچ شروع ہوجانے کے باوجود ابھی تک کوئی واضح صورت سامنے نہیں آ رہی۔بھارت کے مذہبی انتہاپسندوں اور سابق فوجیوں کی تنظیم نے کھیل کو بھی کھلواڑ بنانےکی ٹھان رکھی ہے۔کوئی میچ سے قبل پچ کھودنے کی دھمکی دے رہا ہےتوسرحدی جھڑپوں کے بہانے مظاہروں پر مظاہرے کیے جارہا ہے۔ ایک طرح سے یہ میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے کے بجائے کانگریس بمقابلہ بی جے پی اور ایکس سروس مین بمقابلہ بزنس مین بن گیا ہے۔ویسے بھی جب کبھی پاکستان اور بھارت کے مابین میچ گئے وہ محض کرکٹ میچ نہیں تھے بلکہ ان کی اہمیت ایک کھیل سے زیادہ ہی رہی ہےاور جب کھیل کے میدان میں اتنی گرما گرمی ہو تو اس کے لیے یقینی طور پر کسی ٹھنڈے مقام ہی کا انتخاب ہونا چاہیے جیسا کہ دھرم شالا کی شکل میں کیا گیا۔ لیکن دھرم شالا سے کرکٹ کا دیس نکالا کرنے والوں کے سامنے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) اور بورڈ آف کنڑول فارکرکٹ انڈیا (بی سی سی آئی)کے ارباب ِ بست و کشاد کی بے بسی دیدنی ہے۔اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مثال بھی ایسے لاوارث بچے کی سی ہے جسے کوئی بھی اپنانے کے لیے تیار نہ ہو۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی غیرمستقل پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے حوالے سے ہونے والی بے توقیری بھی قومی ٹیمکی ناقص کارکردگیکی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ پاکستانی ٹیم حال ہی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں جس برے طریقے سے ہاری ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اس سے کچھ زیادہ امیدیں رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ایسے میں ایک معصومانہ سا یہ مشورہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں سیکورٹی نہ ملنے کے بہانے قومی کرکٹ ٹیم کو مزید ذلت و رسوائی سے بچانے کے لیےٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔

    View the full article
  8. Waqas Dar
    ... فاضل جمیلی ...ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دھرم شالا میں ہونے والا ٹاکرا ہوگا یا نہیں؟ ورلڈکپ کے کوالیفائنگ میچ شروع ہوجانے کے باوجود ابھی تک کوئی واضح صورت سامنے نہیں آ رہی۔بھارت کے مذہبی انتہاپسندوں اور سابق فوجیوں کی تنظیم نے کھیل کو بھی کھلواڑ بنانےکی ٹھان رکھی ہے۔کوئی میچ سے قبل پچ کھودنے کی دھمکی دے رہا ہےتوسرحدی جھڑپوں کے بہانے مظاہروں پر مظاہرے کیے جارہا ہے۔ ایک طرح سے یہ میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے کے بجائے کانگریس بمقابلہ بی جے پی اور ایکس سروس مین بمقابلہ بزنس مین بن گیا ہے۔ویسے بھی جب کبھی پاکستان اور بھارت کے مابین میچ گئے وہ محض کرکٹ میچ نہیں تھے بلکہ ان کی اہمیت ایک کھیل سے زیادہ ہی رہی ہےاور جب کھیل کے میدان میں اتنی گرما گرمی ہو تو اس کے لیے یقینی طور پر کسی ٹھنڈے مقام ہی کا انتخاب ہونا چاہیے جیسا کہ دھرم شالا کی شکل میں کیا گیا۔ لیکن دھرما شالا سے کرکٹ کا دیس نکالا کرنے والوں کے سامنے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) اور بورڈ آف کنڑول فارکرکٹ انڈیا (بی سی سی آئی)کے ارباب ِ بست و کشاد کی بے بسی دیدنی ہے۔اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مثال بھی ایسے لاوارث بچے کی سی ہے جسے کوئی بھی اپنانے کے لیے تیار نہ ہو۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی غیرمستقل پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے حوالے سے ہونے والی بے توقیری بھی قومی ٹیمکی ناقص کارکردگیکی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ پاکستانی ٹیم حال ہی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں جس برے طریقے سے ہاری ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اس سے کچھ زیادہ امیدیں رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ایسے میں ایک معصومانہ سا یہ مشورہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں سیکورٹی نہ ملنے کے بہانے قومی کرکٹ ٹیم کو مزید ذلت و رسوائی سے بچانے کے لیےٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔

