👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Waqas Dar

🔥 Admin/Core Authority
  • Posts

    11,279
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    552

Blog Entries posted by Waqas Dar

  1. Waqas Dar
    Munn Ishq ki agni jalti hy, tum bhaiyaan thamo jaan piya
    مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے، تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا
    میں رُوپ سہاگن دھارَن کو، راہ دیکھوں نینَن تان پِیا
    بس ایک جھلک پہ جَگ سارا، تَج تیرے پیچھے چل نِکلی
    ...تو عِشق میرا، تو دِین میرا، تو عِلم میرا اِیمان پِیا
    میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں
    اب جان سے ہاری راہوں میں، یہ رستہ تو انجان پِیا
    سِر مانگے تو میں حاظِر ہوں، زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں
    تم عِشق کی دولت دان کرو، میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا
    ...میں بھُول بھٹک کے ہار گئی، ہر بار تمہارا نام لِیا
    ...اِس عِشق کی کملی جوگن کے، ہر قِصّے کا عُنوان پِیا
    میں پیاس سجائے آنکھوں میں، سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری
    ...اب دیِپ جلائے مَن مندِر، چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا
    یہ عشق ادب سے عاری ہیں، ان نینن سے کیا بات کروں
    ...تم بھید دلوں کے جانن ہو، تم پر رکھتے ہیں مان پِیا
    میں عشق سمندر ڈوب مروں، میں دار پہ تیرے جھول رہوں
    ...میں پریم سفر پہ نکلی ہوں، کیا جانوں خِرد گیان پِیا
    میں خاک کی جلتی بھٹی میں، سب خاک جلا کر آئی ہوں
    ...اس خاک کی فانی دنیا کا، ہر سودا تو نقصان پِیا
    ....جب من سے غیر ہٹا آئی، سب کاغذ لفظ جلا آئی
    پھر کس کو اپنا حال کہوں، تو حال میرا پہچان پِیا
    پھر سورج بجھتا جاتا ہے، پھر رات کا کاجل پھیلے گا
    ...تم کاجل نینن والوں کے من میں ٹھہرو مہمان پِیا
    میں ایک جھلک کو ترسی ہوں، کچھ دید نما انوار کرو
    ....میں ایک جھلک کے صدقے میں، ساری تیرے قربان پِیا
    .
  2. Waqas Dar
    Shahar Ky Dukhandaro --- Karobar Ulfat Mai
    شہر کے دوکاندارو ۔۔۔۔۔ کاروبارِ اُلفت میں 
    سود کیا، زیاں کیا ہے ۔۔۔۔۔ تم نہ جان پاؤ گے
    دل کے دام کتنے ہیں ۔۔۔۔۔ خواب کتنے مہنگے ہیں
     اور نقدِ جاں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ تم نہ جان پاؤ گے
    کوئی کیسے ملتا ہے ۔۔۔۔۔ پھول کیسے کھلتا ہے
    آنکھ کیسے جُھکتی ہے ۔۔۔۔۔ سانس کیسے رُکتی ہے
    کیسے رِہ نکلتی ہے ۔۔۔۔۔۔ کیسے بات چلتی ہے
     شوق کی زباں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ تم نہ جان پاؤ گے
    وصل کا سکوں کیا ہے ۔۔۔۔۔ ہجر کا جنوں کیا ہے
    حُسن کا فسُوں کیا ہے ۔۔۔۔۔ عشق کے درُوں کیا ہے
    تم مریضِ دانائی ۔۔۔۔۔ مصلحت کے شیدائی
     راہِ گمراہاں کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ تم نہ جان پاؤ گے
    زخم کیسے پھلتے ہیں ۔۔۔۔۔ داغ کیسے جلتے ہیں
    درد کیسے ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ کوئی کیسے روتا ہے
    اشک کیا ہیں، نالے کیا ۔۔۔۔۔ دشت کیا ہیں، چھالے کیا
     آہ کیا، فُغاں کیا ہے ۔۔۔۔۔ تم نہ جان پاؤ گے
    جانتا ہوں میں تم کو ۔۔۔۔۔ ذوقِ شاعری بھی ہے
    شخصیت سجانے میں ۔۔۔۔۔ اِک یہ ماہری بھی ہے
    پھر بھی حرف چُنتے ہو ۔۔۔۔۔ صرف لفظ سُنتے ہو
     اِن کے درمیاں کیا ہے ۔۔۔۔۔ تم نہ جان پاؤ گے
    (شاعر: جاوید اختر)
     

  3. Waqas Dar
    Un-kahi Adhori C Dastaan Hun
    اَن کہی ادھوری سی داستان ہوں
     خاص معاشرے کا عام انسان ہوں
    مٹ کر بھی باقی ہوں ذرا ذرا سا
     گُم شدہ راہ کا مٹا مٹا نشان ہوں
    وفاؤں کے مول بےوفائی کی تجارت
     جھوٹی محبت کا سچّا ترجمان ہوں
    دیوالیہ ، تنگ دست ، غُربت زدہ
    دل و جان و روح  سے ویران ہوں
    مدفنِ دل میں ہیں خواہشات میری 
     اپنی حسرتوں کا ، قبرستان ہوں
    ہر فرد ہے یہاں فرشتہ اور پارسا
    تنہا گُناہ گار اور  بے ایمان ہوں
    جو کسی نے کبھی پڑھا ہی نہیں 
     وہ اَن کُھلا ، مُقید سا دیوان ہوں
    بد صورت و بد قسمت ہی سہی
     کسی کی تو محبت ، جانان ہوں
    جو کسی کے ، کام آ نہیں سکتا
     بے کار سا وہ ساز و سامان ہوں
    یک لخت ہوں پست اور بُلند بھی 
     زمین پہ گرا ہوا سا ، آسمان ہوں
    سب نے سمیٹ کر ، بگاڑا مجھے 
     ادھورا رہا ہمیشہ وہ ارمان ہوں
    دیار غیر میں سرائے کا مسافر
    اجنبی ، اپنوں کے  درمیان ہوں
    سود در سود ادائیگی کے باوجود
    اِک نہ ختم ہونے والا  لگان ہوں
    جس سے کُچھ بھی حاصل نہیں 
     تنسیخ شُدہ ، میں وہ فرمان ہوں
    کسی سے نہیں ، توقعات وابستہ
     اپنا ہی میں سہارا و سائبان ہوں
    راکھ ، خاک ، سُلگتی چنگاری
    جل کے بُجھا ہوا شبستان  ہوں
    زندگی خیراتِ کشکول کی طرح
    کسی کی خیرات اور دان  ہوں
    شعر تو حیلہ ہے دل بہلانے کا 
     دُکھوں ، غموں کا ترجمان ہوں
    اذیتیں ہی ملیں انعام کی صُورت

  4. Waqas Dar
    Kaya kahoon tum sy main ky kaya hai ishq
    کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق
     جان کا روگ ہے بلا ہے عشق
    درد ہی خود ہے خود دوا ہے عشق
     شیخ کیا جانے تُو کہ کیا ہے عشق
    عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو
     سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
    عشق معشوق، عشق عاشق ہے
     یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
    عشق ہے طرز و طور، عشق کے تئیں
     کہیں بندہ کہیں خدا ہے عشق
    کون مقصد کو عشق بن پہنچا
     آرزو عشق و مدّعا ہے عشق
    کوئی خواہاں نہیں محبت کا
     تو کہے جنسِ ناروا ہے عشق
    تو نہ ہووے تو نظمِ کُل اٹھ جائے
     سچے ہیں شاعراں خدا ہے عشق
    میر جی زرد ہوتے جاتے ہیں
     کیا کہیں تُم نے بھی کیا ہے عشق؟
     

  5. Waqas Dar
    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
    اور امی نے سمجھائی نہیں
    میں کیسے میٹھی بات کروں؟
    جب میں نے مٹھائی کھائی نہیں
    آپی بھی پکاتی ہیں حلوہ
    پھر وہ بھی کیوں حلوائی نہیں
    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
    نانی کے میاں تو "نانا" ہیں
    دادی کے میاں بھی "دادا" ہیں
    جب آپا سے میں نے پوچھا
    "باجی" کے میاں کیا "باجا" ہیں؟
    وہ ہنس ہنس کر یہ کہنے لگیں
    ! "اے بھائی نہیں، اے بھائی نہیں"
    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
    جب نیا مہینہ آتا ہےتو
    بجلی کا بل آ جاتا ہے
    حالانکہ بادل بیچارہ
    یہ بجلی مفت بناتا ہے
    پھر ہم نے اپنے گھر بجلی
    بادل سے کیوں لگوائی نہیں؟
    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
    گر بلی شیر کی خالہ ہے
    تو ہم نے اُسے کیوں پالا ہے؟
    کیا شیر بہت نالائق ہے؟
    خالہ کو مار نکالا ہے؟
    یا جنگل کے راجا کے ہاں
    کیا ملتی دودھ ملائی نہیں؟
    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
    کیوں لمبے بال ہیں بھالو کے؟
    کیوں اس کی "ٹنڈ " کرائی نہیں؟
    کیا وہ بھی "گندا بچہ" ہے؟
    یا اس کے ابو، بھائی نہیں؟
    یہ اس کا ہیئر اسٹائل ہے
    یا جنگل میں کوئی نائی نہیں؟
    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
    جو تارے جھلمل کرتے ہیں
    کیا ان کی چچی تائی نہیں؟
    ہوگا کوئی رشتہ سورج سے
    ! یہ بات ہمیں بتلائی نہیں
    یہ چندا کیسا ماما ہے؟
    ! جب امی کا وہ بھائی نہیں
     یہ بات سمجھ میں آئی نہیں
     
     
  6. Waqas Dar
    محبت"۔۔۔۔"
    محبت یہ نہیں
    کہ چاند کو تم توڑ کے لاو
    محبت یہ نہیں
    کہ تم ستارے مانگ میں بھر دو
    محبت یہ نہیں
    کہ وعدے کر لو سات جنموں کے
    محبت یہ نہیں
    کہ پھول راہوں میں بچھا دو تم
    محبت ہے
    کہ تم جو ہاتھ تھامو چھوڑ نہ دینا
    محبت ہے
    کہ قلبِ جان کو تم توڑ نہ دینا
    محبت ہے
    کہ تم محبوب سے منہ موڑ نہ لینا
    محبت ہے
    کہ تم جھگڑو لڑو اور روٹھ بھی جاو
    ستا کر مسکرا کر پھر منا لینا بھی آتا ہو
    !!..کسی کے عارض و رخسار جب شرم و حیا سے سرخ ہوجائیں
    تو اپنے لب جبین ناز پہ تم رکھ کے یہ کہہ دو
    میں وہ سب نہیں کرسکتا کہ ممکن نہیں جو کچھ
    مگر میں وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک سانس باقی ہے
    تمہاری زندگی میں الفتوں کا سایہ کردوں گا
    تمہارے لاڈ ناز و نخرے سب کچھ میں اٹھاوں گا
    زمانے بھر کی نفرت سے تمہیں ہر پل چھپاؤں گا
    مجھے تم سے محبت ہے کہوں یا نہ کہوں لیکن
     مجھے کتنی محبت ہے میں وہ کر کے دکھاؤں گا۔۔۔
     

  7. Waqas Dar
    سب مایا ہے

    سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
    اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
    جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
    سب مایا ہے

    ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
    یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
    بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
    سب مایا ہے

    اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
    جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
    تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
    سب مایا ہے

    معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
    سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
    فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
    سب مایا ہے

    کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو 
    جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
    اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے
    سب مایا ہے

    جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
    تم جانتے ہو ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
    دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
    سب مایا ہے

    وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
    وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
    آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
    سب مایا ہے

    جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
    وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
    ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
    سب مایا ہے

    جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
    اس شہر سے دور ایک کُٹیا ہم نے بنائی ہے
    اور اس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
     سب مایا ہے
     

  8. Waqas Dar
    نیند نیند آنکھیں ہیں خواب بھی پرانے ہیں 
    پہرے کیوں بٹھائیں ہم کس نے یہ چرانے ہیں
    عادت خود کلامی کی اور اپنے آپ سے لڑنا

    وہ بھی قصے کافی ہیں تم کو جو سنانے ہیں
    باتیں اتنی ساری ہیں خود سے چھپائی ہیں

    راز اتنے سارے ہیں تم کو جو بتانے ہیں
    وفا اُس سے کیا مانگوں بے وفائی ہی اُس کی عادت ہے

    یہ وعدے کیسے وعدے ہیں جو ہم نے ہی نبھانے ہیں
    کہاں سے اُس کا ناطہ تھا، تھا وہ کسی بستی سے آیا

    کس سے اُ س کا پوچھوں میں
    وہاں پہ بھی نہیں ملتا جو اُس کے ہی ٹھکانے ہیں

    دعائیں لاکھوں مانگی ہیں پھر دل سے کیوں نہیں جاتا
    یہ شاعری بھی کتابیں بھی بھلانے کے بہانے ہیں

    وہ اکثر مجھ سے کہتا تھا کہ زندگی ہیں تیری آنکھیں
    اب آنکھوں میں جو ٹھہرے ہیں وہ آنسو ہی بہانے ہیں

    عجب عادت تھی اُس کی وہ زعم اپنے میں رہتا تھا
    اپنے آپ سے لڑتے ہیں کیسے ہم دیوانے ہیں

    اب کے میں نے سوچا تھا بازی میں ہی جیتوں گی
    جیت کے میں ہاری ہوں حقیقت ہے فسانے ہیں
     
     

  9. Waqas Dar
    وہ لمحہ کتنا بھاری تھا
    کہ جب تم کو بچھڑنا تھا
    مجھے یہ طے بھی کرنا تھا
    کہ چاہے کچھ بھی ہو اب لوٹ کر آنا نہیں مجھ کو
    تمھاری یاد آئے گی تری باتوں کو ترسوں گا
    مگر مجھکو تو سہنا ہے
    مجھے سب کچھ بھلانا ہے
    وہاں جب دھوپ نکلے گی
    تری زلفیں نہیں ہوں گی
    مگر کوئی شجر تو مل ہی جائے گا
    وہیں پر بیٹھ جاؤں گا
    وہ لمحہ کتنا بھاری تھا
    مجھے یہ طے بھی کرنا تھا
    کہ اب ہے جاگنا مجھ کو
    نہ کوئی خواب دیکھوں گا
    نہ کوئی گیت گاؤں گا
    نہ کوئی ایسی ویسی بات میں ہونٹوں پہ لاؤں گا
    کہ جس سے دل کی دھڑکن تیز ہوجائے
    حرارت خون میں آئے
    لبوں کی تشنگی کو اضطرابِ شوق آجائے
    ہاں جس رستے سے تو آئے
    میں وہ رستہ بدل دوں گا
    میں تجھ کو بھول جاؤں گا
    تصور سے تخیل سے تیرے خاکے مٹا دوں گا
    مگر یہ معجزہ ہوگا
    ---اگر تجھکو بھلا پایا
     

  10. Waqas Dar
    !!!____زیادہ پاس مت آنا
    ﻣَﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﮩﮧ ﺧﺎﻧﮧ ﮬُﻮﮞ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ
    ﺷﮑﺴﺘﮧ ﺧﻮﺍﮬﺸﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮔﻨﺖ ﺁﺳﯿﺐ ﺑﺴﺘﮯﮬﯿﮟ
    ﺟﻮ ﺁﺩﮬﯽ ﺷﺐ ﺗﻮ ﺭﻭﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺁﺩﮬﯽ
    ﺭﺍﺕ ﮬﻨﺴﺘﮯ ﮬﯿﮟ
    ﻣﺮﯼ ﺗﺎﺭﯾﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﮔُﻤﺸﺪﮦ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺁﻟُﻮﺩ، ﻧﺎﺁﺳُﻮﺩﮦ
    ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﮯﮐﺌﯽ ﻋﻔﺮﯾﺖ ﺑﺴﺘﮯ ﮬﯿﮟ
    ﻣﺮﯼ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﭘﮧ ﺭﻭﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﻣﺮﮮ ﺍﺷﮑﻮﮞﭘﮧ ﮬﻨﺴﺘﮯ ﮬﯿﮟ
    ﻣﺮﮮ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﯾﻨﮕﺘﯽ ﮬﯿﮟ ﻣﮑﮍﯾﺎﮞﻏﻢ ﮐﯽ
    ﺗﻤﻨﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻟﮯ ﻧﺎﮒ ﺷﺐ ﺑﮭﺮ ﺳﺮﺳﺮﺍﺗﮯﮬﯿﮟ
    ﮔﻨﺎﮬﻮﮞ ﮐﮯ ﺟَﻨﮯ ﺑﭽُﮭﻮ
    ﺩُﻣﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮈﻧﮏ ﻻﺩﮮ
    ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﮬﺮ ﮐﮯ ﺷﻌﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺘﮯ ﮬﯿﮟ
    ! ﯾﮧ ﺑﭽﮭﻮ ﺩُﮐﮫ ﻧﮕﻠﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﮭﺘﺎﻭﮮ ﺍُﮔﻠﺘﮯﮬﯿﮟ
    ! ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺎﺱ ﻣﺖ ﺁﻧﺎ
    ﻣَﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﮩﮧ ﺧﺎﻧﮧ ﮬﻮﮞ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺯﻥ، ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ
    ! ﻓﻘﻂ ﻗﺒﺮﯾﮟ ﮬﯽ ﻗﺒﺮﯾﮟ ﮬﯿﮟ
    ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺗُﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ
    ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺅ
    ﺍﻧﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮬﻮ ﺟﺎﺅ
    ﮔُﻼﺑﯽ ﮬﻮ، ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺗُﻢ ﺯﺭﺩ ﮬﻮ ﺟﺎﺅ
    ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﮐﮭﻮ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺳﺮﺩ ﮬﻮ
    ﺟﺎﺅ
    ﺳﺮﺍﭘﺎ ﺩﺭﺩ ﮬﻮ ﺟﺎﺅ
    ﺳﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺩﮦ ﻭ ﻣﻌﺼُﻮﻡ ! ﻣُﺠﮫ ﮐﻮ ﺭﺍﺱ
    ﻣﺖ ﺁﻧﺎ
    ! ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺎﺱ ﻣﺖ ﺁﻧﺎ
     ! ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﺎﺱ ﻣﺖ ﺁﻧﺎ
     

  11. Waqas Dar
    سب اختیار اس کاہے، کم اختیار میں
    شاید اسی لئے ہوئی، بے اعتبار میں
    پھرتی ہے مرے گھر میں اماوس کی سرد رات
    دالان میں کھڑی ہوں بہت بے قرار میں
    تھل سے کسی کا اونٹ سلامت گزر گیا
    راہِ وفا میں رہ گئی مثلِ غبار میں
    انگلی میں رہ گئی ہے انگوٹھی گھِسی ہوئی
    لاؤں کہاں سے اب وہی نقش و نگار میں
    جی چاہتا ہے رات کے بھرپور جسم سے
    وحشت سمیٹ لوں تری دیوانہ وار میں
    پارس نے دفعتاً مجھے سونا بنا دیا
    قسمت سے آج ہو گئی سرمایہ دار میں
    نیلے سمندروں کا نشہ بڑھ نہ جائے گا
    موتی نکال لاؤں اگر بے شمار میں
    میں ضبطِ غم کی آخری حد تک گئی مگر
    ہر شخص کی نگاہ میں ہوں سوگوار میں
    نیناں مجھے بھی دیکھ رتیں اوڑھ اوڑھ کر
    قو سِ قزح کبھی ہوں کبھی اشک بار میں
     

  12. Waqas Dar
    جادو بھری آنکھوں والی۔۔۔ سُنو۔۔
    تم ایسے مجھے دیکھا نا کرو۔۔۔
    پھر میں کوئی امید کروں
    پھر مجھے کوئی ارماں ہو
    تم شاید میری بن جاؤ
    پھر دل کو ایسا گماں ہو۔۔۔
    پر ایسا نہ ہو تو اچھا ہے
    ان باتوں میں کیا رکھا ہے؟؟
    !!مجھ کو ایسی امّید نہ دو
    جادو بھری آنکھوں والی سُنو
    !! تم ایسے مجھے دیکھا نہ کرو
    پھر دھڑکن میں تم بس جاؤ
    پھر کوئی غزل میں گاؤں
    پھر چاند میں تم کو میں دیکھوں
    پھولوں میں تم کو پاؤں
    پر ایسا نہ ہو تو اچھا ہے
    اسکا انجام جو ہوتا ہے
    وہ درد ہی دیتا ہے دل کو ۔۔۔۔۔۔
    .جادو بھری آنکھوں والی سُنو
    تم ایسے مجھے دیکھا نہ کرو۔۔۔۔۔۔

  13. Waqas Dar
    ایسا ٹوٹا ہے تمناؤں کا پندار کہ بس
    دل نے جهیلے ہیں محبت میں وہ آزار کہ بس
    ایک جهونکے میں زمانے میرے ہاتهوں سے گئے
    اس قدر تیز ہوئ وقت کی رفتار کہ بس
    تو کبهی رکه کے مجهے دیکه بازار کے بیچ
    اس طرح ٹوٹ کے آئیں گے خریدار کہ بس
    کل بهی صدیوں کی مسافت پہ پڑے تهے دونوں
    درمیان آج بهی پڑتی ہے”وہ دیوار”کہ بس
    یہ تو اک ضد ہے کہ محسن میں شکایت نہ کروں
     ورنہ شکوے تو ہیں اتنے میرے یار کہ بس

