Ahmed Faraz
Ahmed Faraz احمد فراز Biography !
احمد فراز
تخلص فراز کمیونسٹ
پیشہ اردو شاعر, لیکچرر
قومیت پاکستانی
Spoilerنژادیت پشتون سید
شہریت پاکستانی
تعلیم ایم اے اردو, ایم اے فارسی
مادر علمی پشاور ماڈل سکول
جامعہ پشاور
لکھائی دور 1950 - 2008
صِنف اردو غزل
موضوعات عشق , تحریک مزاحمت
ادبی تحریک پروگریسو رائٹرز موومنٹ/ڈیموکریٹک موومنٹ
نمایاں اعزاز(ات) ہلال امتیاز
ستارہ امتیاز
نگار ایوارڈاولاد 3 بیٹے: سعدی, شبلی اور سرمد فراز
(اہل و عیال سید محمد شاہ برق (والد
(سید مسعود کوثر (بھائیاحمد فراز میں کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ " تنہا تنہا " شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی ۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ " درد آشوب " چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے " آدم جی ادبی ایوارڈ " عطا کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوۓ ۔ انہیں 1976 ء میں اکا دکی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبورا جلا وطنی اختیار کرنی پڑی ۔
احمد فراز میں کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ " تنہا تنہا " شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی ۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ " درد آشوب " چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے " آدم جی ادبی ایوارڈ " عطا کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوۓ ۔ انہیں 1976 ء میں اکا دکی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبورا جلا وطنی اختیار کرنی پڑی ۔آپ 2006 ء تک " نیشنل بک فاؤنڈیشن " کے سربراہ رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی انٹرویو کی پاداش میں انہیں " نیشنل بک فاؤنڈیش" کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ۔ احمد فراز نے 1988 ء میں " آدم جی ادبی ایوارڈ " اور 1990ء میں " اباسین ایوارڈ" حاصل کیا ۔ 1988 ء مین انہیں بھارت میں " فراق گورکھ پوری ایوارڈ" سے نوازا گیا ۔ اکیڈمی آف اردو لٹریچر ( کینڈا ) نے بھی انہیں 1991ء میں ایوارڈ دیا ، جب کہ بھارت میں انہیں 1992 ء میں "ٹاٹا ایوارڈ " ملا۔انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے ۔ ان کا کلام علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے ۔ جامعہ ملیہ (بھارت ) میں ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا گیا جس کا موضوع " احمد فراز کی غزل" ہے ۔ بہاولپور میں بھی " احمد فراز ۔فن اور شخصیت کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا ۔ ان کی شاعری کے انگریزی ،فرانسیسی ،ہندی،یوگوسلاوی،روسی،جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں ۔احمد فراز جنہوں نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش کی تھی، اپنی شاعری کے زمانۂ عروج میں فوج میں آمرانہ روش اور اس کے سیاسی کردار کے خلاف شعر کہنے کے سبب کافی شہرت پائی۔ انہوں نے ضیاالحق کے مارشل لا کے دور کے خلاف نظمیں لکھیں جنہیں بہت شہرت ملی۔ مشاعروں میں کلام پڑھنے پر انہیں ملٹری حکومت نے حراست میں لیے جس کے بعد احمد فراز کوخود ساختہ جلاوطنی بھی برداشت کرنا پڑی۔سنہ دوہزار چار میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن دو برس بعد انہیں نے یہ تمغا سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کر دیا۔ احمد فراز نے کئی نظمیں لکھیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی غزلیات کو بھی بہت شہرت ملی۔
37 topics in this forum
-
- 1 follower
- 0 replies
- 344 views
📘 Ahmed Faraz Poetry & Biography | Romantic Urdu Shayari 📝 Famous Poetry رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ Roman: Ranjish hi sahi dil hi dukhane ke liye aa اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں 📜 Ahmed Faraz Biography (Roman Urdu) Ahmed Faraz Urdu adab ke bohat mashhoor aur maqbool shair thay jo apni romantic aur jazbati shayari ke liye jane jate hain. Unka asal naam Syed Ahmad Shah tha. Aap 14 January 1931 ko Kohat, Pakistan mein paida huay. Aap ne apni ibtadai taleem Kohat se hasil ki aur baad mein University of Peshawar se …
Last reply by Sahrish Dar, -
-
- 8 replies
- 3.8k views