    View the full article
  9. Waqas Dar
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ بہت عرصہ گزر چلا تھا کہ کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کے کسی میدان سے کوئی خوشخبری سنائی نہیں دی تھی اور ایک طویل مدت سے کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی سبز یونیفارم زیب تن کیئے کسی کھلاڑی کو گولڈ میڈل پاتے نہیں دیکھا گیا تھا اور لگتا یوں تھا کہ گویا کامیابی و تقدیر کی دیوی ہم سے روٹھ ہی گئی ہے ،،، لیکن پھر 12 فروری کو بھارت کے شہر گوہاٹی سے ایک نہایت خوش کن خبر ملی کہ اس روز بھارت کو اسی کے میدان میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے 12 ویں ساؤتھ ایشین گیمز کے فائنل میں ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دیدی اور یوں طلائی تمغے کا انعام پایا - یہ کامیابی اس لیئے بھی غیرمعمولی ہے کیونکہ پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کو اسی کے میدانوں میں دھول چٹائی ہے اور کسی نہ کسی حد تک ان کئی شکستوں کا غم غلط کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو حالیہ برسوں میں کرکٹ کے کئی مقابلوں میں پاکستان کو بھارت کے مقابل اٹھانی پڑی ہیں- گویا جو کام کرکٹ کے گلیمر والے نامور کھلاڑی نہ کرسکے وہ ہاکی کے ان غیرمعروف سے شاہینوں نے بخوبی کردکھایا لیکن یہاں میرا سوال یہ ہے کہ اس بڑے کانامے کے باوجود کتنوں کو بھلا یہ معلوم ہے کہ یہ اویس الرحمان کون ہے کہ جس کے واحد گول کے بل پہ پاکستان نے بھارت کے مقابل اس فائنل میں فتح پائی تھی اور میڈیا میں کتنی جگہ اسکے انٹرویو لیئے گئے یا اسکی شخصیت اور فن پہ کوئی تفصیلی رپورٹ دکھائی گئی یا اس تاریخی کارنامے کے بعد پوری ٹیم کا کوئی تفصیلی تعارف کہیں پیش کیا گیا ہو ،،،؟ جبکہ اسکی جگہ اگر کرکٹ کے کسی مقابلے میں کسی کھلاڑی کی وجہ سے کامیابی ملی ہوتی تو میڈیا میں اس کھلاڑی کے کتنے ہی روز تک قصیدے پڑھے جاتے اور انعامات و مال و متاع کا بڑا ڈھیر اسکے بلکہ پوری ٹیم کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے اس کارنامے کے باوجود یہ ٹیم ابتک تقریباً گمنامی کی حالت میں ہے جبکہ ماضی میں ایک وقت وہ تھا کہ ملک کا بچہ بچہ اپنے ایسے ''ہیرو'' بلکہ پوری ٹیم کے ارکان کے بارے میں خاصی معلومات رکھتا تھا اور ان دنوں تو میڈیا کی رسائی یوں ہر گھر تک نہ تھی ، نہ ہی ٹی وی ہر کسی کے دسترس میں تھا اور نہ ہی اور نہ ہی آج کی طرح 100 کے لگ بھگ چینل ناظرین کے تصرف میں تھے ،،، لیکن وہ دن بھی آج ہی کی طرح کے تھے کہ جب کرکٹ کے میدانوں سے نہیں بلکہ ہاکی ہی کے میدان سے پاکستان کو سرخروئی نصیب ہوا کرتی تھی یا پھر اس بوجھ کو کسی حد تک اسکواش نے سنبھالا دیا ہوا تھا - کرکٹ کا گلیمر اپنی جگہ لیکن اصل اہمیت تو کامیابی کی ہے اور تمغوں و اعزازات پانے کی ہے اور اس حوالے تو ہاکی طویل عرصے تک کئی بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں ہمارے قومی افتخار کی علامت رہی اور گو ہماری اپنی کوتاہیئوں کی وجہ سے اس پہ زوال آچکا ہے لیکن پھر جب ایک بڑی مدت کے بعد ہماری ہاکی ٹیم نے ایک اہم بین القوامی ایونٹ میں سبز ہلالی پرچم کو سربلند کردیا ہے تو پھر آخر اسکی خاطر خواہ پزیرائی کیوں نہیں کی گئی کیوں پاکستان سپر لیگ کی چکاچوند میں الجھے میڈیا نے اسکی اس کامیابی کو یوں ہوا میں اڑا دیا کہ جیسے یہ کوئی اہم بات ہی نہ ہو جبکہ سپرلیگ کے نام پہ ایسے مقابلوں کو بھی سر پہ اٹھا رکھا ہے کہ جنکے نتائج کی کسی طرح کی کوئی بین الاقوامی اہمیت ذرا بھی نہیں ہے اور جس میں ایک شہر کے نام پر بنائی گئی ٹیم میں بھی اکثر دیگر شہروں کے کھلاڑی زیادہ ہوتے ہیں بلکہ غیرملکی کھلاڑیوں کو بھی شامل کرکے نجانے کس نوعیت کا ملغوبہ تیار کیا جاتا ہے . ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور اسکی وجہ سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دنیا بھر کے کئی میدانوں میں پوری شان و شوکت سے سربلند کرکے لہرایا گیا ہے لیکن اگر اس کھیل کی جانب حکومت اور میڈیا کی یہی نظراندازی جاری رہی تو ہاکی کو پاکستان کا قومی کھیل قرار دینے کا دعویٰ قطعی مضحکہ خیز ہوکر رہ جائے گا اور نئی نسل اس فراموش ہوتے کھیل کی جانب رخ بھی نہیں کرے گی اور یوں قومی افتخار کی ایک بڑی علامت ہمارے لیئے ماضی کی ایک بھولی بسری یاد بن کر رہ جائے گی

    View the full article
  10. Waqas Dar

     
     
    حکایات سعدی رحمتہ اللہ علیہ
    حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت لقمان سیاہ فام تھے۔ آپ ایک دن بغداد کے ایک بازار سے گزررہے تھے کہ ایک شخص نے اپنے گھرکی تعمیر کے لیے آپ کواپنا بھاگا ہوا غلام سمجھ کرمٹی کھودنے کے کام پر لگادیا۔ آپ وہاں ایک سال تک مٹی کھودنے کی سخت مشقت برداشت کرتے رہے ایک سال بعد اس شخص کابھاگا ہوا غلام واپس لوٹ آیا وہ آپ کوجانتا تھا۔
    اس نے آپ کی جوحالت دیکھی تو آپ کے قدموں میں گرپڑااور معافی مانگنے لگا۔ 
    اس شخص کوجس نے آپ کو مٹی کھودنے پر لگایا تھا جب آپ کے مقام ومرتبہ کے متعلق علم ہوا تواسے بھی اپنی غلطی کااحساس ہوا اور اس نے بھی نہایت عاجزی کے ساتھ آپ سے معافی مانگی۔
    آپ نے فرمایا کہ جو ہونا تھا وہ توہوچکا میں اس کام میں بھی گھاٹے میں نہیں رہااور میں نے دانائی کی ایک بہت قیمتی بات یہاں سے سیکھی اور وہ یہ کہ اپنے سے کم کوکبھی کسی مصیبت میں مبتلا نہیں کرنا چاہئے۔
     
    میرابھی ایک غلام ہے جس سے میں ہر قسم کے کام لیتا تھالیکن اس مشقت کواٹھانے کے بعد مجھے معلوم ہوگیا کہ اس قسم کے کاموں سے کس قدر روحانی وجسمانی تکلیف ہوتی ہے اب میں بھی اپنے غلام سے ہرگز ایسے کام نہ لوں گا جس سے اسے روحانی وجسمانی تکلیف اٹھانی پڑے۔ 

     :مقصودبیان
    حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ رحم دلی اور خداتری ایسے اوصاف ہیں جن کی بدولت انسان بلند مرتبہ کوپاسکتا ہے۔
    جب تک کوئی شخص تکلیف میں مبتلا نہ ہووہ کسی دوسرے کی تکلیف کونہیں سمجھ سکتا۔ انسان کی عظمت اسی میں پوشیدہ ہے کہ وہ کسی کی مصیبت وتکلیف کااحساس کرے بجائے اس کے کہ جب وہ وخود اس مصیبت وتکلیف میں مبتلا ہواسے اس کااحساس ہو۔ اللہ عزو جل کے بھیجے ہوئے انبیاء کرام ﷺ نے بھی ہمیں انہی باتوں کی تعلیم دی ہے۔ اگر ہم ان دانائی کی باتوں میں غور کریں توہم اپنی زندگیوں میں بہتری لاسکتے ہیں اور ایک کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔
     

