Jump to content

Recommended Posts

Posted

:کلام
احمد فرازؔ


تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ
لوگ کیا سادہ ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ

اپنی محرومی کے احساس سے شرمندہ ہیں
خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ

بستیاں دور ہوئی جاتی ہیں رفتہ رفتہ
دمبدم آنکھوں سے چھپتے چلے جاتے ہیں چراغ

کیا خبر ان کو کہ دامن بھی بھڑک اٹھتے ہیں
جو زمانے کی ہواؤں سے بچاتے ہیں چراغ

گو سیہ بخت ہیں ہم لوگ پہ روشن ہے ضمیر
خود اندھیرے میں ہیں دنیا کو دکھاتے ہیں چراغ

بستیاں چاند ستاروں کی بسانے والو!
کرّۂ ارض پہ بجھتے چلے جاتے ہیں چراغ

ایسے بے درد ہوئے ہم بھی کہ اب گلشن پر
برق گرتی ہے تو زنداں میں جلاتے ہیں چراغ

ایسی تاریکیاں آنکھوں میں بسی ہیں کہ فرازؔ
! رات تو رات ہے ہم دن کو جلاتے ہیں چراغ

 

eye on fire.jpg

  • 1 month later...
  • 4 weeks later...
  • 3 months later...

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.