👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

FDF Members Poetry

  • entries
    163
  • comments
    120
  • views
    37,584

Contributors to this blog


جب ہجر کی آگ جلاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
آنکھوں میں راکھ سجاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
موسم کے رنگ بدلتے ہیں لہرا کر جھونکے آتے ہیں 
شاخوں سے بور اڑاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
یادوں کی گرم ہواؤں سے آنکھوں کی کلیاں جلتی ہیں 
جب آنسو درد بہاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
بے درد ہوائیں سہ سہ کر سورج کے ڈھلتے سائیوں میں 
جب پنچھی لوٹ کے آتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
جب لوگ جہاں کے قصوں میں دم بھر کا موقعہ ملتے ہی 
لفظوں کے تیر چلاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
یہ عشق محبت کچھ بھی نہیں فرصت کی کارستانی ہے 
جب لوگ مجھے سمجھاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
جب کالے بادل گھر آئیں اور بارش زور سے ہوتی ہو 
دروازے شور مچاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
جب آنگن میں خاموشی اپنے ہونٹ پہ انگلی رکھے ہو 
سناٹے جب در آتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
جب سرد ہوا کا بستر ہو اور یاد سے اس کی لپٹے ہوں 
تب نغمے سے لہراتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں 
جب اوس کے قطرے پھولوں پر کچھ موتی سے بن جاتے ہیں 
 تب ہم بھی اشک بہاتے ہیں کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں

 

1.jpg

3 Comments


Recommended Comments

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.



×
×
  • Create New...