  11. Waqas Dar
    حضور کی بڑی بیٹی ،حضرت زینب رضی اللہ عنہا 

    تحریر : حافظ محمد ادریس 

    اعلیٰ ایمان ۔ کڑا امتحان :۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام انسانوں میں سے سب سے زیادہ سخت ابتلا و امتحان اللہ کے رسولوں پر آتاہے ۔ ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا کہ آپ کو سب سے زیادہ ستایا گیا ۔ یہ بھی فرمایا کہ انسان کا امتحان اس کے ایمان کے مطابق ہی ہوتاہے ۔ رسول رحمت نے اپنی زندگی میں بے پناہ مشکلات برداشت کیں ۔ انسان اپنی ذات سے زیادہ اپنی اولاد کی تکالیف و مصائب سے متاثر ہوتاہے ۔ آنحضور کی بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جب ہجرت کے لیے نکلیں تو دشمنوں نے ان کا تعاقب کیا اور انہیں ستایا گیا ۔ بدبختوں نے یہ خیال نہ کیا کہ وہ انہی کی قوم کی بیٹی اور بہو ہیں۔

    حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد :۔

    حضرت زینب کے خاوند ابوالعاص نے جو خود ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے ، آنحضور کی ہجرت کے بعد سید ہ زینب کو مدینہ روانہ کرنا چاہا لیکن اس وقت یہ ممکن نہ ہو سکا ۔ جنگ ِ بدر میں ابوالعاص کافروں کی فوجوں میں تھے ، وہ شکست کے بعد جنگی قیدی بنے ۔ حضرت زینب نے ان کی رہائی کے لیے مکہ سے اپنے زیورات بھیجے ۔ ان زیورات میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ نے اپنی بیٹی کو عطا فرمایا تھا ۔ آنحضور اس ہار کو دیکھ کر آبدیدہ ہو گئے ۔ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ یہ بیٹی کے پاس ماں کی یاد گار ہے ۔ اگر تم اجازت دو تو اسے واپس کر دیا جائے ۔ صحابہ نے بخوشی اس تجویز سے اتفاق کیا ۔ آپ نے وہ ہار حضرت زینب کو واپس بھجوا دیا ۔ابوالعاص رہا ہوکر مکے جانے لگے تو آنحضور نے فرمایا کہ زینب کو مدینہ بھیج دو ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اس حکم کی تعمیل کریں گے ۔ 

    رذالت کی آخری حد :۔

    ایفائے عہد کے لیے واپس جاتے ہی ابوالعاص نے حضرت زینب کو اپنے بھائی کنانہ بن ربیع کے ساتھ مدینہ روانہ کیا ۔ کافروں کو یہ بات پسند نہ تھی ۔غزوہ بدر میں آنحضور سے شکست کے بعد ان کی آتش انتقام اور بھی بھڑک چکی تھی۔ انہوں نے بنت رسول کا تعاقب کیا اور وادی ذی طوٰی میں انہیں جا لیا ۔یہ رذالت کی آخری حد تھی کہ ایک شخص کی دشمنی کا بدلہ اس کی بے سہارا بیٹی سے لیا جارہاتھا۔ سیدہ زینب اونٹ پر سوار تھیں اور اس وقت وہ حاملہ بھی تھیں ۔ کنانہ بن ربیع نے اپنی خالہ زاد بہن اور بھابی ،سیدہ زینب کا دفاع کیا مگر اس حملے اور ہل چل میں اونٹ بدکا اور بنتِ رسول نیچے گر گئیں ۔ وہ زخمی بھی ہوئیں اور ان کا حمل بھی ضائع ہو گیا۔ یہی درد ناک واقعہ سیدہ کے لیے جاں لیوا ثابت ہوا۔
    اس موقع پر ابو سفیان بھی موجود تھے ۔ انہوں نے موقع کی نزاکت کو بھانپ لیا اور بیچ بچاو کی کوشش کی ۔ظاہر ہے کہ کنانہ اس واقعہ سے مشتعل ہو گئے تھے اور حملہ آوروں سے مرنے مارنے پر تل گئے تھے ۔طے یہ پایا کہ اس وقت تو کنانہ اور زینب مکہ واپس چلے جائیں ۔ پھر کسی وقت خاموشی سے مدینے کی طرف روانہ ہو جائیں ،ان سے کوئی تعارض نہیں کیاجائے گا ۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد حضرت زینب پھر اپنے دیور کنانہ کے ساتھ مکہ سے اس مقدس سفر پر روانہ ہوئیں اور آنحضور کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدبن حارثہ نے طے شدہ مقام پر ان کا استقبال کیا اور انہیں لے کر مدینہ پہنچے۔ آنحضور کواس ظالمانہ حملے کا بڑا دکھ ہوا ۔ بعض روایات کے مطابق حضرت زینب اس کے بعد مسلسل بیمار رہنے لگیں ۔ 

    مودب داماد :۔

    آنحضور کی دیگر صاحبزادیوں کی طرح یہ بیٹی بھی بڑی عظیم تھیں ۔ ان کے خاوند لقیط بن ربیع المعروف بابی العاص ان کے خالہ زاد بھی تھے ۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ حضرت زینب تو دعوت ِ اسلام سنتے ہی مسلمان ہو گئیں لیکن ان کے خاوند جنگ بدر تک حالت کفر ہی میں رہے ۔ بعض انسانوں میں کچھ خوبیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو ہمیشہ یاد رکھا جاتا ہے ۔ حالت کفر میں ہونے کے باوجود ابو العاص نے آنحضور کی ہمیشہ تعظیم و تکریم اور عزت و احترام کو ملحوظ رکھا ۔ آنحضور سے کبھی اونچی آواز میں بات نہ کی اورآپ کی بیٹی کے ساتھ بھی بہترین سلوک کرتے رہے ۔ آنحضور کی دو بیٹیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم آپ کے چچا ابو لہب کے دو بیٹوں سے بیاہی گئی تھیں لیکن ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی ۔ اسلام دشمنی میں اپنے باپ کے دباو پر انہوں نے آنحضور کی بیٹیوں کو طلاق دے دی تھی۔ جناب ابوالعاص پر کفار نے بڑا دباو ڈالا کہ وہ بھی یہ حرکت کریں لیکن وہ انتہائی شریف النفس اور صلہ رحمی کرنے والے انسان تھے ۔ انہوں نے یہ جرم کرنے سے صاف انکار کر دیا ۔ 