  14. Waqas Dar
    ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺑﮍﯼ ﺩﺭﺩﯾﻠﯽ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺟﯽ
    ﻧﮧ ﭘﮭﻨﺴﺎﻧﺎ ﺟﯽ
    ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﻧﺎ، ﻋﺸﻖ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ، ﻋﺸﻖ ﺳﮯ
    ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﺎ ﺟﯽ
    ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﻋُﻤﺮ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺟﺐ ﭼﺎﮨﮯ
    ﻣﺠﺒُﻮﺭ ﮐﺮﮮ
    ﻣﻮﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻠﮯ ﻧﮧ
    ﺑﮩﺎﻧﮧ ﺟﯽ
    ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﮨِﭽﮑﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺎ
    ﮨﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﺛﺮ
    ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﺭُﺳﻮﺍﺋﯽ، ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮮ
    ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺟﯽ
    ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻧِﻌﻤﺖ ﭘِﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺭﻭ! ﮨﺮ ﻧِﻌﻤﺖ ﭘﺮ
    ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﮯ
    ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﭨِﯿﺴﯿﮟ ﺩَﯾﻦ ﺧُﺪﺍ ﮐﯽ، ﻋﺸﻖ ﺳﮯ
    ﮐﯿﺎ ﮔﮭﺒﺮﺍﻧﺎ ﺟﯽ
    ﻋﺸﻖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺴﺎﮞ، ﮐﻌﺒﮧ ﮐﯿﺎ، ﺑُﺖ
    ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯿﺎ
    ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺩُﻧﯿﺎ، ﻋُﻘﺒﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﺍﭘﻨﺎ، ﺑﯿﮕﺎﻧﮧ
    ﺟﯽ
    ﺭﺍﮦ ﺗﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﯽ ﮐﮯ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ، ﺁﮒ ﭘﮧ ﭼﻞ ﮐﺮ
    ﺟﺎﻧﺎ ﮨﮯ
    ﻋﺸﻖ ﮨﮯ ﺳﯿﮍﮬﯽ ﭘﯽ ﮐﮯ ﻧﮕﺮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﻮ
    ﺗﻮ ﻧِﺒﮭﺎﻧﺎ ﺟﯽ
    ﻃﺮﺯؔ! ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﺟَﮭﯿﻞ ﭼﮑﮯ ﺗﻢ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﯽ
    ﺯﻧﺠﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ
    ﺗﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﻨﺠﺮﮦ ﺍﺏ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺩﯾﺲ ﭘِﯿﺎ ﮐﮯ
    ﺟﺎﻧﺎ ﺟﯽ
     ﮔﻨﯿﺶ ﺑﮩﺎﺭﯼ ﻃﺮﺯؔ
     

  15. Waqas Dar
    میڈا عشق وی توں, میڈا یار وی توں
     میڈا دین وی توں, میڈا ایمان وی توں
    میڈا جسم وی توں، میڈا روح وی توں
     میڈا قلب وی توں،جند جان وی توں
    میڈا کعبہ، قبلہ ،مسجد، ممبر
     مُصحف تے قرآن وی توں
    میڈے فرض، فریضے، حج، زکوٰتاں
     صوم صلٰواۃ، اذان وی توں
    میڈی زہد ، عبادت، طاعت،تقوٰی
     علم وی تُوں،عرفان وی توں
    میڈا ذکر وی توں ،میڈا فکر وی توں
     میڈا ذوق وی توں، وجدان وی توں
    میڈا سانول ،مٹھڑا، شام ،سلوُنا
    من موہن ،جانان وی توں
    میڈا مرشد،ہادی، پیر طریقت
     شیخِ حقائق دان وی توں
    میڈی آس امید ،تے کھٹیا، وٹیا
    تکیہ ،مان، تران وی توں
    میڈا دھرم وی توں، میڈا بھرم وی توں
    میڈی شرم وی توں، مینڈی شان وی توں
     میڈا ڈُکھ ،سُکھ، روون، کِھلن وی توں
    میڈا درد وی توں ،درمان وی توں
     میڈےخوشیاں دا اسباب وی توں
    میڈے سُولاں دا سامان وی توں
     میڈا حُسن تے بھاگ ،سُہاگ وی توں
    میڈا بخت تے نام نِشان وی توں
    میڈا دیکھن، بھالن، جاچن ،جوچن
    سمجھن ،جان ،سنجان وی توں
    میڈے ٹھڈرےساہ تے مونجھ مو نجھاری
     ہنجھوں دے طوفان وی توں
    میڈے تلک ،تلولے ،سیندھاں ،مانگاں
    ناز، نہوڑے تان وی توں
    میڈی مہندی ،کجل ،مُساگ وی توں
     میڈی سُرخی ،بیڑا، پان وی توں
    میڈی وحشت، جوش جنون وی توں
     میڈا گِریہ، آہ ، فغان وی توں
    میڈا اول ،آخر ،اندر ،باہر
    ظاہر تے پنہان وی توں
    میڈا بادل ،برکھا ، کِھمنا ں، گاجاں
     بارش تے باران وی توں
    میڈا ملک، ملیر تے مارو ،تھلڑا
    روہی، چولستان وی توں
    جے یار فرید قبول کرے
    سرکار وی توں ،سلطان وی توں
    نہ تاں کہتر ،کمتر،ا حقر ،ادنیٰ
     لاشئے، لا امکان وی توں
     

  16. Waqas Dar
    پابہ گِل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
     دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
    میرا سر حاضر ہے لیکن میرا منصف دیکھ لے
     کر رہاہے مری فردِ جرم کو تحریر کون
    آج دروازوں پہ دستک جانی پہچانی سی ہے
     آج میرے نام لاتا ہے مری تعزیر کون
    کوئی مقتل کو گیا تھا مدّتوں پہلے مگر
     ہے درِ خیمہ پہ اب تک صورتِ تصویر کون
    میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں
     بے ردائی کو مری، پھر ے گیا تشہیر کون
    سچ جہاں پا بستہ، ملزم کے کٹہرے میں ملے
     اُس عدالت میں سُنے گا عدل کی تفسیر کون
    نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میں
     خواب دیکھے کون اور خوابوں کو دے تعبیر کون
    ریت ابھی پچھلے مکانوں کی نہ واپس آئی تھی
     پھر لبِ ساحل گھروندا کر گیا تعمیر کون
    سارے رشتے ہجرتوں میں ساتھ دیتے ہیں تو پھر
     شہر سے جاتے ہوئے ہوتا ہے دامن گیر کون
    دُشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں
     دیکھنا ہے، کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون
     

  17. Waqas Dar
    ﭼﻞ ﻋﺸﻖ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺑﻨﺎ ﻣﯿﻨﻮﮞ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﻧﮓ ﭼﮍﺍ ﻣﯿﻨﻮﮞ
    ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻢ ﻋﻘﻞ
    ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﺭ ﯾﺎﺭ ﻭﺳﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎﮞ
    ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﭼﺮﭼﺎ ﭘﺎﮔﻞ ﺩﺍ
    ﭼﻞ ﺗﻮ ﻭﯼ ﭘﺎﮔﻞ ﺑﻨﺎ ﻣﯿﻨﻮﮞ
    ﺍﮎ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﻼ ﺩﻭﺟﺎ ﯾﺎﺭ ﮐﻤﻼ
    ﻧِﺖ ﮐﻤﻠﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﯿﻦ
    ﺍﮐﮫ ﮐﮭﻮﻻﮞ ﺗﮯ ﯾﺎﺭ ﭘﺎﻭﺍﮞ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺞ ﺩﺍﺟﺎﺩﻭ ﺳﮑﮭﺎ ﻣﯿﻨﻮﮞ
    ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﭖ ﺩﮮ ﻭﭺ ﺍﮎ ﺭﻭﭖ ﮨﻮﺋﮯ
    ﻟﻮﮐﯽ ﺩﯾﻦ ﻧﻔﯿﺲ ﻣِﺜﻞ ﻣﯿﺮﯼ
    ﺍﮮ ﭘﺎﮔﻞ ﺗﻦ ﻧﻮﮞ ﻻ ﺑﯿﭩﮭﺎ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺞ ﺩﺍ ﺭُﻭﭖ ﭼﮍﺍ ﻣﯿﻨﻮﮞ
    ﺟﺪﻭﮞ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺧﯿﺮ ﮨﻮﺋﮯ
    ﻭﭺ ﭘﯿﺮﺍﮞ ﻣﯿﺮﮮ ﺯﻧﺠﯿﺮ ﮨﻮﺋﮯ
    ﻧﭻ ﻧﭻ ﮐﮧ ﯾﺎﺭ ﻣﻨﺎ ﻟﻮﺍﮞ
    ﺭَﺑﺎ ﺍﻧﺞ ﺩﯼ ﻣﻮﺕ ﻭﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﻨﻮﮞ
    ﭼﻞ ﻋﺸﻖ ﻗﻠﻨﺪﺭ ﺑﻨﺎ ﻣﯿﻨﻮﮞ
     ﺍﮎ ﻭﺍﺭ ﺗﮯ ﯾﺎﺭ ﻣﻼ ﻣﯿﻨﻮﮞ۔۔
     

  18. Waqas Dar
    جب ہجر کی آگ جلاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    آنکھوں میں راکھ سجاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    موسم کے رنگ بدلتے ہیں لہرا کر جھونکے آتے ہیں 
    شاخوں سے بور اڑاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    یادوں کی گرم ہواؤں سے آنکھوں کی کلیاں جلتی ہیں 
    جب آنسو درد بہاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    بے درد ہوائیں سہ سہ کر سورج کے ڈھلتے سائیوں میں 
    جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    جب لوگ جہاں کے قصوں میں دم بھر کا موقعہ ملتے ہی 
    لفظوں کے تیر چلاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    یہ عشق محبت کچھ بھی نہیں فرصت کی کارستانی ہے 
    جب لوگ مجھے سمجھاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    جب کالے بادل گھر آئیں اور بارش زور سے ہوتی ہو 
    دروازے شور مچاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    جب آنگن میں خاموشی اپنے ہونٹ پہ انگلی رکھے ہو 
    سناٹے جب در آتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    جب سرد ہوا کا بستر ہو اور یاد سے اس کی لپٹے ہوں 
    تب نغمے سے لہراتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
    جب اوس کے قطرے پھولوں پر کچھ موتی سے بن جاتے ہیں 
     تب ہم بھی اشک بہاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
     

