Urooj Butt 861 Posted October 16, 2016 Posted October 16, 2016 کچھ اور عشق کا حاصل نہ عشق کا مقصود جزانیکہ لطفِ خلشائے نالۂ بے سُود مگر یہ لُطف بھی ہے کچھ حجاب کے دم سے جو اُٹھ گیا کہیں پردہ تو پھر زیاں ہے نہ سُود ہلائے عشق نہ یُوں کائناتِ عالم کو یہ ذرے دے نہ اُٹھیں سب شرارۂ مقصود کہو یہ عشق سے چھیڑے تو سازِ ہستی کو ہرایک پردہ میں ہے نغمہ "ہوالموجُود یہ کون سامنے ہے؟ صاف کہہ نہیں سکتے بڑے غضب کی ہے نیرنگی طلسمِ نمُود اگرخموش رہوں میں، تو تُو ہی سب کچھ ہے جو کچھ کہا، تو تِرا حُسْن ہوگیا محدُود جو عرض ہے، اُسے اشعار کیوں مِرے کہیئے اُچھل رہے ہیں جگر پارہ ہائے خُوں آلوُد نہ میرے ذوقِ طلب کو ہے مدّعا سے غرض نہ گامِ شوق کو پروائے منزلِ مقصُود مِرا وجُود ہی خود انقیاد و طاعت ہے کہ ریشہ ریشہ میں ساری ہے اِک جبِینِ سجُود 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.