Urooj Butt👑 Posted October 20, 2016 Posted October 20, 2016 اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں 3
waqas dar⚙ Posted October 25, 2016 Posted October 25, 2016 زمیں یہ اوپر اٹھائی جائے اٹھا کے نیچے گرائی جائے درندوں کے ہاتھ لگنے سے اب خدارا جنت بچائی جائے لگے نہ پاؤں زمیں پہ جس کے وہ لاش کیسے اٹھائی جائے قصاب سارے مشیر کر کے "لہو کی قیمت لگائی جائے" تڑپتے لاشوں پہ ترس کھا کے کوئی تو چادر بچھائی جائے جو ماں قیامت سے گزری اس کی کہانی رو کر سنائی جائے خدایا ان قاتلوں کی خاطر زمیں پہ جنت بنائی جائے 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now