  19. Waqas Dar
    سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ کیسا شور پڑا ہے ،،، کیا اچھل پھاند سی مچ گئی ہے ،،، کوئئ قیامت سی قیامت ہے ،،، شاید سورج مغرب سے نکل آیا ہے ،،، چند اکڑی گردنیں اپنی اکڑی یونیفارموں میں ہوتے ہوئے بھی خوفزدہ ہوکر نڈھال ہوکے اپنے سینوں پہ جھک چکی ہیں ۔۔۔ کیونکہ ان پہ بدعنوانی کے الزامات فیصل ہوئے ہیں ،،، دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں تو یہ معمول کی بات ہے لیکن اس ارض وطن پہ رونما ہونے والا یہ عجب واقعہ ہے کہ آزادی کے بعد کے 69 برسوں میں پہلی بار کسی پاکستانی سپاہ سالار نے بغل میں دبی چھڑی کا رخ سویلین کے بجائے اپنے پیٹی بندوں کی طرف کیا ہے اور12 افراد تو پہلے ہی نشانے میں کام آگئے ہیں میجر سے لے کر اعلیٰ ترین رینک یعنی لیفٹنٹ جنرل تک سبھی رینک پہ فائز افسران اس میں شامل ہیں۔۔۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ چند لوگ ہیں جو یہ شور مچار ہے ہیں کہ انصاف پھر بھی نہیں ہوا ،،، کیونکہ ان لوگوں کو ویسی سخت سزائیں نہیں دی گئیں جیسی کے اسی جرم میں سویلین کا نصیب بنادی جاتی ہیں ،،، ویسے غیر طبقاتی زاویئے سے دیکھا جائے تو یہ تنقید یکسر بے وزن بھی نہیں ،،، لیکن جس ملک میں یونیفارمی مہاراجوں کو کبھی چھووا بھی نہ گیا ہو حتیٰ کے آدھا ملک ڈکار جانے والے کو بھی پورے اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر اور توپوں کی سلامی دیکر سپرد خاک کیا گیا ہو ، تو اسی ملک میں'' محض کرپشن'' جیسی ''معمولی کوتاہی '' کرنے پہ اس طرح بے توقیر کیا جانا کسی معجزے سے کم ہرگز نہیں ۔۔۔ لیکن یہ ذہنیت بھی کچھ اس ہی طرح کی ہے کہ جیسے کہ بعضے مسلمان آسمانی ہدایتوں کو تسلیم کرنے کے باوجود عبادتی نظام پہ عملدرآمد اس عذر پہ ٹالے رکھتے ہیں کہ ایک ایک دو دو نمازیں کیا پڑھنی ۔۔۔ جب کبھی نمازی بن پائیں گے تو پورے پورے پانچوں وقت کے بنیں گے ،،، اور پھر ایسے بہتوں کے نصیب میں یہ موقع کبھی نہیں آپاتا ،،، یا بمشکل اس وقت آتا ہے کہ جب امراض کی شدت یا بڑھاپے کی لاغری مارے دیتی ہے اور آخری دنوں کی یہ مجبور عبادت معبود کی نظر میں کچھ قابل پزیرائی نہیں رہتی ،،، لیکن وہ لوگ جو ذرا بھی مہلت عمل کو غنیمت جانتے ہیں ،وہ جب بھی اور جتنی بھی نمازیں پڑھنے کا موقع مل جائے اپنے خالق کے سامنے سربسجود ہوجاتے ہیں تو کہیں نہ کہیں انکی یہ لپاک جھپاک عبادت بھی انکے خالق کی رحمت کو جوش دلانے کا سبب بن جاتی ہے ،،، تو بالکل عین اسی طرح یہ بات کی جارہی ہے کہ جنرل راحیل شریف نے مثالی سزائیں کیوں نہیں دیں ان وردی پوشوں کو ،،، بھائی ابھی تو شروعات ہے ،،، اسی میں سب آئیڈیلزم والی شرائط عائد کرنے ابھی سے نہ بیٹھ جاؤ کیونکہ شاید کوئی انتہائی چغد ہی ایسا ہوگا جو یہ اندازہ نہ کرسکے کہ اس بہادر جنرل نے بیٹھے بٹھائے اپنے ہی محکمے کے ان افسران پہ ہاتھ ڈال کر کس قدر طوفانی مخالفت کو آواز دے دی ہے اورخود اپنی ہی طاقت کے اس تماتر اکیلے مرکز کو جھنجھوڑ کر اپنے لیئے کتنا غیر معمولی خطرہ مول لیا ہے ،،، ورنہ آسان کام تو یقینناً وہی تھا جو انکے پیشرو کرتے رہے ہیں ،،، یعنی یا تو اس احتسابی مصیبت ہی میں نہ پڑنا ورنہ احتساب کے نام پہ برے لوگوں کو خوفزدہ کرکے اپنی حکومت میں ساتھ شامل کرلینا،،، سوچیئے اور سمجھیئے کہ یہی کیا کم ہے کہ وہ سفر آغاز ہوگیا ہے کہ جسکے لیئے سات دہائیوں سے کسی کے قدم اٹھتے نہ تھے اور اسکے محض خواب دیکھنے والوں کے ذہن بھی پتھر کے ہوجاتے تھے ۔۔۔ خاطر جمع رکھیئے کہ اب جبکہ یہ کام شروع ہوہی چکا ہے تو اگر استقامت دکھائی گئی تو یہ اپنا مومینٹم خود بنالے گا اورپھر اسے روک دینا کسی کے لیئے بھی ممکن نہ ہوگا اور جب اسکی رفتار ایک خاص حد کو بھی عبور کرلے گی تو پھر یہ مہم اک آندھی اور طوفان کی سی شکل اختیار کرلے گی اور پھر یوں ایک حقیقی انقلاب بھی برپا ہوسکے گا کیونکہ بات فوج کے اندرونی احتساب سےشروع کرکے اس بڑی صفائی کا رستہ ہموار کردیا گیا ہے کہ جو ہر شعبے میں ہونے جارہی ہے اور میں کھلے بازوؤں سے اس کا خیرمقدم کرتا ہوں کیونکہ یہ اقتدار کی باریاں لینے والے اور سیاسی پارٹیوں کے نام پہ قائم خاندانی راجواڑے کبھی از خود وہ احتسابی نظام لا ہی نہیں سکتے کہ جس سے انکی چوریاں اور ڈکیتیاں بے نقاب ہوسکتی ہوں ۔۔۔ اک اسی مزے کے حصول کل کیلیئے تو برسہا برس سے انکا سارا تماشا لگا ہوا ہے ،،، ضرورت اس امر کی ہے کہ اب کرپشن کے خلاف جہاد کے لیئے سر سے کفن باندھ لیا جائے کیونکہ سچ تو یہی ہے کہ یہ برائی ہی ہمارے پاکستانی سماج کی حقیقی ام الخبائث ہے arifm30@gmail.com
     
    View the full article
     
  20. Waqas Dar
    عاقب علی ۔۔۔ کیا پاکستان میں کرپشن نہیں ؟،کیامیڈیا اور پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف شور مچا کر کرپشن کو نعرے کی شکل دے رہی ہیں؟، معاشرتی افراط و تفرط اور عوام کا احساس محرومی مصنوعی ہے؟ ، کیا ملک میں بے روز گاری ،مہنگائی،اقربا پروری کا راج نہیں؟،کیاتعلیم ،صحت اور فراہمی و نکاسی آب کا نظام تک ناقص نہیں ہوگیا؟ کیاضروریات زندگی کی ہرشے ملاوٹ سے بھرپور نہیں ؟کیا نوجوانوں کی صلاحیت کی بیخ کنی نہیں کی جارہی ہے؟کیاہمیں ماضی میں جو بھی قیادت ملی کیا پاک و پاکیزہ تھی ؟ صرف کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنا مبینہ کرپٹ عناصر کو سنگسار کرنے کے لئے بنی سازش ہے؟۔ سوال تو یہ ہے عوام کے لئے کیاکرپشن کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے؟ کیا وہ بصیرت اور بصارت سے محروم ہوگئے ہیں؟کیا انہیں پتہ نہیں کہ حکمران طبقہ اپنے فرائض انجام دینے میں بخل سے کام لیتا ہے،بڑے بڑے واقعات کے مجرم چھوڑ دئیے جاتے ہیں،پاکستان عوام کے خودکو محروم سمجھتے ہیں ،ان کی تسلی اور تشفی کے لئے کوئی اقدام سامنے آتا ہے اور نہ ہی ان کی زندگی میں جوہری تبدیلی آتی،اہم نوعیت کے کئی مقدمات برسہا برس سے التوا ءکا شکار ہیں، ملک سے غداری کا الزام ’اپنے ‘ہی لوگوں کی جانب سے لگایا جاتا ہے مگر ریاست حرکت میں نہیں آتی ،ازلی دشمن ملک کا ’ایجنٹ ‘گرفتار ہوتا ہے مگرسیکولر اور لبرل نظرئیے کی لاج رکھتے ہوئے حکمران اقوام عالم میں آواز تک بلند نہیں کرتے اس کی ایک وجہ اپنے مبینہ کاروباری مقاصد کو محفوظ تر بنانا بھی بتایا جاتا ہے ،دراصل حکمران سمجھ چکے ہیں تجربے سے کشید کردہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی اخلاقیات ہی میں ان کی زندگی ہے۔ کیاعوام بے خبر ہیں کہ ہر برس کشکول لے کر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لینے والے حکمران طبقے کا طرز زندگی کیسا ہے ،ان کی نسل بھی پرتعش زندگی بسر کرتی ہے ،بیرون ملک کے دوروں کے دوران ملک کے وسائل کا کیسا بے دریغ استعمال کرتے ہیں،وہ تو اپنے علاج کے لئے بھی دورے کو ہی ترجیح دیتے ہیں، بھگتنا عوام کو ہی پڑتا ہے،ان سے اتنا تک ممکن نہیں کہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کی بہتر طبی سہولیات کےلئے ہی سہی ملک میں ایک معیاری اسپتال بناسکیں،اتنی ناقص اور وژن سے محروم قیادت پربھی گڈ گورننس کے قصیدے سننے کوملتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکی دھمکی پر شمولیت سے ہماری معیشت کو 115ارب ڈالر اور 75ہزار انسانی جانوں کےزیاں کی ضرورت میں ملتے ہیں اور پھر بھی ہم ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہیں،کیا یہ فکری غلامی نہیں،ان سے دھتکارے جانے پر بھی ان سے زندگی بسر کرنے کا مستعار لینے کو جرات سمجھتےہیںچند اہل دانش کے نزدیک ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ ذہنی اپاہج ہونے کا دور آچکا ہے ،ان سے زندگی کے اصول اور قوائدمانگنا اور ان کی جانب سے مل جانا بھی کیا اعزاز سے کم ہے۔ بالکل درست کہا جاتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے بھیتر کی خبر لی جانی چاہیے،کیوں نہیں ضرور جی ،کیونکہ بیرون قرضہ کئی سو ارب روپے تک پہنچ گیا ہے،عمران خان کے بقول روز کی بنیاد پر 12ارب روپے کی کرپشن کی جارہی ہے جس کی روک تھام کے بغیر کیا خزانہ بھرا جاسکتا ہے؟،گھر کے دانے پورے کئے جاسکتے ہیں؟تعلیم اور صحت کی سہولیات کے امکانات کو روشن کئے جاسکتے ہیں؟کیاعالمی سطح پر مقابلے اور ترقی کے لئے درکار شعور کی آب یاری ممکن ہے ؟۔ اور یہ بات واقعی ہی سمجھ میں نہیں آئی کہ کرپٹ عناصر کے خلاف اقدام سے صرف جمہوریت ہی کو کیوں خطرات لاحق ہو جاتے ہیں؟ ،درست ہے کہ آمریت نے 33برس ملک پر حکومت کی جو کسی بھی درجے میں شفاف ہوتی ہے نہ جوابدہ،ان کا راستہ روکا جانا جمہوریت کے از حد ضروری ہے ،مگر کیا یہ سوچا بھی جاسکتا ہے کہ فکری ،عملی اور مالی لحاظ کرپٹ حکمران طبقہ کوئی ایسا قانونی راستہ فراہم کرے گا، جس سے جائزے اور باز پرس کا کوئی اہتمام ممکن ہوپائے؟کیونکہ ان پر یہ الزام ہوتا ہے کہ عوام کے معیار زندگی کی بلندی کےلئے ملی دولت انہوں نے لوٹ لی ہے ،کیااسی وقت خود کو جوابدہی کے لئے خود پیش کرنے ان کی ذمہ داری نہیں ،کیا اس کے لئے بھی شور شراب تک خاموشی نہیں برتی جاتی اور معاملہ مشتبہ ہونے سے بڑھ جاتا ہے تو انہیں خیال آتا ہے تاثربہتر بنایا جائے؟ لیکن کیاکریں ان کی ’اخلاقیات کے معیار ہی قابل ترمیم ہوتے ہیں ،جس سے عوام کے خدمت کے درکار بہادری کا رویہ بھی ان میں دم توڑ گیاہے ،اس کے بعد کیا بچتا ہے ؟ اپنوں کو ریوڑیاں بٹنےکے سوا۔ کیا حکمرانوں کی کرپشن کے حساب کتاب کے لئے ووٹ کی طاقت کو ہی معیار مان لیا جانا چاہیے؟ ،تو کیا کرپٹ حکمرانوں کے اقدامات سے ملے زخم مندمل ہوجاتے ہیں؟ کیا حقوق مرجانے سے عوام کے راستے میں جو ببول کے کانٹے بچھ جاتے جس میں سفر زندگی میں تلخی بڑھ جاتی ہے،اس میں کمی کیسے ممکن ہو؟ اگر یہ خیال درست بھی مان لیا جائے اور آئندہ انتخابات میں موجودہ حکمرانوں کو مستردکردیا جائے تو کیا ہوگا ؟ ترقی کا سفر تیز تر ہوجائے گا ؟ مثال تو یہ ہے کہ سابقہ حکومت نے 5برس پورے کئے،اور اتنی کرپشن کرلی کہ اب اگر آئندہ 10برس بھی اسے اقتدار نہ ملے تو ان کی صحت پر کوئی اثرپڑنے والا نہیں ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ 2012ءکے مطابق پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت نےاپنے دور اقتدار کے دوران 95کھرب روپےکی کرپشن کی ۔ کیا سوچا جاسکتے ہیں 95کھرب روپے پاکستان کی معیشت کے لئے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ،موجودہ حکمرانوں نے تو اب تک اتنے میگا پراجیکٹ تشکیل دے دئیے ہیں کہ ان کے جانے پر 195ارب کی کرپشن کی خبریں آسکتی ہیں،اس پوری بحث میں اب تو ان 200ارب ڈالر کی بات ہی نہیں کی جارہی ،جس کے حوالے سے2برس قبل لبرل وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اعتراف کرتے ہوئے کہا تھاکہ قوم کی دولت لوٹی گئی ،جو بیرون ممالک کے بینکوں میں ہے ،ہم اسے لے کر آئیں گے، اس کےلئے اقدامات کی نوعیت سے عوام کو آگاہ رکھنے سے کیا جمہوریت بے توقیر ہوجاتی ہے ؟ اس باب میں بھی حکومتی خاموشی طویل ہوتی جارہی ہے ،کیا اپنی کرپشن کے شور کو دبانے کے لئے سابقہ حکومت سے سازباز کے تانے بانےتو نہیں بنے جارہے ہیں؟ خدمت ،عوام کی زندگی کو مزید سہل کرنا کیا حکمران طبقے کا فرض منصبی نہیں ؟ 11ستمبر 2012ء کوایک فیکٹری کو آگ لگادی جاتی ہے،257لوگ جان ہاردیتے ہیں،مگر ملزمان تاحال چنگل سے باہر ہیں، گزشتہ برس ہیٹ اسٹروک سے 2ہزار انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں ،مگر ہوتا کیا ہے؟۔اس جیسے لاتعداد واقعات کے بعد بھی اگرکہا جائے کہ ’سسٹم ‘کی خرابی دور کرنے کی طاقت ایوان اقتدار میں براجمان لوگوں کے پاس نہیں ،تو کیا پھر یہ سوال نہیں بنتا کہ وہ کرسی سےکیوں چمٹے بیٹھے ہیں؟۔