پیام آئے ہیں اُس یارِ بے وفا کے مجھے جسے قرار نہ آیا کہیں، بُھلا کے مجھے جدائیاں ہوں تو ایسی کہ عمر بھر نہ مِلیں فریب دو تو ذرا سلسلے بڑھا کے مجھے نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم کہ لے اڑا ہے کوئی دوش پر ہَوا کے مجھے میں خود کو بُھول چکا تھا، مگر جہاں والے اُداس چھوڑ گے آئنہ دِکھا کے مجھے تمہارے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مجھے کھنچی ہُوئی ہے مِرے آنسوؤں میں اِک تصویر فراز! دیکھ رہا ہے وہ، مُسکرا کے مجھے احمد فراز
Last reply by Zarnish Ali, -
- 7 replies
- 3k views
ﺷﻌﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻞ ﺑﺠﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺟﻮ ﺯﮨﺮ ﭘﯽ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ ﺳﻼﻣﺖ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮮ ﺧﺴﺮﻭﺍﻥِ ﺷﮩﺮ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁ ﺳﮑﻮﮞ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﮐﺐ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻓﺮﺍﺯ ﮐﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯؔ
Last reply by Zarnish Ali, -
- 25 replies
- 9.5k views
ﺟﻮ ﭼﻞ ﺳﮑﻮ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﺎﻝ ﭼﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ____ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﺪﻝ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﺷﻌﻠﮕﯽ ﮨﻮ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺳﻮ ﻻﺯﻣﯽ ﺗﮭﺎ ____ ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺮﮨﻦ ﮐﺎ ﺟﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﻣﺎﮞ ____ ﯾﮧ ﻭﻗﺖ ﺁﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ____ ﭼﺎﺭﮦ ﮔﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺁﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﻟﮕﺎ ____ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺳﺠﯽ ﺳﺠﺎﺋﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺕ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻮﺭﺧﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﻘﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ____ ﻣﺤﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺍِﺳﯽ ﺳﺎﻋﺖِ ﺯﻭﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ____ ﺳﺒﮭﯽ ﺳﻮﺭﺟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﮬﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ____ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺳﺎﮞ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ____ ﺳﻨﺒﮭﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ
Last reply by Zarnish Ali, -
- 1 reply
- 2.7k views
تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو …
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.4k views
اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام …
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 4.2k views
مستقل محرومیوں پر بھی تو دل مانا نہیں لاکھ سمجھایا کہ اس محفل میں اب جانا نہیں خود فریبی ہی سہی کیا کیجئے دل کا علاج تو نظر پھیرے تو ہم سمجھیں کہ پہچانا نہیں ایک دنیا منتظر ہے اور تیری بزم میں اس طرح بیٹھے ہیں ہم جیسے کہیں جانا نہیں جی میں جو آتی ہے کر گزرو کہیں ایسا نہ ہو کل پشیماں ہوں کہ کیوں دل کا کہا مانا نہیں زندگی پر اس سے بڑھ کر طنز کیا ہوگا فراز اس کا یہ کہنا کہ تو شاعر ہے دیوانہ نہیں احمد فراز
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2k views
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 2.4k views
بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن عام ہو نہ دیکھنے میں عام سینہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگےمگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سا سفر لگے کوئی بھی رت ہو اسکی چھب، فضا کا رنگ و روپ تھی وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی، وہ سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے ، نہ ساتھ صبح و شام رہےنہ رشتہء وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذن عام ہونہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے ۔ ۔ ۔ نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو کبھی تو بات بھی خفی، کبھی سکوت بھی سخنکبھی تو کشت زاعفراں، کبھی اداسیوں کا بنسنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جان فزا تو کیا ،فراق جانگسسل کی بھی سوایک روز کیا ہوا ، وفا پہ بحث چھڑ گئی میں عشق …