    دوسری اسیری :۔

    جیسا کہ پہلے بیان ہوا، ابو العاص جنگ بدر میں کافروں کے ساتھ آئے تھے لیکن خوش دلی کے ساتھ نہیں ۔ اس دوران وہ گرفتار ہوئے مگر قبول اسلام کا اعلان نہ کیا۔ وہ کسی مناسب موقع پر اعلان کر کے داخل اسلام ہونا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ ابوالعاص کے پاس لوگوں کا بہت سا مال تجارت تھا جسے انھوں نے شام کے علاقے میں تجارت کے ذریعے کافی نفع بخش بنا دیا ۔ اتفاق سے شام سے واپسی پر مسلمانوں کے ایک دستے نے اس تجارتی قافلے کو روکا اور سارا سامان قبضے میں لے کر قریشی تاجروں کو گرفتار کر کے مدینہ لے آئے ۔ ابو العاص کی بطور اسیر مدینہ منورہ میں یہ دوسری حاضری تھی ۔ ان کے حسن سلوک کی وجہ سے آنحضور ان کا بدلہ بھی اتارنا چاہتے تھے اور صلہ رحمی کا حق بھی ادا کرنا ضروری سمجھتے تھے لیکن آپ نے خود کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ صحابہ سے مشاورت کے بعد ہی ابو العاص کا سامان انہیں واپس کیا ۔ 

    قبول اسلام کا اعلان :۔

    اس عرصے میں اسلامی احکام کے مطابق ابوالعاص اور حضرت زینب کے درمیان تفریق ہو چکی تھی ۔ ابو العاص اگرچہ دل سے مسلمان ہو چکے تھے مگر اس کا اظہار باقی تھا ۔ اس کا اظہار کیے بغیر انہیں مسلمان شمار نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ ذہناً وہ اب اس کے لیے تیار تھے ۔ وہ مختلف لوگوں کا مال تجارت لےکر مکہ واپس آئے اور سب کی امانتیں اور رقوم مع منافع ان کو واپس کر دیں پھر انہوں نے تمام قریش سے اپنے بارے میں گواہی لی کہ ان کے ذمے کسی کا کوئی لین دین تو نہیں ۔ سب نے گواہی دی کہ نہیں ۔ان سے کسی کو کچھ لینا نہیں ہے ۔ پھر ان کی امانت و دیانت پر سب نے یک زبان شہادت دی۔ کافروں سے یہ گواہی لینے کے بعد انہوں نے مکے میں مجمع عام میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا اور پھر ہجرت کر کے مکے سے مدینہ آ گئے ۔ یہ صلح حدیبیہ کے بعد کی بات ہے جب آنحضور اور قریش کے درمیان معاہدہ ہو چکا تھا ۔ ابو العاص کے مدینہ آنے کے بعد آنحضور نے تجدید نکاح کی اور سابقہ حق مہر پر ہی اپنی بیٹی کو حضرت ابوالعاص کے ہاں بھیج دیا ۔

    داغ ِ مفارقت :۔

    ہجرت کے وقت زخمی ہونے کی وجہ سے سیدہ زینب مستقل طور پر علیل رہنے لگیں۔ آنحضور اپنی بیٹی کی دل جوئی کی پوری کوششیں کرتے مگر انکی صحت بحال نہ ہو سکی ۔ 8 ھ میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اپنی صاحبزادی کی وفات پر آنحضور کو بڑا صدمہ پہنچا ۔ صحابہ نے اس موقع پر آپ کی آنکھوں سے آنسو گرتے دیکھے تو وہ بھی بہت مغموم ہوئے ۔ آپ نے فرمایا ” زینب میری سب سے اچھی بیٹی تھی اس نے میری محبت کی وجہ سے اذیتیں برداشت کیں ۔ “آنحضور نے اپنی بیٹی کی وفات پر دو ازواج مطہرات حضرت سودہ اور حضرت ام سلمہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت ام ایمن کے ساتھ مل کر آپ کی پیاری بیٹی کو غسل دیں ۔ آپ نے انہیں غسل کا طریقہ بھی سمجھایا اور فرمایا جب غسل سے فارغ ہو جاو تو زینب کے جسم پر خوشبو لگاو اور کفن کی چادریں پہنانے سے پہلے میری یہ چادر میری بیٹی کو پہنا دینا ۔ اپنی اس بیٹی کو قبر میں اتارنے کے لیے اپنے داماد ابو العاص کے ہمراہ آنحضور خود بھی قبر میں اترے ۔

    نواسوں سے محبت :۔

    انسان اپنی اولاد سے زیادہ اولادکی اولاد سے محبت کرتا ہے ۔ پوتے ، پوتیاں اور نواسے نواسیاں دل کا قرار اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے ہیں ۔ آنحضور کے بیٹے تو سبھی بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے ، البتہ چاروں بیٹیاں جوانی کی عمر کو پہنچیں ۔ یوں اللہ نے آپ کو اگرچہ پوتوں سے محروم رکھا مگر نواسے اور نواسیاں عطا فرمائے ۔ حضرت زینب کے بیٹے علی بن ابی العاص اور بیٹی امامہ بنت ِ ابی العاص سے آنحضور بڑی محبت کرتے تھے ۔ ان کو اکثر اپنے ہاں بلاتے اور خود بھی ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے ۔ فتح مکہ کے وقت ایک منزل کے سفر میں حضرت علی بن ابی العاص آپ کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے
     

     
  12. Waqas Dar
    رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مکّہ میں شِعَبِ بنی ہاشم کے اندر ٩۔ربیع الاول ، یکم عام الفیل ، یومِ سوموار ( پیر ) کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔ 

    ( مکّہ پر اَبْرَہہ کے حملے کے واقعے کو عام الفیل کہا جاتا ہے۔ اور یہ واقعہ ، بیشتر اہلِ سِیرَ کے بقول ۔۔۔ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش سے صرف پچاس یا پچپن دن پہلے ماہِ محرم میں پیش آیا تھا۔لہذا یہ عیسوی سنہ ٥٧١ء کے فبروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل کا واقعہ ہے )۔ 

    اس وقت نوشیرواں کی تخت نشینی کا چالیسواں سال تھا اور ٢٠۔ یا ٢٢۔ اپریل ٥٧١ء کی تاریخ تھی۔ 

    علامہ قاضی محمد سلیمان صاحب منصور پوری رحمہ اللہ اور محمود پاشا فلکی کی تحقیق یہی ہے۔
     ( تاریخ خضری ١ / ٦٢)۔ 

    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چچا ابولہب کو جب اُس کی لونڈی ثوبیہ نے آپ کی ولادت کی خبر دی تو وہ اتنا خوش ہوا کہ اس خوش خبری سنانے والی لونڈی کو اسی خوشی میں آزاد کر دیا۔  ( فتح الباری ٩ / ١٤٠)۔ 