    View the full article
  21. Waqas Dar
    سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ پاکستان کے اور کسی بھی صوبے سے نکل کر کوئی صوبہ پنجاب کا رخ کرے تو اسے بار بار حیران ہونا پڑتا ہے اور ایک نہیں کئی کئی میدانوں میں متعدد نوعیت کے مثبت قسم کے بہت سے فرق واضح طور پہ محسوس ہونے لگتے ہیں مثلاً تیزرفتار تعمیری سرگرمیوں اور ترقیاتی کاموں کی بہتات کا فرق ،،، ایک لاہور ہی نہیں ملتان فیصل آباد راولپنڈی اور کئی شہروں میں کہیں زبردست سڑکوں کا جال دامن دل کو کھینچتا ہے تو کہیں جدید بالائی گزرگاہیں اور پل حیران کیئے دیتے ہیں اور لاہور اور پنڈی میں تو میٹرو کی سہولت حیران کیئے دیتی ہے ،،، اسی طرح وہاں اکثر شہروں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کی صورتحال بھی نہایت تسلی بخش ہوگئی ہے اور ایک الحمراء ہی نہیں کئی اور شہروں میں بھی ثقافتی سرگرمیاں اپنے عروج پہ نظر آتی ہیں اور انکی رفتار سارے ملک سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے ،،، فوڈ اسٹریٹس اور عوامی ڈھابوں کی کثرت بھی اہل پنجاب کی خوش خوراکی کی دلیل بن گئی ہے کہ جہاں ہر طرح کی مالی حیثیت کے لوگ اپنی جیب کے مطابق غذائی معرکے سر کرتے نظر آتے ہیں ،،، یہ سب تو ہے ہی لیکن سماجی اصلاحات کے شعبے میں بھی صوبہ پنجاب دوسرے صوبوں سے بہتر کارکردگی کا حامل نظر آتا ہے پہلے شادی کی محفل رات دیر گئے تک جاری رہتی تھیں لیکن پھرجب رات دس بجے تک شادی ہالوں کی بندش کےاحکامات جاری کیئے گئے اور ان پہ سختی سے عملدرآمد کرایا گیا تو یہ احسن قدم عوام کے لیئے بہت سکون اور راحت کا سبب بنا اسی طرح ہالوں اورہوٹلوں میں شادی کی تقریبات پہ ون ڈش کی پابندی لگادی گئی کہ جس سے مڈل کلاس طبقے کے پہ سے بھاری مالی اخراجات کا بوجھ کسی حد تک کم ہوا ہے اس بار ایک بار پھر سماجی اصلاحات کے میدان میں پنجاب نے پالا مار لیا ہے کیونکہ پنجاب اسمبلی نے ایک نہایت عمدہ قانون کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے جسکی رو سے اب گھروں میں بھی ون ڈش کی پابندی لگادی گئی ہے تاہم وہاں کی تقریبات کو رات دس بجے والی پابندی سے اسستثناء دیدیا گیا ہے،، اسی طرح محلے میں چراغاں ممنوع ہوگیا ہے اور گلی و سڑک عوامی مقامات اور کھلی جگہوں پہ آرائشی روشنیاں لگانے اور آتش بازی کی اجازت نہیں ہوگی اور جہیز کی نمائش پہ بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ کرنے کے علاوہ قید کی سزا بھی دی جائیگی یہ پابندیاں شادی کے علاوہ ولیمہ ، مہندیوں اور دیگر متعلقہ تقاریب پہ بھی لگائی گئی ہیں اور اس طرح کسی دولتمند کی شادی کو بھی عوامی دلآزاری اور تکلیف کا باعث بننے کے عمل کا سدباب ہوسکے گا یوں شادیوں میں ہونے والی ان فضولیات اور اصراف بیجا سے نجات سے متوسط و نچلے طبقے کیلیئے کفایت اور راحت کا کافی سامان میسر ہوگا - دیکھا جائے تو چونکہ یہ تمام قوانین براہ راست عوامی بہبود کے امکانات سے پر ہیں چنانچہ اگر انہیں بالکل سخی سے اور فولروف طریقے سے نافذ کیا گیا تو ان اقدامات سے فلاح عامہ کے شعبے میں کافی قابل قدر بہتری رونما ہوسکے گی اور یقینناں جسکے مثبت اثرات سارے معاشرے پہ مرتب ہوں گے - ان احسن قوانین اور اقدامات کی منظوری پہ پنجاب اسمبلی نہایت لائق مبارکباد ہے کہ اسنے قرار واقعی خلوص اور دردمندی سے اس اہم عوامی مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لیا اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ صوبہ پنجاب کی مقننہ اور حکومت عوامی فلاح کے معاملے میں ایک ہی پیج پر ہیں لیکن یہاں اسی عمدہ کارکردگی کے بطن سے یہ سوال بھی سر ابھارتا ہے کہ آخر ان اچھے کاموں کی توفیق باقی دیگر تینوں صوبوں کی اسمبلیوں اور صوبائی حکومتوں کو کیوں نہیں ہوپاتی ،،،؟؟ وہ کیوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے گم صم بیٹھے دکھائی دیتے رہتے ہیں ۔۔۔ اگر ان سے یہ سب اچھے کام خود سے نہیں ہوپاتے تو وہ کم ازکم یہ تو کرہی سکتے ہیں کہ پنجاب والوں کی تقلید ہی کرلیں ،،، انکے صوبوں میں خصوصاً صوبہ سندھ میں تو یہ حال ہے کہ ہر وقت اور ہر سطح پہ اک عجب سی چھینا جھپٹی اور آپا دھاپی سی مچی رہتی ہے ،، کیا باقی دیگر صوبوں کے عوام کا یہ حق نہیں کہ وہ بھی صوبہ پنجاب کے عوام کی مانند ان کفایتوں اور راحتوں سے مستفید ہوسکیں ،،، مجھے کہنے دیجیئے کہ برسر زمین حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی بیورو کریسی اور سیاسی و معاشی اشرافیہ کے درمیان اک مضبوط سا گٹھ جوڑ عرصہ دراز سے قائم چلا آتا ہے اور وہ کسی صورت عوام کو یہ سب راحتیں دینا ہی نہیں چاہتے کیونکہ ایسا کرنے سے خود انکے وی آئی پی اسٹیٹس کو ہزار خطرات لا حق ہوجائینگے اور وہ کسی صورت ایسے اقدامات کی مخالفت نہیں کرسکتے کہ جو انکے ''بلند و بالا'' لائف اسٹائل کے عین مطابق ہیں بلکہ اس طرز زندگی کے عملی محافظ ہیں ۔۔۔ آخر میں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ان تلخ حقائق کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جبتک عوامی بیداری بیلٹ بکسوں میں سے انقلابی نتائج لے کر نہیں ابھرے گی ان تینوں صوبوں کے عوم یونہی کڑھتے رہیں گے اور کف افسوس ملتے رہیں