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2.3k views
اک پہیلی زندگی چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دِن ’’دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دِن‘‘ وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش اظہار کی زبان میں لکنت کے رات دِن وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دِن سودائے آذری میں ہوئے صنم گری وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دِن اِک سادہ دِل ، دیارِ کرشمہ گراں میں گم اِک قریۂ طلسم میں حیرت کے رات دِن لب ہائے نارسیدہ کی لرزش سے جاں بلب صہبائے ناچشیدہ کی لذت کے رات دِن روئے نگار و چشمِ غزالیں کے تذکرے گیسوئے یار و حرف و حکایت کے رات دِن ناکردہ کاریوں پہ بھی بدنامیوں کا شور اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دِن سوداگرانِ منبر و مکتب سے رو کشی جاں دادگان…
Last reply by Sahrish Dar, -
- 4 replies
- 9.5k views
تم کہ سنتے رہے اوروں کی زبانی لوگو ہم سُناتے ہیں تمہیں اپنی کہانی لوگو کون تھا دشمنِ جاں وہ کوئی اپنا تھا کہ غیر ہاں وہی دُشمنِ جاں دلبرِ جانی لوگو زُلف زنجیر تھی ظالم کی تو شمشیر بدن رُوپ سا رُوپ جوانی سی جوانی لوگو سامنے اُسکے دِکھے نرگسِ شہلا بیمار رُو برو اُسکے بھرے سَرو بھی پانی لوگو اُسکے ملبوس سے شرمندہ قبائے لالہ اُس کی خوشبو سے جلے رات کی رانی لوگو ہم جو پاگل تھے تو بے وجہ نہیں تھے پاگل ایک دُنیا تھی مگر اُس کی دِوانی لوگو ایک تو عشق کیا عشق بھی پھر میر سا عشق اس پہ غالب کی سی آشفتہ بیانی لوگو ہم ہی سادہ تھے کِیا اُس پہ بھروسہ کیا کیا ہم ہی ناداں تھے کہ لوگوں کی نہ مانی لوگو ہم تو اُس کے لئے گھر بار …
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 2.2k views
:کلام احمد فرازؔ تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو! کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ ! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ
Last reply by Muhammad Rehman SAbir, -
- 1 reply
- 2.1k views
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم یہ بھی بہت ہے تجھ کو اگر بھول جائیں ہم صحرائے زندگی میں کوئی دوسرا نہ تھا سنتے رہے ہیں آپ ہی اپنی صدائیں ہم اس زندگی میں اتنی فراغت کسے نصیب اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم تو اتنی دل زدہ تو نہ اے شبِ فراق آ تیرے راستے میں ستارے لٹائیں ہم وہ لوگ اب کہاں ہیں جو کہتے تھے کل فراز ہے ہے خدا نہ کرے کہ تجھے بھی رلائیں ہم احمد فراز
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 8k views
Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate Shikwa e Zulmat e Shab Sey Tou Behter Tha Apney Hissay Ki Koi Shamma Jalatay Jatay Kitna Asaan Tha Teray Hijr Mein Marna Janaa Phir Bhee Ik Umr Lagi Jaan Se Jatay Jatay Jashn e Maqtal Hi Na Barpa Hua Warna Hum Pa’ Bajoulaan Hi Sahi, Nachte Gaate Jatay Us Ki Woh Jane Usey Pass e Wafa Tha Keh Na Tha Tum Apni Taraf Se To Faraz Nibhate Jate. Silsilay Tor Gaya Woh Sabhi Jatay Jatay Warna Itne To Marasim The Ke Aate Jate...
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 2.2k views
سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 1.8k views
سراپا اشک ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے ٹھہر جاؤں یہ دل کہتا ہے تیرے شہر میں کچھ دن مگر حالات کہتے ہیں کہ گھر جاؤں تو بہتر ہے دلوں میں فرق آئیں گے تعلق ٹوٹ جائیں گے جو دیکھا جو سنا اس سے مکر جاؤں تو بہتر ہے یہاں ہے کون میرا جو مجھے سمجھے گا فراز میں کوشش کر کے اب خود ہی سنور جاؤں تو بہتر ہے
Last reply by Kainat Khan, -
- 8 replies
- 2.6k views
Suna hai log usay aankh bhar kay daikhtay hain, So us kay sheher main kuch din theher kay daikhtay hain, Suna hai rabt hai usko kharab haaloun say, so apnay aap ko barbaad kar kay daikhtay hain, Suna hai dard ki gahak hai chashm-e-naaz uski, so ham bhi us ki gali say guzar kay daikhtay hain, suna hai us ko bhi hai sher o shayari say shaghaf, so ham bhi mojzay apnay hunar kar dekhtay hain, suna hai bolay to batoun say phool jhartay hain, yeh bat hai t chalo bat kar kay daikhtay hain, Suna hai rat usay chand takta rehta hai, sitaray baam e falat se utar kay daikhtay hain, suna hai din ko usay titliyan stati hain, suna hai rat k…
