- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- Sabrina Carpenter reacts to first Emmy win: 'A lot of hard work'
- Prince Harry's Remembrance Day return revealed as Sussexes accept new reality
- Barbara Eden, 95, clarifies announcement of her 'sudden illness'
- Queen Elizabeth's final duty became poignant farewell no one expected
- Islamabad to get its own 27-member assembly, chief executive under proposed governance overhaul
- Robert Pattinson reveals the downside of his ‘Twilight' fame
- Kid Cudi says Kanye West apologised to him: What happened between them?
- Afridi vows to reach Karachi despite Sindh govt's 'hurdles'
- Sabalenka surges past Townsend to reach US Open quarter-finals
- Ricky Alvarez makes major move after Ariana Grande sparks marriage buzz
Ahmed Faraz
Ahmed Faraz احمد فراز Biography !
احمد فراز
تخلص فراز کمیونسٹ
پیشہ اردو شاعر, لیکچرر
قومیت پاکستانی
Spoilerنژادیت پشتون سید
شہریت پاکستانی
تعلیم ایم اے اردو, ایم اے فارسی
مادر علمی پشاور ماڈل سکول
جامعہ پشاور
لکھائی دور 1950 - 2008
صِنف اردو غزل
موضوعات عشق , تحریک مزاحمت
ادبی تحریک پروگریسو رائٹرز موومنٹ/ڈیموکریٹک موومنٹ
نمایاں اعزاز(ات) ہلال امتیاز
ستارہ امتیاز
نگار ایوارڈاولاد 3 بیٹے: سعدی, شبلی اور سرمد فراز
(اہل و عیال سید محمد شاہ برق (والد
(سید مسعود کوثر (بھائیاحمد فراز میں کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ " تنہا تنہا " شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی ۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ " درد آشوب " چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے " آدم جی ادبی ایوارڈ " عطا کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوۓ ۔ انہیں 1976 ء میں اکا دکی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبورا جلا وطنی اختیار کرنی پڑی ۔
احمد فراز میں کوہاٹ پاکستان میں پیدا ہوۓ ۔ اردو اور فارسی میں ایم اے کیا ۔ ایڈورڈ کالج ( پشاور ) میں تعلیم کے دوران ریڈیو پاکستان کے لۓ فیچر لکھنے شروع کیے ۔ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ " تنہا تنہا " شائع ہوا تو وہ بی اے میں تھے ۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد ریڈیو سے علیحدہ ہو گئے اور یونیورسٹی میں لیکچر شپ اختیار کر لی ۔ اسی ملازمت کے دوران ان کا دوسرا مجموعہ " درد آشوب " چھپا جس کو پاکستان رائٹرز گڈز کی جانب سے " آدم جی ادبی ایوارڈ " عطا کیا گیا ۔ یونیورسٹی کی ملازمت کے بعد پاکستان نیشنل سینٹر (پشاور) کے ڈائریکٹر مقرر ہوۓ ۔ انہیں 1976 ء میں اکا دکی ادبیات پاکستان کا پہلا سربراہ بنایا گیا ۔ بعد ازاں جنرل ضیاء کے دور میں انہیں مجبورا جلا وطنی اختیار کرنی پڑی ۔آپ 2006 ء تک " نیشنل بک فاؤنڈیشن " کے سربراہ رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی وی انٹرویو کی پاداش میں انہیں " نیشنل بک فاؤنڈیش" کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ۔ احمد فراز نے 1988 ء میں " آدم جی ادبی ایوارڈ " اور 1990ء میں " اباسین ایوارڈ" حاصل کیا ۔ 1988 ء مین انہیں بھارت میں " فراق گورکھ پوری ایوارڈ" سے نوازا گیا ۔ اکیڈمی آف اردو لٹریچر ( کینڈا ) نے بھی انہیں 1991ء میں ایوارڈ دیا ، جب کہ بھارت میں انہیں 1992 ء میں "ٹاٹا ایوارڈ " ملا۔انہوں نے متعدد ممالک کے دورے کیے ۔ ان کا کلام علی گڑھ یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہے ۔ جامعہ ملیہ (بھارت ) میں ان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا گیا جس کا موضوع " احمد فراز کی غزل" ہے ۔ بہاولپور میں بھی " احمد فراز ۔فن اور شخصیت کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا گیا ۔ ان کی شاعری کے انگریزی ،فرانسیسی ،ہندی،یوگوسلاوی،روسی،جرمن اور پنجابی میں تراجم ہو چکے ہیں ۔