    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دادا عبدالمطلب نے جب یہ خبر سنی تو سنتے ہی گھر میں آئے اور آپ کو اٹھا کر خانہ کعبہ لے گئے۔ اور دعا مانگ کر واپس لائے۔   ( سیرۃ ابن ہشام ١ / ١٦٨)۔ 

    اور پھر ساتویں دن قربانی کی اور تمام قریش کو دعوت دی۔ دعوت سے فارغ ہو کر لوگوں نے پوچھا کہ : 
    بچے کا نام کیا رکھا ہے ؟ 
    "محمد" عبدالمطلب نے جواب دیا۔ 
    لوگوں نے تعجب سے پوچھا : آپ نے اپنے خاندان کے سب مروجہ ناموں کو چھوڑ کر یہ نام کیوں رکھا ؟ 
     عبدالمطلب نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا شایان قرار پائے ۔
     ( البدایۃ و النہایۃ ٢ / ٢٤٧)۔

    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ماں سیدہ آمنہ نے آپ کا نام احمد رکھا۔ 
    پس محمد اور احمد دونوں ، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذاتی نام ہیں۔ 

    ایک بدوی عورت حلیمہ سعدیہ (رضی اللہ عنہا) نے جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو گود لینے میں اس لیے تامل کیا کہ آپ یتیم بچے ہیں تو حضرت آمنہ نے فرمایا تھا 
    اے دایہ ! اس بچے سے مطمئن رہو ، اس کی بڑی شان ہونے والی ہے ۔ 
    ( طبقات ابن سعد ١ / ١١١)۔
     
  13. Waqas Dar

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص تھا جو خوش الحان تھا۔ 
    وہ مختلف محفلوں میں اشعار وغیرہ سنا کر )گانا نہیں( کچھ پیسے کما یا کرتا تھا۔ وہ شخص بوڑھا ہو گیا۔ آواز بیٹھ گئ۔ کمائی کا ذریعہ ختم ہو گیا۔ نوبت فاقوں پر پہنچ گئی۔ 
    ایک دن بھوک کے عالم میں جنت البقیع کے قبرستان میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گیا 
    اور اللہ سے باتیں کرنے لگا۔ “اے اللہ جب تک جوان تھا۔ آواز ساتھ دیتی تھی۔ کماتا تھا اور کھاتا تھا۔ 
    اب آواز بیٹھ گئی ہے۔ بھوک لگی ہے ۔ 
    پہلی بار تیرے در پہ آیا ہوں۔ مایوس نہ لوٹانا۔“
    حضرت عمر رضی اللہ تعالی مسجد نبوی کے صحن میں سوئے ہوئے تھے۔ خواب میں آواز آئی 
    “اٹھ میرا ایک بندہ جنت البقیع میں مجھے پکار رہا ہے۔ اس کی مددکر۔“ 
    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ننگے پاوں بھاگتے ہوئے گئے۔ 
    اس بوڑھے نے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کو آتے دیکھا تو اٹھ کر بھاگا کہ شاید مجھے مارنے آرہے ہیں۔ 
    حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ “مت بھاگ میں خود نہیں آیا بلکہ بھیجا گیا ہوں۔“
    بوڑھے نے پوچھا کس نے بھیجا ہے۔ 
    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ اسی ذات نے بھیجا ہے جس کو پکار رہے تھے“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  فائدہ  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس بوڑھے نے زندگی میں پہلی بار اللہ کو پکارا اور پکارا بھی تو روٹی کیلئے ۔ 
    لیکن اللہ نے اپنے بندے کو مایوس نہ کیا۔ 
    اللہ سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ 
    علماء بتاتے ہیں کہ دعا کے قبول ہونے کیلئے مضطرب ہونا شرط ہے۔ دل سے اللہ کو پکاریئے۔ 
    وہ ضرور پہنچے گا۔ 
    صرف ہاتھ اٹھا لینا اور خیال کا کہیں اور بھٹک رہا ہونا دعا کی شرط کے خلاف ہے۔ 
     

  14. Waqas Dar
    حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدوس کے دربار میں یہ عرض کیا.. "یا اللہ ! تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا..؟"

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "اے ابراہیم ! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے..؟"

    آپ نے عرض کیا.. "کیوں نہیں.. میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کو قرار آ جائے.."

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "تم چار پرندوں کو پالو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو.. پھر تم انہیں ذبح کرکے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گرد و نواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو.. پھر ان پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے.."

    چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ ' ایک کبوتر ' ایک گدھ ' ایک مور..... ان چار پرندوں کو پالا اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا لیا.. پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کرکے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا..

    یایھا الدیک.. اے مرغ.... 
    یایتھا الحمامۃ.. اے کبوتر.... 
    یایھا النسر.. اے گدھ....
    یایھا الطاؤس.. اے مور.... 

    آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اڑنا شروع ہو گیا اور ہر پرند کا گوشت پوست ' ہڈی ' پر الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے.. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمینان و قرار مل گیا..

    اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے..

    "اور جب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے ! مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا.. فرمایا کیا تجھے یقین نہیں.. عرض کی یقیں کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آ جائے.. فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لے.. پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے.. پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے.. اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے..
    (البقرۃ : ۲۸۶)
     