    View the full article
  22. Waqas Dar
    سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ آئس لینڈ کے وزیراعظم استعفیٰ دے چکے، برطانوی وزیراعظم کیمرون کے خلاف دباؤ بڑھ رہا ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی حواس باختہ ہوچلے ہیں ،،، یہی نہیں اور بھی کئی نامور عالمی شخصیات کے خلاف تنقید کا طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا ہے ادھر پاکستان میں بھی اپوزیشن نے بھی شفاف تحقیقات کے لیئے بہت شوروغوغا مچا رکھا ہے حتی کے عمران خان نے اتوار کی شام ''قوم سے خطاب'' کرتے ہوئے یہ دھمکی تک دے ڈالی ہے کہ اگر شفاف تحقیقات کی بات نہ مانی گئی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رائے ونڈ میں شریف فیملی کی رہائش گاہوں کے باہر دھرنا دینگے ،،، گویا پانامہ لیکس نے دنیا کے کئی ممالک میں اتھل پتھل مچادی ہے ،،، قریباً ایک برس سے جو معاملہ اندر ہی اندر جانچ اور تجزیئے کے مرحلے سے گزارا گیا تھا گزشتہ دنوں اس وقت انکشاف کی نوبت تک جاپہنچا کہ جب گزشتہ اتوار کو واشنگٹن کی ایک انٹرنیشنل کنسورشیئم فار انویسٹی گیٹیوجرنلزم نے 100 سے زائد میڈیا نمائندوں کے سامنے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے ان خفیہ رکھی گئی 11 ملین دستاویزات کو پیش کیا کہ جن میں دنیا بھر کے کئی ملکوں کے سیاستدانوں سربراہوں اور نامور لوگوں کی پانامہ میں قائم کردہ ان آف شور کمپنیوں کی تفصیل موجود ہے کہ جس میں انکی چھپائی گئی دولت محفوظ کی گئی ہے ان ''پانامہ لیکس'' سے 6 برس قبل وکی لیکس کے انکشافات نے بھی بہت تھرتھلی مچائی تھی اور ایک ملین کے لگ بھگ خفیہ امریکی سرکاری دستاویزات کی بےنقابی کے ذریعے سوئیڈن کے جولین اسانج نے کئی ممالک میں امریکیوں کے مداخلت کے کئی ایسے خفیہ معاملات سے پردہ اٹھایا تھا کہ جس سے ان ملکوں کی متعدد نامور شخصیات اور رہنماؤں کی ساکھ برباد ہوکر رہ گئی تھی اور امریکی سازشیں اور عزائم بھی بے نقاب ہوئے تھے - دیگر کئی ممالک کی طرح وکی لیکس میں پاکستان کے کئی اہم رہنماؤں سے متعلق بھی چند ایسے معاملات کی نقاب کشائی ہوئی تھی کہ جو سنگین نوعیت کے تھے لیکن وطن عزیز میں انکا قرار واقعی نوٹس نہیں لیا گیا اور عوام کو اس سے بہت مایوسی ہوئی تھی لیکن ابکے پانامہ لیکس کے وقت صورتحال بالکل مختلف ہے اور بظاہر لگتا یوں ہے کہ زیادہ تر اپوزیشن ایک پیج پہ آگئی ہے پانامہ لیکس سے جڑی صورتحال کی سنگینی کی نوعیت کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک کے زیادہ تر سیاسی رہنماؤں سیاسی جماعتوں نے اس جوڈیشیئل کمیشن کو یکسر مسترد کردیا ہے کہ جس کے قیام کا اعلان نواز شریف نے پانامہ لیکس کے حوالے سے تحقیقت کی غرض سے اپنے نشری خطاب میں کیا تھا ،،، وزیراعظم نے نے ان پہ اور انکے خاندان پہ لگائے جانے والے مالی بدعنوانیں کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ان الزامات کی تحقیقات سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کے تحت ایک تحقیقاتی کمیشن کے سپرد کی جارہی ہے- جبکہ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ درحقیقت حکومت نے اس مجوزہ کمیشن کا کردار جوڈیشئیل کمیشن کے بجائے صرف انکوائری کمیشن کے رول تک محدود کر دیا ہے - انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیراعظم تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے منصب سے الگ ہوجائیں اور ایک ریٹائرڈ جج کے بجائے حاضر سروس جج سے تحقیقات کرائی جانی چاہیئیں کیونکہ ایک ممنون شخص سے آزادانہ تحقیق اور انصاف کی توقع عبث ہے- پیپلز پارٹی کے رہنماء اعتزاز احسن نے تو اس معاملے کے آزادانہ فرانزک آڈٹ کا مطالبہ بھی کردیا ہے - ویسے تو استعفیٰ دینے کے علاوہ بظاہر ان مطالبات میں اور کوئی مطالبہ ایسا نہیں ہے کہ جو تسلیم کیا جانا مشکل یا ناممکن ہو لیکن اب جبکہ ایسے ہی الزامات پہ آئس لینڈ کے وزیروعظم مستعفی ہوچکے ہیں تو بظاہر اپوزیشن کو کسی حد تک ایک مورال سپورٹ بھی میسر آچکی ہے لیکن اسکی بنیادیں بہرحال خاصی کمزور ہیں کیونکہ یہاں پاکستان میں آئس لینڈ کی مانند نہ تو عوام مشتعل ہو کر سڑکوں پہ آئے ہیں اور نہ ہی وہاں جیسا کوئی سنگین احتجاج یا عوامی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں اور اسی طرح کئی اور ممالک کے حکمران بھی ایسے ہی الزامات کی ذد میں ہیں لیکن انکے ممالک میں بھی عوامی سطح پہ کوئی ایسا بڑا ہنگامہ بپا نہیں ہوا ہے کہ بات سربراہ کے استعفے کے مطالبے تک جا پہنچی ہو ۔۔ لہٰذا یہ بات تو لکھ رکھیئے کہ ہمارے وزیراعظم استعفیٰ نہیں دینگے تاہم یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کے لیئے کسی حاضر سروس جج کی تقرری کی بات مان لیں یا بات زیادہ بڑھی تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس سب قضیئے کا فارانزک آڈٹ بھی کروالیا جائے - لیکن اس معاملے کے چند اہم پہلو اور بھی ہیں کہ جو شاید ابھی ہمارے سیاسی بقراطوں سے پوشیدہ رہ گئے ہیں کیونکہ اگر وہ ان پہ بھی غور کرلتے تو شاید اس مسئلے پہ اتنا شور ہرگز نہ مچاتے اس معاملے کا ایک اہم پہلو تو یہ ہے کہ جن سیاستدانوں نے اپنی آف شور یا بیرون ملک موجود اس دولت کو چھپایا ہے اور اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا تو الیکشن کمیشن انکے پہلے سے جمع کردہ ان غلط گوشواروں کی بنیاد پہ پارلیمنٹ میں انکی رکنیت کو ختم کرسکتا ہے اور انہیں آئندہ کے لیئے سیاسی عمل سے مکمل باہر کرکے مزید سزا و قانونی کاارروائی کے لیئے انکے معاملات کو عدالت کو بھیج سکتا ہے ،،، اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ چونکہ ایسی زیادہ تر دولت معروف قانونی ذرائع سے بالا ہی بالا بھیجی جاتی ہے لہٰذا بیرون ملک یہ ترسیل زر مالیاتی اسمگلنگ اور ٹیکس چوری دونوں کے ذمرے میں شمار کی جاسکتی ہے یوں یہاں بھی فوجداری کارروائی اور سزایابی کےامکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا -لیکن ایک تیسرا پہلو اور بھی ہے جو بیرون ملک آف شور کمپنیوں بنانے کے اس اسکینڈل سے جڑا ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ حکومت اور اپوزیشن یعنی دونوں ہی جانب کے کئی سیاستدان اور ارکان پارلیمنٹ ان سنگین الزامات کی ذد میں ہیں لہٰذا یہ خطرہ بھی سر پہ منڈلارہا ہے کہ اس کی وجہ سے سارے جمہوری نظام کا ڈبہ ہی گول ہوسکتا ہے - لگتا یہ ہے یہ تینوں پہلو ابھی اپوزیشن کی نگاہ سے اوجھل ہیں ورنہ وہ محض حکومت کا تختہ پلٹانے کی آرزو میں اپنا دھڑن تختہ ہوسکنے کے امکانات کی طرف سے وہ یوں لا تعلق اورغافل نہ ہوتی ،،، اب جبکہ وزیراعظم نے پانامہ پیپرز میں اپنے اہلخانہ کے نام آنے پہ ایک جوڈیشیل کمیشن قائم کر ہی دیا ہے تو انہیں اسے معاملے میں تحقیقات کو زیادہ قابل اعتبار بنانے کے لیئے اپوزیشن کا یہ مطالبہ بھی مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ اس کمیشن کی سربراہی موجودہ چیف جسٹس کو سونپی جائے اور تفتیش کار کے طور جانے مانے و قابل بیورو کریٹ ڈاکٹر شعیب سڈل کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جانا چاہیئے اورپھر سب کو ملکر اس کمیشن کی رپورٹ کے آنے کا انتظار کرنا چاہیئے تاکہ پانامہ سے بڑھتے سونامی کا سدباب کیا جاسکے اور سب حقائق سامنے لاکر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیا جاسکے ۔