احمد فراز جنہوں نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش کی تھی، اپنی شاعری کے زمانۂ عروج میں فوج میں آمرانہ روش اور اس کے سیاسی کردار کے خلاف شعر کہنے کے سبب کافی شہرت پائی۔ انہوں نے ضیاالحق کے مارشل لا کے دور کے خلاف نظمیں لکھیں جنہیں بہت شہرت ملی۔ مشاعروں میں کلام پڑھنے پر انہیں ملٹری حکومت نے حراست میں لیے جس کے بعد احمد فراز کوخود ساختہ جلاوطنی بھی برداشت کرنا پڑی۔سنہ دوہزار چار میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن دو برس بعد انہیں نے یہ تمغا سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کر دیا۔ احمد فراز نے کئی نظمیں لکھیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی غزلیات کو بھی بہت شہرت ملی۔
37 topics in this forum
-
- 4 replies
- 2.1k views
اے خدا جو بھی مجھے پندِ شکیبائی دے اس کی آنکھوںکو مرے زخم کی گہرائی دے تیرے لوگوں سے گلہ ہے مرے آئینوں کو ان کو پتھر نہیں دیتا ہے تو بینائی دے جس کی ایما پہ کیا ترکِ تعلق سب سے اب وہی شخص مجھے طعنۂ تنہائی دے یہ دہن زخم کی صورت ہے مرے چہرے پر یا مرے زخم کو بھر یا مجھے گویائی دے اتنا بے صرفہ نہ جائے مرے گھر کا جلنا چشم گریاں نہ سہی چشمِ تماشائی دے جن کو پیراہنِ توقیر و شرف بخشا ہے وہ برہنہ ہیں انہیں خلعتِ رسوائی دے کیا خبر تجھ کو کہ کس وضع کا بسمل ہے فراز وہ تو قاتل کو بھی الزامِ مسیحائی دے
Last reply by Bint e Hawwa, -
-
- 3 replies
- 1.1k views
نہ جانے ظرف تھا کم یا انا زیادہ تھی کلاہ سر سے تو قد سے قبا زیادہ تھی رمیدگی تھی تو پھر ختم تھا گریز اس پر سپردگی تھی تو بے انتہا زیادہ تھی غرور اس کا بھی کچھ تھا جدائیوں کا سبب کچھ اپنے سر میں بھی شاید ہوا زیادہ تھی وفا کی بات الگ پر جسے جسے چاہا کسی میں حسن، کسی میں ادا زیادہ تھی فراز اس سے وفا مانگتا ہے جاں کے عوض جو سچ کہیں تو یہ قیمت ذرا زیادہ تھی احمد فراز
Last reply by Bint e Hawwa, -
- 1 reply
- 896 views
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جان سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے تو پھر کیوں یقیں نہیں آتا یہ بار بار جو آنکھوں کو مل کے دیکھتے ہیں یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں جو لالچوں سے تجھے ، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں یہ قرب کیا ہے کہ یک جاں ہوئے نہ دور رہے ہزار ایک ہی قالب میں ڈھل کے دیکھتے ہیں نہ تجھ کو مات ہوئی ہے نہ مجھ کو مات ہوئی سو اب کے دونوں ہی چالیں بدل کے دیکھتے ہیں یہ کون ہے سر ساحل کے ڈوبنے والے سمندروں کی تہوں سے اچھل کے دیکھتے ہیں ابھی تلک تو نہ کندن …
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.4k views
تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے پھر یوں ہوا کہ اک غیر کو دل سے لگا لیا اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے اے یاد یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں اے درد ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحان شہر پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کا ہم اب کے گئے تو کوئے ستم گر کے ہو گئے روتے ہوئے اک جزیرہ جاں کو فراز تم دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے
Last reply by Waqas Dar, -
- 5 replies
- 1.1k views
ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ، ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ ﻟﻮﭦ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ، ﺩﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯؔ
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 898 views
مُدّت سے کوئی جانبِ مقتل نہیں آیا قاتِل بھی توّقع سے پشیماں ہیں زیادہ جس تاج کو دیکھوں وہی کشکول نُما ہے اب کے تو فقیروں سے بھی سُلطاں ہیں زیادہ ہر ایک کو دعویٰ ہے یہاں، چارہ گری کا اب دِل کے اُجڑ جانے کے اِمکاں ہیں زیادہ احمد فراز
Last reply by Waqas Dar, -
- 14 replies
- 4k views
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