  15. Waqas Dar
    ... سید عارف مصطفیٰ .... پی آئی کی نجکاری کا معاملہ ایک خونی تصادم میں بدل گیا یوں یہ معاملہ ایک حد درجہ گھمبیر رخ اختیار کرگیا ہے،،، گو حکومت کی طرف سے چھ ماہ تک ایسا کچھ نہ کرنے اورکسی ملازم کو نہ نکالنے کی یقین دہانیاں کروائیں گئیں تھیں اور بعد میں بھی ملازمین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے عزم کی تکرار کی گئی تھی تاہم نجانے کیوں چند حلقے اسے ایک بڑے تصادم میں بدلنے پہ کمر بستہ ہوگئے ،،، اور حکومت اس صورتحال سے نپٹنے میں بری طرح سے ناکام ہوگئی ،، گو آغاز برا نہ تھا اور صورتحال کافی حد تک قابو میں تھی لیکن پھر اچانک ایسا کچھ ہوگیا کہ سب منظر نامہ ہی بدل گیا اور گولی لگنے سے ہونے والی دو انسانی ہلاکتوں سے اس ناکام ہوتے احتجاج میں بھرپور جان پڑگئی- رینجرز نے یہ پرزور انداز میں تردید کی ہے کہ اسنے کوئی بھی گولی چلائی ہے اور وہ ان ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے اور اس واقعے کی پوری فوٹیج جاری کردی ہے اورچیلنج کیا ہے کہ اس میں کہیں یہ نظر نہیں آرہا ہے گولی مجمع کے باہر سے چلی ہے بلکہ درحقیقت یہ گولیاں مجمع کے اند سے چلائی گئیں ہیں اور اسی فوٹیج میں ایک مشتبہ سے شخص کو بھی دکھایا گیا ہے کہ جو منہ پہ نقاب پہنے ہوئے ہے - واقعے کی فوٹیج بغور دیکھنے اور دیگر شواہد کی جانچ کرنے کے بعد بہت سے لوگوں کا بھی یہی خیال ہے کہ پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین پہ رینجرز یا پولیس نے گولی نہیں چلائی بلکہ صبح ہی سے جب ہڑتال اور تالا بندی ناکام ہوچکی تھی اور 40پروازیں بھی روانہ ہوچکی تھیں تو پھر گھبراہٹ حکومت کی صفوں میں نہیں تھی کہ وہ یوں اپنے پیروں پہ از خود کلہاڑا چلادیتی ،،، ہڑتال ناکام ہوتے دیکھ کر بالآخر مایوس عناصر نے انسانی لہوکے تیل سے ہڑتال کی چنگاریوں کو الاؤ میں بدل ڈالا اور حکومت منہ دیکھتی رہ گئی ۔۔۔ اکثر پاکستانی حکومتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی پیچیدہ صورتحال کو بروقت اور صحیح طرح سے حل کرنے سے قاصر رہتی ہیں اور اسے اپنی نالائقی یا غفلت یا بدعنوانی سے اتنا پیچیدہ بنادیتی ہیں کہ وہ مسئلہ گھمبیر تر ہوجاتا ہے پی آئی کا بھی یہی مسئلہ ہے ۔۔۔۔ یہ ادارہ 1960 اور 1970 کی دہائی میں اپنی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے اک قابل فخر مثال تھا لیکن اقرباء پروری اور سیاسی بھرتیوں نے اس ادارے کو برباد کر ڈالا اب صورتحال یہ ہے کہ یہاں صرف 38 طیارے باقی رہ گئے ہیں کہ جن میں سے صرف 20 ہی استعمال کےقابل ہیں اور باقی طیارے ہینگروں میں پر نُچی زخمی چیل کی طرح کھڑے ہیں اور یہ طے ہے کہ ان 20 طیاروں پہ ہی سارا ادارہ ہرگز نہیں پالا جاسکتا کیونکہ پندرہ ہزار مستقل اور ساڑھے تین ہزار کنٹریکٹ ملازمین کو پالنے اور ادارے کو منفعت بخش بنانے کیلیئے کم ازکم 120 طیارے لازمی طور پہ مصروف عمل ہونا چاہیئیں - دنیا بھر میں ایک جہاز پر اوسطاً سو سوا سو ملازمین کا تناسب ہوتا ہے سری لنکن ایئر لائنز میں تو یہ تناسب صرف 33 افراد فی طیارہ جیسی عمدہ سطح پہ ہے جبکہ اس حوالے سے بدترین تناسب میں ہمارا نمبر شام کے بعد ہے جو کہ پکے ملازمین کے اور تمام طیاروں کے اعتبار سے 391 کے لگ بھگ ہے جبکہ قابل پروزاور تمام عملے کو نظر میں رکھا جائے تو یہ تناسب اس سے تقریباً دوگنا ہے اور اس بدترین نسبت کے ساتھ کوئی ایئرلائن چل ہی نہیں سکتی. پی آئی اے کی اس دگرگوں صورتحال کی ایک بہت بڑی وجہ گزشتہ چند برسوں میں حکومتی سطح پہ اوپن اکائی پالیسی اختیار کرنا بھی ہے جسکے تحت اپنے منافع بخش روٹس کی ایک بڑی تعداد پہ دیگر ایئرلائنز کو بھی پروازوں و بزنس کی اجازت دیدی گئی اور یوں پی آئی مزید خسارے کا شکار ہوگئی - اب پی آئی اے کی بہتری و بحالی جبتک ممکن نہیں کہ جب تک یہ پالیسی ترک نہ کردی جائے اور جہازوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ نہ کردیا جائے ،،، لیکن لگتا یوں ہے کہ چند لوگوں کی ساری دلچسپی اسی بات میں ہے کہ کیسے بھی ہو و برس قبل آئی ایم ایف سے کیئے گئے وعدے کو پورا کردیا جائے اور نجکاری کے ذریعے پی آئی اے سے جان چھڑالی جائے ۔۔۔ اب ایک نیا شوشا یہ چھوڑا گیا ہے کہ 120 دنوں میں نئی ایرلائن بناڈالی جائےگی گویا ادارے بننا بھی گڈے گڑیا کا کھیل ہوگیا ۔۔۔ بجائے نئے تجربے کے، مناسب یہی ہے کہ پہلے سے موجود ادارے کو بہتری طرف لایا جائے اور دوسری طرف ہڑتالیوں کو بھی اپنی ضدوں پہ نظر ثانی کرکے مذاکرات کی راہ اپنانی چاہیئے ورنہ سازشی عناصر اس صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں کیونکہ انکے ہاتھوں گولیاں چلا کر دو دو افراد کی جانیں تو پہلے ہی لی جاچکی ہیں اور اگر یہ کشمکش یونہی جاری رہی تو ایسے گھناؤنے عناصر کو اپنا مذموم کھیل کھیلنے اور خون آشامی کرنے کا مزید موقع مل سکتا ہے