    View the full article
  23. Waqas Dar
    سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ انکل انکل ،،، یہ کلچر کا کیا مطلب ہے۔۔۔ پڑوس میں بسنے والے برخوردار پپو میاں نے اچانک ہماری بیٹھک میں‌ جاری محفل میں آکر جب یہ سوال داغا تو بھائی رستم کے منہ سے کھاتے کھاتے سموسہ ہی چھوٹ گیا، انہیں یہ لگا کہ یہ سوال بس انہی سے پوچھا گیا ہے۔۔ پھر انکے ہاتھ اور اعصاب یکایک ساتھ کیوں نہ چھوڑ دیتے ۔۔۔ بیٹھک میں ایک سناٹا سا چھاگیا۔۔۔ سبھی ایک دوسرے کا منہ تکنے اور جیسے دل ہی دل میں لاحول پڑھنےلگے۔۔۔ بچہ بڑوں کو چھوٹا ہوتا دیکھ کر وہیں رک کر انہیں دلچسپی سےدیکھنے لگا۔۔۔ جب تین تین بار ہرایک کا منہ تکا جاچکا تھا اور قریب تھا کہ پپو میاں اس بے تحاشا فکری افلاس پہ تشویش کا اظہار کرے اور برجستہ ملال کربیٹھے تبھی جمن بول پڑے " یہ بھی بھلا کوئی مشکل سوال ہے۔۔۔ " سب نے اطمینان کا سانس لیا کیونکہ سب کی عزت خطرے میں آگئی ہوئی تھی اور اب جمن اسے بچاتے معلوم ہورہےتھے۔۔۔ " میاں کوئی مشکل سوال کرو اسکا جواب تو ہمارے بھائی رشید بھی دے سکتے ہیں۔۔ عین اسی وقت بھائی رشید چائے کی خالی پیالیاں اٹھاتے پھسل کر گرپڑے۔۔۔ گرتے گرتے یہ پیالیاں انکے کرتے کے دامن کو بھی داغدار کرگئیں اور وہ ان داغوں کومٹانے غسلخانے میں جاگھسے ادھر ادھر ہوجانے کے اس نادر موقع سے وہ بھلا کیوں فائدہ نہ اٹھاتے۔۔۔ اتنا سب کچھ ہوجانے پر بھی پپو اپنا سوال تھامےوہیں کھڑا تھا۔۔۔ اسکی اس بے حسی پہ سبھی نے اسے غصے سے گھورا ،،، "کیا فضول اور فالتو سوال اٹھا لاتے ہو اور سب کو تنگ کرتے پھرتے ہو۔۔۔" تابش دہاڑے "لیکن انکل اس میں فضول والی کیا بات ہے۔۔" پپو میاں نے ستفسار کیا " لیجیئے اب ایک اور سوال آگیا" جمن بڑبڑائے وہ اس نئی افتاد کیلیئے تیار نا تھے " بھئی بتا ڈالو نا اس معمولی سے سوال کا جواب۔۔۔ " بھائی رشید نے کمرے کے باہر سے ہی ہانک لگائی،، وہ اب اندر آنے میں دلچسپی نہ رکھتے تھے عاجز آکر تابش نے پپو میاں سے کہا "لو میں بتاتا ہوں کہ کلچر کیا ہے۔۔۔ " یہ کہ کر تابش نے کمرے میں فاتحانہ نظر دوڑائی اور سلسلہ کلام جاری رکھا " یہ کلچر اصل میں کسی ملک کے لوگوں کی زبان اور لباس ہوتا ہے"۔۔۔ " نہیں میرا خیال ہے کہ رہنے سہنے کا طریقہ کلچر کہلاتا ہے " رشید منمنائے " یہ سب فروعی باتیں ہیں، اصل میں کسی ملک کا مذہب ہی وہاں کا کلچر ہوتا ہے" اب کےخواجہ کے دہاڑنے کی باری تھی ۔۔۔ "انکل دنیا کے بہت سے ملکوں میں بہت سے مذہبوں کے لوگ رہتے ہیں الگ الگ زبانیں بولتے ہیں اسی طرح ہمارے ملک کے کے کئی صوبوں اور علاقوں کے لوگوں کی زبانیں اور لباس بھی الگ الگ ہیں۔۔۔ تو کیا دنیا بھر کے ملکوں کا اور ہمارے ملک کا کوئی ایک کلچر نہیں ہے۔۔۔؟" پپو میاں کے اس ضمنی سوال نے تابش میاں کے اوسان خطا کردیئے ۔۔۔" میاں ایک تو تم سوال بہت کرتے ہو۔۔" تابش بہت بےبسی سے غرائے۔۔ " کیا صرف 2 سوالوں کو بہت کہا جاسکتا ہے۔۔" پپو میاں نے ترنت ایک اور سوال اٹھادیا،،۔۔ اب تابش ایک ایسی ہزیمت سے دوچار تھے کہ جس میں اہل بیٹھک کی مدد لازمی نا ملتی تو نروس بریک ڈاؤن کا احتمال تھا۔۔۔ " پپو میاں ابھی تم جاؤ۔۔ بعد میں آنا ، ابھی ذرا کچھ اہم مسئلے پہ بات ہورہی ہے ۔۔" خواجہ منمنائے۔۔ پپو انہی کا بھتیجا تھا اور انکی نسبت سے ہم سب کا بھتیجا، خواجہ ڈیپریشن کے مریض تھے اسلیئے ان سے ایسے سوالات مہلک ہوسکتے تھے۔۔۔ بچے نے "براہ اقربا پروری" اسی لیئے انکی طرف رجوع ہی نا کیا تھا،،، " پھر کب آجاؤں۔۔" بچے نے ہم سب کو ترس کھانے والے انداز میں گویا رعایت سی دی پھر مزید کہنے لگا "دراصل مجھے کل اسکول سے "کلچر" کے عنون سے ایک مضمون لکھنے کو ملا ہے۔۔ اور تین روز میں دینا ہے"۔۔۔ "اررررےےے اس میں ایسا کیا مسئلہ ہے،،، تم کل آکر ضرور لے جانا اپنا مضمون پپو میاں۔۔" چچا (خواجہ) نے بھتیجے پہ خاص شفقت فرمائی تھی کیونکہ اچانک انکے پیش نظر بے روزگار پھرتے ادیب عدنان کڑکی کی ممکنہ مددگاری آگئی تھی ،، پپو میاں کے واپس جاتے ہی کمرے میں ہر طرف سکون کی اجتماعی سانس لی گئی ،،، سب کے چہروں پہ رونق لوٹ آئی ،،، سب پہ ایک دوسرے کی ''علمیت آشکار'' ہو چکی تھی ،،، بھائی رستم نے نارمل صورتحال کی یوں بحالی پہ باآواز بلند خدا کا شکر ادا کیا اور گلا کھنکھار کر اپنی پاٹ دار آواز میں بولے ،،، ویسے پپو میاں کے اس سوال کے بعد ہمیں یہ جاننے کی کوشش تو کرنی چاہیئے نا کہ کلچر آخر ہوتا کیا ہے ،،، جعفر جو ابتک بہت دیر سے چپ بیٹھے تھے اچانک بول اٹھے ،،، یار یہ کلچر ولچر سب فضول باتیں ہیں کیونکہ انہیں جاننے سے یا نہ جاننے سے کسی کلچر کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ،،، یہ سب دانشوروں کےچھوڑے ہوئے شوشے ہیں جنہیں اصطلاحات کے نام پہ وہ ہمیں مرعوب کرنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں یہ کلچر انہی میں سے ایک ہے ،،، رشید نے حوصلہ پاکر جعفر کی بات کی یوں تائید کی ۔۔۔ "ہاں بھئی یہ دانشور ہر زمانے میں بہت دقت اور بڑی مشکل سے آسان بات کو پیچیدہ بنانے میں لگے رہتے ہیں ،،، کلچر بھی اک ایسی ہی آسان بات ہے جسے پیچیدہ بنادیا گیا ہے۔۔۔!!" اس پہ رستم لپک کے بولے " تو آپ ہی وہ کلچر کے بارے میں وہ آسان بات کیوں نہیں نہیں بتا دیتے کہ جسے دانشوروں نے مشکل بنادیا ہے،،،" رستم کی اس مداخلت پہ جعفر بوکھلا کر بولے " میاں آسان بات یہ ہے کہ کلچر میں سب کچھ شامل ہے اور جونہیں بھی ہے وہ بھی بیشک ڈال لو تو بھی کلچر کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ نہ اسکا کوئی منہ ہے نہ آنکھیں یا ہاتھ پیر ،،، کہیں کوئی کلچر ہو یہ نا ہو ،،، وہاں جو کام جیسے ہورہا ہے ویسے ہی چلتا رہے گا-۔۔۔!" کلچر کلچر کی اس تکرار سے سبھی تنگ آچلے تھے اور ماحول کے بوجھل پن کو ختم کرنے کیلیئے لازم تھا کہ کوئی اور بات کی جائے سو خواجہ صاحب نے کہا کہ شام کو عدنان کڑکی سے رابطہ کرکے اس موضوع پہ کچھ لکھ دینے کو کہوں گا،،، اسکی جیب بھی کچھ گرم ہوجائے گی اور پپو میاں کے سامنے ہم سب کی عزت بھی رہ جائے گی ۔۔۔ اس پہ سب نے یکبارگی آنکھیں بند کرکے دوبارہ سکون کی اجتماعی سانس لی اور کل تک کے لیئے یہ محفل برخواست ہوگئی عدنان کڑکی اک ایسا گشتی قلمکار تھا کہ جو کسی بھی وقت اور کہیں بھی، کچھ بھی لکھنے پہ مائل رہتا تھا،،،اور ہروقت کان پہ قلم رکھے گھوما کرتا تھا ۔۔ ایم اے اردو ادب ہونے کے باوجود اسکی طبیعت کبھی ملازمت کی طرف رغبت نا ہوئی اور یونہی دوستوں اور "ضررورتمندوں" کے بل پہ اک عجب بےڈھب سی زندگی سے الجھا ہوا تھا۔۔۔ کبھی اسکی جیب خالی ہوتی تھی تو کبھی بھری ہوئی لیکن اپنے کام کا کوئی نہ کوئی معاوضہ وہ ضرور وصول لیا کرتا تھا- پہلے سستے دنوں میں اسکی علمی مشقت کی اجرت ایک مسکا بند اور دودھ پتی کی چائےہوا کرتی تھی لیکن اب ترقی پاکر وہ گولڈلیف کا پیکٹ بھی ساتھ ہی منگوا لیا کرتا تھا۔۔۔ اگر کام زیادہ بڑا ہو تو دھڑلے سے کھانا بھی طلب کرلیتا تھا۔۔۔ وہ دکانوں کے تھڑوں پہ اور چائے خانوں کی بینچوں پہ اکثر ہی کہیں نا کہیں رکھا ہوا ہوتا تھا ۔۔۔ ڈھوھونڈنے سے مشکل سے ہاتھ لگتا تھا اور بغیر ڈھونڈے ہر وقت دستیاب تھا۔۔۔ پپو میاں کی جانب سے "ہمارا کلچر" کے عنوان سے ایک مضمون فٹافٹ لکھنے کی فرمائش کو ٹالنا بیحد مشکل تھا کیونکہ وہ خواجہ صاحب کا بھتیجا تھا اور اس لحاظ سے ''جگت بھتیجا'' تھا اور تھا بھی بہت تیز اور چلبلا سو سبھی ''منڈلی'' کی توقیر خطرے میں تھی اور ایسے میں عدنان سے رجوع کیاجانا ناگزیر تھا۔۔۔ عدنان چونکہ لکھنے کا دھتی تھا اور اسکی اجرت وصولنے میں ذرا نہ شرماتا تھا لہٰذا اسنے پوری مستعدی سے یہ مضمون لکھنے کی حامی بھرلی ،،، لیکن اس سے ایک بہت بڑی چوک ہوگئی ،،، ایک غیر معمولی غلطی ،،، کیونکہ جب اگلے دن وہ مضمون لکھ کر لائے تو سرنامے پہ عنوان ''کلچر '' کے بجائے ''کلچہ'' لکھا ہوا تھا ۔۔۔ اس پہ سبھی اہل محفل کے منہ لٹک گئے ۔۔۔ عدنان دراصل نہایت عجلت باز آدمی ہیں اور بات صحیح طرح نہ سننے کی وجہ سے مضمون کا عنوان کلچر کے بجائے " کلچہ" سمجھ بیٹھے اور اس پہ دوسرے ہی دن فوری ادائیگی کی امید میں شتابی سے ایک گرماگرم مضمون لکھ لائے ،،، سبھی انکی اس حرکت پہ بہت پریشان ہوئے لیکن وہ بولے ،،، "بھائیو ، آپکا غم اپنی جگہ لیکن میرا یہ مضمون ذرا پڑھ تو لیں " ۔۔۔ جس پہ انکے ہاتھ سے صفحات لے کر جعفر نے بلند آواز میں سب مضمون پڑھ ڈالا ،،، انکی بے پایاں تحریری صلاحیت اس مضمون میں پوری طرح جلوہ گر تھی اور وہ ساری تحریر تشبیہات استعارات اور محاوروں کی ندرت سے آراستہ تھی ۔۔۔ سبھی عش عش کر اٹھے لیکن زیادہ عمدہ اور بہت حیرت کی بات اس مضمون میں یہ تھی کہ ''کلچہ'' کے موضوع پہ لکھا گیا یہ مضمون ذراسی تبدیلیوں کے بعد '' کلچر'' کے موضوع کیلیئے بھی مکمل فٹ" تھا اور اسے باآسانی پپو میاں کو دیا جاسکتا تھا اور اس پہ اہل محفل میں کوئی دو رائے نہیں تھیں