Last reply by Anabiya Haseeb, -
- 5 replies
- 3.1k views
Hum tu yun khush th ky ik taara girebaan mai hy ہم تو یوں خوش تھے کہ اک تار گریبان میں ہے کیا خبر تھی کہ بہار اس کے بھی ارمان میں ہے - ایک ضرب اور بھی اے زندگیِ تیشہ بدست سانس لینے کی سکت اب بھی مری جان میں ہے - میں تجھے کھو کے بھی زندہ ہوں یہ دیکھا تو نے کس قدر حوصلہ ہارے ہوئے انسان میں ہے - فاصلے قرب کے شعلوں کو ہوا دیتے ہیں میں ترے شہر سے دُور اور تُو مرے دھیان میں ہے - سرِ دیوار فروزاں ہے ابھی ایک چراغ اے نسیمِ سحری! کچھ ترے امکان میں ہے - دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے گاہے گاہے جیسے اب بھی تری آواز مرے کان میں ہے - خلقتِ شہر کے ہر ظلم کے با وصف فرازؔؔ ہائے وہ ہاتھ کہ اپنے ہی گریبان میں ہے [gallery640x480] [photo=https…
Last reply by Anabiya Haseeb, -
- 4 replies
- 6.1k views
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے اپنا یہ حال کہ جی ہار چکے لٹ بھی چکے اور محبت وہی انداز پرانے مانگے زندگی ہم ترے داغوں سے رہے شرمندہ اور تو ہے کہ سدا آئنہ خانے مانگے دل کسی حال پہ قانع ہی نہیں جانِ فرازؔ !!....مل گئے تم بھی تو کیا اور نہ جانے مانگے احمد فرازؔ
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 2.5k views
ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﻟﻮﮒ ﺍُﺳﮯ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺑﻮﻟﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﮭﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭼﻠﻮ ﺑﺎﺕ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺑﻂ ﮬﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺧﺮﺍﺏ ﺣﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﮯ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺳﺘﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺟﮕﻨﻮ ﭨﮭﮩﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﮐﯽ ﺗﺮﺍﺵ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﮐﺘﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﺷﻌﺮ ﻭ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺳﮯ ﺷﻐﻒ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺠﺰﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﮬُﻨﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﮔﺎﮨﮓ ﮨﮯ ﭼﺸﻢِ ﻧﺎﺯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺣﺸﺮ ﮨﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻏﺰﺍﻝ ﺳﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﮨﺮﻥ ﺩﺷﺖ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﭼﺸﻤﮕﯿ…
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 3k views
--- احمد فراز --- سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا اپنے حصے کی کوئ شمع جلاتے جاتے کتنا آسان تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں پھر بھی اک عمر لگی جان سے جاتے جاتے جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی پابجولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے اس کی وہ جانے اس پاس وفا تھا کہ نہ تھا تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 2.1k views
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں ہم اگر منزلیں نہ بن پائے منزلوں تک کا راستا ہو جائیں دیر سے سوچ میں ہیں پروانے راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں ( احمد فراز )
Last reply by Zarnish Ali, -
- 3 replies
- 1.7k views
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ ماضی ہے فرازؔ جیسے دو سائے تمنا کے سرابوں میں ملیں
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.7k views
Phir Usi Raah Guzar Par Shayad Hum Kabhi Mil SakeiN Magar, Shayad Jinke Hum Muntazar Rahe Unko Mil gaye Aur Humsafar Shayad Jaan Pahchaan Se Bhi Kya Hoga Phir Bhi Ae Dost, Ghaur Kar Shayad Ajnabeeyat ki Dhund Chhat Jaye Chamak Utthe Teri Nazar Shayad Zindagi Bhar Lahu Rulaayegi Yaad-e-Yaaran-e-Bekhabar Shayad Jo Bhi BichhRe Wo Kab Mile haiN ‘FARAZ’ Phir Bhi Tu Intezaar kar Shayad..!!!