    View the full article
  16. Waqas Dar
    .......سیدشاہ زیب علی....... جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو بے خبری کے اندھیرے سے باہر نکال کر آگاہی کی روشنی میں پہنچادیا ہے۔ یاد کیجئے جب اینڈرائڈ موبائل لوگوں کے پاس نہیں تھے اور ان کے پاس خبروں کا صرف ایک واحدذریعہ میڈیا تھا اس وقت کیا کسی نے سوچا تھا کہ آنے والا وقت ایک عام آدمی کا ہوگا جہاں اسکی بات دور دور تک سنی جاسکے گی؟ ا سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے اس خواب کو سچ کردکھایا اور آج یہی سوشل میڈیا ایک طاقتور عوامی آواز بن کر ابھرا ہے جہاں ہر خاص و عام اپنی رائے کا بلاجھجک اظہار کر سکتا ہے۔ کچھ سال پہلے جب صرف الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا عوام کی آواز سمجھے جاتے تھے لیکن کچھ کوتاہیوں کے باعث میڈیا کو زبردست نقصان اٹھانا پڑا ایسے میں سوشل میڈیا نے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کو سہارا دیا۔ تاہم اب بھی یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ریٹنگ اور کمرشل کی ایک دوڑ سی لگی ہے جس کے نتیجہ میں عوامی مسائل پس منظر میں جاتے نظرآرہےہیں اور میڈیا ایک کاروباری آواز کا روپ دھار رہا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا ایک عوامی آواز بن کر ابھر رہا ہے جہاں سیاسی شخصیات سے لے کر شوبز کی شخصیات تک سب موجود ہیں جہاں ایک عام آدمی اپنے مسائل سے میڈیا اور حکومت کو آگاہ کرسکتا ہے۔ سوشل میڈیا جہاں بہت موثر ثابت ہورہا ہے وہاں اس کا غلط استعمال اسے نقصان بھی پہنچارہا ہے۔ جالی آئیڈیز، منفی سوچ اور پروپگنڈا بھی سوشل میڈیا کا حصہ بن رہے ہیں ، ایسی صورت حال میں عام آدمی بھی اس کا حصہ اس طرح بن جاتا ہے وہ بغیر تصدیق کئے پوسٹ کوشئیرکرلیتاہے۔ بلا شبہ سوشل میڈیا نے روایتی میڈیا کی غلطیوں کر ٹھیک کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا بھی اپنی اصل صورت کھورہا ہے اور اگر اس کا بھی غلط اسی طرح استعمال جاری رہا تو یہ بھی بے اثر کھو بیٹھے گا۔

    View the full article
  17. Waqas Dar
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ اس ملک کے بڑے عہدے شاید بڑے اس لیئے کہے جاتے ہیں کہ انہیں بروقت چھوڑنے کیلیئے بڑے دل اور بڑے ظرف کی ضرورت ہوتی ہے اور جنرل شریف اس لحاظ سے اپنے بڑے عہدے سے بھی بڑے ثابت ہوئے کہ انہوں نے تقریباً ایک برس قبل ہی یہ واضح بیان دیدیا ہے کہ وہ اس برس 29نومبر کو اپنے منصب کی تین سالہ آئینی مدت پوری ہونے پہ ریٹائر ہوجائینگے اور دو ٹوک انداز میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ وہ اپنے عہدے کی مدت میں توسیع بھی قبول نہیں کرینگے اور باضابطہ طور پہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اس بیان سے ان تمام قیاس آرائیوں کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے کہ جو انکے منصب میں توسیع کے حوالے سے ہر طرف گردش میں تھیں ،،، پاکستانی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک معمولی بات نہیں ،، گو اس سے قبل جنرل اسلم بیگ اور وحید کاکڑ بھی اپنے اپنے وقت پہ سبکدوش ہوگئے تھے اور جہانگیر کرامت نے تو وزیراعظم نواز شریف سے ایک ممکنہ تنازع سے بچنے کیلیئے وقت سے تین ماہ پہلے ہی گھر چلے جانے کو از خود ترجیح دیکر سب کو حیران کردیا تھا ،،، لیکن پھر بھی یہ بہت بڑا فیصلہ ہے کیونکہ بدقسمتی سے یہ روایت ہمارے وطن میں مستحکم نہیں ہے اور 4 آرمی چیفس نے تو وقت پہ ریٹائرمنٹ تو دور ، آئینی حکومتوں کا بستر بوریا گول کرکے اور راج پاٹ سنبھال کر اپنی مدت ملازمت کا ٹنٹا ہی ختم کردیا تھا اوپر بیان کردہ پاکستانی تاریخ کے حقائق کی روشنی میں آرمی کے سربراہ کا منصب اس لیئے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ اس کی مدت ملازمت کو بڑھانے یا نہ بڑھانے کے معاملے کی جانب سارے ملک کی نظریں لگی رہتی ہیں جبکہ چند چھوٹے اور غیر ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر دنیا بھر میں یہ بڑی عام سی بات ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں تو بالخصوص اس بات کا کوئی تصور ہی نہیں کہ کسی آئینی عہدیدار کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے جبکہ وہاں فوجی سربراہان کو تو حالت جنگ میں بھی سبکدوش اور تبدیل کیئے جانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔۔۔ حتیٰ کہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہ چلن مطلق نہیں ہے - تاہم ایک بات یہ بھی ہوئی ہے کہ چند لوگوں کو جنرل راحیل کے اس بیان سے بہت طمانیت نصیب ہوئی جن میں سابق صدر آصف زرداری کا نام سب سے نمایاں ہے کیونکہ فوج کی جانب سے رینجرز کے جاری آپریشن میں کرپشن کے معاملات کی چھان بین پہ وہ شدید برہم بتائے جاتے تھے اور اس ضمن انکی گھبراہٹ اور پریشانی کا عالم یہ تھا کہ 4 اپریل کو بھٹو کی برسی کے موقع پہ انہوں نے گڑھی خدا بخش میں اپنے خطاب میں ایک انتہائی جارحانہ تقریر کی تھی جس میں کھل کھلا کر فوج کے سربراہ کو موضوع سخن بناتے ہوئے بہت سے طنزیہ و تنقیدی کلمات کہ ڈالے تھے اور یہ بالالتزام یہ بھی فرمایا تھا کہ ہمیں تو ہمیشہ رہنا ہے اور آپکو چلے جانا ہے ،،، اس پہ فوج کی جانب سے بہت نپا تلا ردعمل دیکھنے میں آیا لیکن زرداری صاحب ممکنہ شدید خطرات کو بھانپ کر دبئی میں جابیٹھے اور پارٹی رہنماؤں کے اجلاس بھی وہیں منعقد کررہے ہیں جس سے اب انکی اخلاقی جرآت اور سیاسی بصیرت پہ متعدد سوالات اٹھائے جارہے ہیں جہانتک دیگر سیاسی رہنماؤں کا تعلق ہے تو تقریباً سبھی نے راحیل شریف کے اس بیان کا خیرمقدم کیا اور اسے بہت خوش آئند فیصلہ قرار دیا ہے اور بظاہر یہ اطمینان اصول و قانون کے پہلو سے کم اور ایک ممکنہ مارشل لا کے وسوسوں کے معدوم ہوجانے کے لحاظ سے زیادہ نسبت رکھتا ہے ،،، جنرل صاحب کے اس بیان سے درحقیقت اندر خانے وزیراعظم کو بھی بہت سکون ملا ہے کیونکہ ملک کے اندر اور باہر ہر طرف جنرل صاحب کے اچھے اقدامات کی جے جے کار اور اسکے ممکنہ نتائج سے وابستہ خدشات نے انہیں یقینی طور پہ حد درجہ مضطرب کررکھا تھا اور اب اس فیصلے سے انکے سر پہ مبینہ طور پہ خطرے کی لٹکتی ہوئی تلوار کا نیام میں جانا خاصی حد تک یقینی ہوگیا ہے - تاہم چند محب وطن افراد کے نزدیک یہاًں اس معاملے سے جڑا ایک پہلو اور بھی ہے اور وہ ایک تشویش پہ مبنی ہے جو کہ خاصی غور طلب ہے اور وہ یہ ہے کہ جنرل صاحب نے قریباً ایک سال قبل ہی اپنی سبکدوشی کا جوواضح عندیہ دیدیا ہے تو کہیں اس سے دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں کمزوری نہ آجائے کیونکہ بدقسمتی سے یہ اب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آپریشن سے جڑے ارباب اختیار تاخیری حربوں کی راہ نہ اختیار کرلیں اور نئے آرمی چیف کی تقرری تک ، مبادا معاملات کو لٹکا کر وقت گزاری کی طرف مائل نہ ہوجائیں - پاکستان میں روایتی طور پہ بیوروکریسی کا طرزعمل ڈھلتے سورج کی طرف پشت کرنے اور چڑھتے سورج کی پوجا کا ہی چلا آرہا ہے اور یہی طبقہ پاکستان کے حقیقی حکمرانوں کا طبقہ ہے -ان برسر زمین حقائق کی روشنی میں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ ابھی سے ملازمت میں توسیع نہ لینے کا یہ فیصلہ خاصا قبل از وقت ہے ۔۔۔ لیکن بہرحال اب تو جو ہونا تھا ہوگیا ،،،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ نشاندہی کیئے گئے خدشات کی جانب بھی بھرپور توجہ دی جائے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ جنرل راحیل کے اس اعلان کے بعد دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن میں کسی طرح کی کمزوری آنے کے امکان کو یکسر ختم کردیا جائے اور میڈیا و سول سوسائٹی اب سے حکومت اور بیوروکریسی پہ سخت احتسابی و تادیبی نظر رکھیں ورنہ جنرل صاحب کا یہ احسن فیصلہ خدانخواستہ اچھے برگ و بار لانے کا سبب نہیں بن سکے گا-