    View the full article
  24. Waqas Dar
    ۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ پاکستان میں نصابی کتب کے علاوہ کتب بینی اب خال خال ہی رہ گئی ہے ،،، کہیں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے ذوق مطالعہ کو نگل لیا ہے تو کہیں موبائل کی سہولتیں اپنا جال پھیلائے بیٹھی ہیں ،،، اور وہاں سبھی کچھ تو ہے مصروف رکھنے کیلیئے ،، موبائل سےعوام کا دامن دل چھوٹے تبھی کسی اور جانب توجہ دینا ممکن ہوسکتی ہے ۔۔۔ اسی لیئے اب پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ اگر کہیں کوئی اچھی کتاب شائع ہو اور قاری بوجوہ نہ پڑھ سکے یا کسی سبب اس جانب عدم توجہی کا معاملہ ہو تووسیع المطالعہ لوگ ایسی کتابوں کو ان سے روشناس کرادیں اور اگر ممکن ہو تو اسکے خلاصے اور متن کے اہم پہلوؤں سے آگاہ کردیں - یہاں میں نے بھی ایسی ہی کوشش کی ہے اور معاملہ بھی ایک نہیں پوری دو وقیع کتابوں کا ہے اور دونوں محترم رضی الدین سید کی ہیں کہ جو ایک نامور صحافی ہی نہیں معروف محقق بھی ہیں - انکی خاص شناخت ایک ایسے محقق اور لکھاری کی ہے کہ جو یہودیت اوراسکی تاریخ پہ عبور رکھنے کے علاوہ اسرائیلی عزائم اور سازشوں کا بھرپور ادراک رکھتا ہے اور اس حوالے سے حالات میں وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے اتار چڑھاؤ پہ بہت گہری نظر رکھتا ہے رضی الدین سید صاحب کی پہلی کتاب معرکہ عظیم کے عنوان سے سامنے آئی ہے اور اس کے تاریخی و مفصل مواد سے یہ بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ انہیں صیہونیت اور اسکی تاریخ و عزائم کے حوالے سے بجا طور پہ پاکستان میں اس شعبہ کی اتھارٹی قرار دیا جاسکتا ہے - انکی یہ کتاب دراصل اس موضوع کے حوالے سے لکھے گئے انکے ان وقیع مضامین پہ مشتمل ہے کہ جو مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوچکے ہیں اور ان مضامین میں یہود کی تاریخ کا جائزہ بھی لیا گیا ہے اور اس میں یہودی سازشوں‌اور علامات قیامت کے طور پہ عصر حاضر پہ انکے انطباق کو آسان انداز میں سمجھانے کی بہت عمدہ کوشش کی گئی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اور صیہونیت عالمی امن کے سینے کے گلتے سڑتے ناسور ہیں اور انکی گھناؤنی منصوبہ بندیوں اور سازشوں کا تمامتر رخ اسلام اور عالم اسلام کی جانب ہے ۔۔۔ یہہودی ہمیشہ سے سازشی و تخریب کار ہیں لہٰذا خدا کی مسترد کردہ قوم ہیں اور انکا وجود صرف اسلیئے برقرار رکھا گیا ہے کہ سچے اہل ایمان کی استقامت کی جانچ کی جاسکے مصنف کا خود یہ کہنا ہے اور اس سے اتفاق کیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ انہوں نے اس کتاب کواس انداز میں لکھا ہے کہ اسکو پڑھ کر مسلمانوں کو یہودی عزائم، دجال کی سازشوں اور عالم اسلام کو درپیش خوفناک حالات کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا اور وہ بڑی حد تک جان جائیں گے کہ ہمارے ملک میں طویل عرصے سے جاری تباہ کن سیاسی معاشی اور سماجی حالات آخر کن قوتوں کے ہاتھوں وقوع پزیر ہورہے ہیں رضی الدین سید کی دوسری کتاب گوانٹاناموبے بیتی ایک امریکی فوجی جیمز یوسف کی لکھی گئی کتاب کا ترجمہ ہے کہ جس نے مسیحیت کی گود میں پلنے کے باوجود اسلام کے لیئے اپنے دل میں بہت کشش محسوس کی اور اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اور اسلامی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیا -اسکے بعد وہ امریکی فوج میں بحیثیت چیپلین یا مذہبی مبلغ کی کٹیگری میں بھرتی ہوا کیونکہ امریکی فوج میں مختلف مذاہب کی تفہیم کے لیئے مبلغین کو بھی ملازمت دی جاتی ہے- جیمز یوسف کی زندگی میں بہت بڑا ناخوشگوار موڑ اس وقت آیا کہ جب وہ مزید مذہبی تعلیم کے لیئے شام گیا اور اسی دوران اسنے وہاں شادی بھی کرلی - بعد میں وہ اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ اپنی ملازمت پہ لوٹ آیا اور شام میں قیام اور تعلیم کے تناظر میں وہ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی نظروں میں مشکوک ہوگیا اور بالآخر گرفتار کرلیا گیا اور امریکی شہری ہونے کے باوجود کیوبا کے قریب اک جزیرے گوانتاموبے کے بدنام زمانہ حراستی و تفتیشی مرکز میں نظربند کردیا گیا جہاں اسے کئی ماہ تک بہت غیرانسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور نہایت ذلت آمیز ماحول میں رکھا گیا اور اسے خود کو ایک بےخطا و بےقصور شہری ثابت کرنے کیلیئے بہت طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی گوانتاناموبے کے قید خانے کے زہنی و جسمانی اذیتوں کے اس گھناؤنے دور نے اسکی نفسیات اور رائے پہ بہت منفی اثرات مرتب کیئے اور اسنے امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی نہایت متعصبانہ اسلام مخالف سرگرمیوں اور مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا پردہ چاک کرنے اور انکا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کرلیا اور پھر اس نے ایک کتاب لکھی کہ جس میں اسنے اپنے اوپر گزری سب مشکلات اور قید و بند کے ایام کی روداد بیان کردی اور یوں امن و انسانیت اور انصاف کے چیمپیئن امریکا کی اصلیت دنیا پہ آشکار کرڈالی رضی الدین سید صاحب نے جیمز یوسف کی اسی معرکتہ الآراء کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھال کر قوم کے سامنے پیش کردیا ہے اور بلاشبہ ترجمے کو ایک فن کا درجہ دیدیا ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ترجمے کو ایک ایسا اسلوب عطا کیا ہے کہ اکثر جگہ ترجمہ اصل کتاب سے کہیں زیادہ پڑھنے لائق ہوگیا ہے لیکن چونکہ ہم روایت پسند ہیں اور اسی سبب ہم مردہ پرست لوگ ہیں لہٰذا زندگی ہی میں رضی الدین سید کو بلند مقام دیکر اپنی روایات کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتے ،،، امت مسلمہ میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوس خاطر خواہ پزیرائی کیلیئے مرحوم ہونا شرط لازم ہے ،،، میں ان کتابوں کو خریدنے اور پڑھنے کی سفارش کرتا ہوں اسکے باوجود کے پاکستان میں کتاب خریدنا شاید معیوب سمجھا جاتا ہےاور اگر کوئی کتاب خریدتا دیکھا جائے تو بہت فارغ بندہ سمجھا جاتا ہے اسی لیئے پہلے کچھ لوگ پہلے تو کبھی کتاب چرا بھی لیا کرتے تھے ، لیکن اب یہ ہنر صرف قیمتی اشیاء کیلیئے مخصوص کردیا گیا ہے،،، یعنی لائبریریاں ہی اب وہ محفوظ مقام ہیں کہ جہاں اب چوروں کا دھڑکا نہیں ، لیکن پھر بھی میری رائیے یہ ہے کہ ان وقیع کتابوں کو ہر صاحب ذوق فرد کے ذخیرہء کتب میں اور ہر لائبریری کی زینت ضرور بننا چاہیئے-

    View the full article
  25. Waqas Dar
    ۔۔۔ جویریہ صدیق ۔۔۔۔ کل پھر عالم برزخ میں معصوم نہتے پاکستانی بچوں کا ایک غول اڑ کر پہنچا ۔یہ معصوم سوچ رہے ہیں ہم تو پارک میں مزے سے جھولے لئے رہے تھے ابھی تو پاپ کارن ، بھنے چنے ،برگر ،آئیس کریم اور میٹھے لچھے کھانا باقی تھے ۔ابھی تو کشتی کی سیر کرنی تھی چڑیا گھر بھی جانا تھا پر ایک زور دار آواز کے بعد ہم سب بچے رونے لگے پھر ہم یکدم یہاں کیسے آگئے امی ابو کہاں گئے۔ ایک بچہ دوسرے بچے سے کہنے لگا میں نے کوئی ضد بھی نہیں کی تھی نا کسی چیز کی فرمائش پھر بھی ہم یہاں کیسے آگئے۔دوسرے بچے نے کہا میرے امتحان ابھی ختم ہوئے تھے 31 مارچ کو میرا نتیجہ آنا تھا میں تو خود فرمائش کرکے پارک آیا تھا کیونکہ میں نے ماما پاپا کو بتا دیا تھا کلاس میں اس بار میں ہی فرسٹ آوں گا۔ میں گلشن اقبال پارک آیا خوب کشتی کی سیر پھر یکدم دھماکہ ہوا ہر طرف شور آگ اور مٹی کا طوفان پھر مجھے کچھ یاد نہیں۔دہشت گرد گندے ہیں وہ کبھی ہمارے سکولوں تو کبھی پارکوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ تیسرا بچہ بولا جب میں بڑے گول والے ویل میں بیٹھا تھا تو سب کچھ کتنا اچھا لگ رہا تھا جب جھولا یکدم نیچے آتا تو مجھے کتنا ڈر لگتا لیکن نیچے ہاتھ ہلاتے امی ابو کو دیکھ کر میں بہادر بننے کی کوشش کرتا اور چہرے پر خوف کو طاری نا ہونے دیتا کیونکہ میں خود فرمائش کرکے گلشن اقبال پارک جو آیا تھا۔مجھے معلوم تھا امی ابو مجھے مالز میں بنے مہنگے انڈور پارکس میں نہیں لئے کر جاسکتے وہاں جھولوں کے ٹکٹ مہنگے جو ہوئے۔ آج اتوار کا دن تھا اور ایسٹر بھی میری طرح بہت بچے پارک میں مزے کر رہے تھے۔کوئی جھولے لئے رہا تھا کوئی دوڑ لگا رہا تھا تو کوئی مزے مزے کی چیزیں کھا رہا تھا۔ہم سب خوشی سے کبھی ایک جھولے تو دوسرے جھولے پر جارہے تھے۔بس یکدم ایک آواز آئی ہر طرف چیخ و پکار مچ گئ ۔میرے سارے پسندیدہ جھولے ٹوٹ گئے۔جو دوست میں نے پارک میں آکر بنائے تھے وہ سب خون سے نہا گئے۔مجھے امی ابو بھی نہیں مل رہے تھے اور میں کب یہاں پہنچ گیا معلوم نہیں۔ ان لاہور کے بچوں کے پاس اے پی ایس پشاور کے بچے آکر پوچھنے لگے ہم تو سمجھ رہے تھے کہ ہماری قربانی کے بعد شاید پاکستان میں آگ و خون کا کھیل رک گیا ہوگا ۔شاید ہمارے جانے کے بعد انکل نواز نے انکل راحیل اور انکل عمران کے ساتھ مل کر دہشتگردی کا خاتمہ کردیا ہوگیا۔کیا آج بھی پاکستانی متحد نہیں کیا آج بھی دہشتگردوں کو اچھے برے کی تفریق سے جانا جاتا ہے۔کیا آج بھی دہشتگرد ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بناریے ہیں۔ لاہور اور پشاور کے شہید بچے پھر سسکتے ہوئے دعا کرنے لگے کہ اے اللہ پاکستانیوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کر۔ پاکستانی اپنے اصل دشمنوں کو پہچان سکیں اور اپنے بچوں کو دہشتگردی سے محفوظ رکھ سکیں ۔پھر کوئی والدین اپنے بچوں کو دہشتگردی میں ہمیشہ کے لئے کھو دینے کے کرب سے نا گزرے جس سے ہمارے والدین گزر رہے ہیں۔پھر کبھی کسی بچے کا بستہ خون سے تر نا ہو پھر کسی بچے کے پسندیدہ جھولے نا ٹوٹیں ۔ آمین

    View the full article
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...