👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

FDF Members Poetry

  • entries
    163
  • comments
    120
  • views
    37,584

Contributors to this blog

اجڑے ہوئے آتے ہیں سدا دل کو راس لوگ


اجڑے ہوئے آتے ہیں سدا دل کو راس لوگ
دل کو بھلے کیوں لگتے ہیں اتنے، اداس لوگ
اندر سے تار تار کوئی دیکھتا انہیں
محفل میں چند آئے تھے جو خوش لباس لوگ
جانے ہوا تھا کس گھڑی باب قبول وا
کہنے کو رات بھر تھے کف التماس لوگ
ہر در نظر آتا ہے مجھے دن میں مقفل
اس درجہ ہو گئے ہیں محیط ہراس لوگ
میں نے تو ان کو اپنا لہو تک پلا دیا
پھر بھی بجھا نہ پائے ہیں اپنی پیاس لوگ
لوگوں کی تشنگی کا تو عالم نہ پوچھیئے
دریا کو دیکھ کر بھی ہو ئے بدحواس لوگ
پھر کیوں نہ بام و در پہ قیامت کا حبس ہو
جانے کدھر چلے گئے پھولوں کی باس لوگ
دیکھا اسے جو آج تو سایہ نہ ساتھ تھا
رہتے تھے ہمہ وقت جس کے آس پاس لوگ
ہر بات اپنی سب کی طبیعت پہ بار تھی
 قیصر ملے کہاں ہیں طبیعت شناس لوگ

 

1.jpg

2 Comments


Recommended Comments

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.



×
×
  • Create New...