    View the full article
  18. Waqas Dar
    ... جویریہ صدیق ۔۔۔۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا دورہ سعودیہ عرب اور ایران بہت اہمیت کا حامل ہے۔یہ دورہ ایران اور سعودیہ عرب کے مابین بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔اس امن مشن کےدوران وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف مصالحت کے لئے مختلف تجاویز دونوں ممالک کے آگے رکھیں گے۔ سفارتی حلقے اس دورے کو بہت اہم قرار دئے رہے ہیں۔دو بڑے اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کسی طور پر بھی امہ کے حق میں نہیں ہے۔دوسرا اس کشیدگی کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں ہے۔پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ بات چیت کے ذریعے سے مسائل کو حل کیا جائے۔اس موقعے پر پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کا ایک پیج پر ہونا بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ ۔مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال سے امت مسلمہ میں نفاق پیدا ہوا رہا ہے اس موقعے پر پاکستانی قیادت کا یہ دورہ امن و آشتی کی طرف پہلا قدم ہے۔دورے کے پہلے حصے میں وزیر اعظم نوازشریف اور جنرل راحیل نے سعودیہ عرب کے فرمانروا شاہ سلیمان سے ملاقات کی۔آج ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرکے دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سوشل میڈیا پر بھی یوزرز نے اس مصالحتی دورے کا خیر مقدم کیا.ایم پی اے حنا بٹ نے ٹویٹ کیا دونوں شریف پیس مشن پر ہیں۔ایم این اے مائزہ حمید نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور راحیل شریف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ صحافی وسیم عباسی نےٹویٹ کیا یہ ایک بہترین اقدام ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے ہم امت مسلمہ کے خیر خواہ ہیں اور نیوٹرل ہیں دوسری طرف سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے۔ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس دورے کو سراہتے رہے ۔مریم مصطفی نے ٹویٹ کیا کہ وزیراعظم نوازشریف اسلامی ممالک میں امن کے خواہاں ہیں جس کے لئے وہ بہت سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔عثمان دانش نے ٹویٹ کیا دونوں شریفوں کی امن کے لئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔شہزادہ مسعود نے ٹویٹ کیا عالم اسلام میں امن اور یکجہتی کے لئے ایک اچھا قدم ہے اللہ اس نیک کام میں وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف کو کامیابی دے۔ مبشر اکرم نے ٹویٹ کیا پاکستان مسلم ممالک کے حوالے سے جدید ڈپلومیسی رکھتا ہے پاکستان کی ضمانت پر یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔عاطف متین انصاری نے ٹویٹ کیا اس دورے سے پاکستان مخالف قوتوں کا خواب چکنا چور ہوگیا جو سمجھتے تھے کہ پاکستان کو فرقہ واریت کی جنگ میں جھونکا جاسکتاہے۔سول حکومت کےتدبر اور فوج کی عسکری قوت سے پاکستان کا مستقبل تابناک ہے ۔محمد عثمان نے ٹویٹ کیا انشاء اللہ پاکستان کی کوششوں سے ایران اور سعودیہ عرب میں کشیدگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔جون ایلیا نے ٹویٹ کیا وقتی طور پر ایران اور سعودیہ عرب میں کشیدگی ختم ہوجائے گی ۔ شہریار علی نے ٹویٹ کیا انشاءاللہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا مشترکہ دورہ ایران سعودیہ سود مند ثابت ہوگا۔عرفان علی نے ٹویٹ کیا پاکستان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اسلام کا قلعہ ہے۔ہینڈسم منڈا نے ٹویٹ کیا یہ ایک اچھا قدم ہے ایران اور سعودیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں ان کے درمیان کشیدگی پاکستان پر اثرانداز ہوگی۔عبد الخالق نے فیس بک پر پوسٹ کیا مجھے امید ہے اور میں خداکے حضوردعاگو ہوں کہ وہ وزیراعظم اورآرمی چیف کے سعودی عرب اورایران کے اس دورے کو کامیاب بنائے ، دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کاخاتمہ ہو، برادرانہ تعلقات قائم ہوں اورمشرق وسطیٰ میں پوری دنیا میں دیرپا امن واستحکام قائم ہو آمین جویریہ صدیق صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے ۔

    View the full article
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...