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.8k views
یہ دل کا چور کہ اس کی ضرورتیں تھیں بہت وگرنہ ترکِ تعلق کی صورتیں تھیں بہت ملے تو ٹوٹ کے روئے نہ کھل کے باتیں کیں کہ جیسے اب کے دلوں میں کدورتیں تھیں بہت بھلا دیئے ہیں تیرے غم نے دکھ زمانے کے خدا نہیں تھا تو پتھر کی مورتیں تھیں بہت دریدہ پیرہنوں کا خیال کیا آتا؟ امیرِ شہر کی اپنی ضرورتیں تھیں بہت فراز دل کو نگاہوں سے اختلاف رہاوگرنہ شہر میں ہم شکل صورتیں تھیں بہت احمد فراز
Last reply by Mehak Amin, -
- 2 replies
- 1.9k views
چشمِ گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس گرچہ کہتے رہے مجھ سے مرے غم خوار کہ بس , زندگی تھی کہ قیامت تھی کہ فرقت تیری ایک اک سانس نے وہ وہ دیے آزار کہ بس , اس سے پہلے بھی محبت کا قرینہ تھا یہی ایسے بے حال ہوئے ہیں مگر اِس بار کہ بس , اب وہ پہلے سے بلا نوش و سیہ مست کہاں اب تو ساقی سے یہ کہتے ہیں قدح خوار کہ بس , لوگ کہتے تھے فقط ایک ہی پاگل ہے فرازؔ ایسے ایسے ہیں محبت میں گرفتار کہ بس
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.9k views
ﺷﻌﻠﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻞ ﺑﺠﮭﺎ ﮨﻮﮞ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﮐﺐ ﮐﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺟﻮ ﺯﮨﺮ ﭘﯽ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻤﮩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮐﺮﻡ ﮨﮯ ﺳﻼﻣﺖ ﮨﮯ ﺟﺴﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﮮ ﺧﺴﺮﻭﺍﻥِ ﺷﮩﺮ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮧ ﭘﻠﭧ ﮐﺮ ﻧﮧ ﺁ ﺳﮑﻮﮞ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺩﻭﺭ ﺟﺎ ﮐﮯ ﺻﺪﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﮐﺐ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﻓﺮﺍﺯ ﮐﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮧ ﺩﻭ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯؔ
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 2.2k views
Itne Bhi Tou Wo Khafaa Nahi Thay Jaisay Kubhi Aashna Nahi Thay Maana Ke Behem Kahan Thay Aisay Per Yun Bhi Judaa Judaa Nahi Thay Thi Jitni Bisaat, Ki Parastish Tum Bhi Tou Koi Khudaa Nahi Thay Had Hoti Hai Tanz Ki Bhi Aakhir Ham Tere Nahi Thay, Jaa Nahi Thay Kis Kis Se Nibhaatay Rafaaqat Hum Loog Ke Bewafa Nahi Thay Rukhsat Howa Wo Tou Mein Ne Dekha Phool Itnay Bhi Khushnuma Nahi Thay Thay Yun Tou Hum Oski Anjuman Mein Koi Hamain Dekhta, Nahi Thay Jab Osko Tha Maan Khud Pe Kia Kia Tab Ham Bhi “Faraz” Kia Nahi Thay
Last reply by Hareem Naz, -
- 5 replies
- 2.3k views
دن کو مسمار ہوئے ، رات کو تعمیر ہوئے خواب ھی خواب فقط ، روح کی جاگیر ہوئے عمر بھر لکھتے رہے ، پھر بھی ورق ساده رہا جانے کیا لفظ تھے ، جو ھم سے نا تحریر ھوئے یہ الگ دکھ ہے کے ، ہاں تیرے دکھوں سے آزاد یہ الگ قید ہے ہم ، کیوں نا زنجیر ہوئے دیده و دل میں تیرے ، عکس کی تشکیل سے ہم دھول سے پھول ہوئے ، رنگ سے تصویر ہوئے کچھ نهیں یاد گزشتہ شب کی محفل میں فراز هم جدا کس سے ہوئے ، کس سے بغل گیر ہوئے
Last reply by Bint e Hawwa, -
- 6 replies
- 2.2k views
ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺍﮮ ﺟﺎﻥِ ﺟﮩﺎﮞ ، ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﺳﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺏ ﮬﮯ ، ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮬﮯ ، ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﭘﻞ ﮬﮯ ﯾﮧ ﺩﮬﻨﺪ ﮬﮯ ، ﺑﺎﺩﻝ ﮬﮯ ، ﺳﺎﯾﮧ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ؟؟ ﺍﺱ ﺩﯾﺪ ﮐﯽ ﺳﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ , ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮓ ﮬﯿﮟ ﻟﺮﺯﺍﮞ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﮞ , ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﮯ , ﺩﻧﯿﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ؟؟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮬﯿﮟ , ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ؟؟ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﯾﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﯾﮧ ﻋﻤﺮ ﮔﺮﯾﺰﺍﮞ , ﮐﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻮﮞ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﻟﮕﺘﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﮬﺮ ﺑﺰﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺿﻮﻉِ ﺳﺨﻦ ﺩﻝِ ﺯﺩﮔﺎﮞ ﮐﺎ ﺍﺏ ﮐﻮﻥ ﮬﮯ , ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮬﮯ ، ﻟﯿﻠﯽٰ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺍﮎ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﭘﮭﯿﻼ ﮬُﻮﺍ , ﺻﺤﺮﺍ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮬُﻮﮞ ﺍﮎ ﻣﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮬُﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺁﺋﮯ , ﮐﮧ ﺩﻝِ ﺯﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﮯ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻨﮩﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﮬﻢ ﺳﺎ ﮬﮯ ، ﮐﮧ ﺗﻢ ﮬﻮ ﺁﺑﺎﺩ ﮬﻢ ﺁ…
Last reply by Bint e Hawwa,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
