jannat malik👑 Posted January 12, 2017 Posted January 12, 2017 اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں تو بھی ہیرے سے بن گیا پتھر ہم بھی کل جانے کیا سے کیا ہو جائیں تو کہ یکتا تھا بے شمار ہوا ہم بھی ٹوٹیں تو جا بجا ہو جائیں ہم بھی مجبوریوں کا عذر کریں پھر کہیں اور مبتلا ہو جائیں ہم اگر منزلیں نہ بن پائے منزلوں تک کا راستا ہو جائیں دیر سے سوچ میں ہیں پروانے راکھ ہو جائیں یا ہوا ہو جائیں عشق بھی کھیل ہے نصیبوں کا خاک ہو جائیں کیمیا ہو جائیں اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے ایسے لپٹیں تری قبا ہو جائیں بندگی ہم نے چھوڑ دی ہے فرازؔ کیا کریں لوگ جب خدا ہو جائیں ( احمد فراز ) 2
waqas dar⚙ Posted January 12, 2017 Posted January 12, 2017 Very Nice . New Content added Less than in a minutes & merged. چاندنی رات کے آنچل پہ سوار اُتری ہے کوئی خوشبو میری دہلیز کے پار اُتری ہے اُس میں کُچھ رنگ بھی ہیں، خواب بھی مہکار بھی ہے جھلملاتی ہوئی خواہش بھی ہے، انکار بھی ہے اسی خوشبو میں کئی درد بھی افسانے بھی اسی خوشبو نے بنائے ہیں کئی دیوانے بھی میرے آنچل پہ اُمیدوں کی قطار اُتری ہے کوئی خوشبو میری دہلیز کے پار اُتری ہے اسی خوشبو سے کسی یاد کے در کھُلتے ہیں میرے پیروں سے جو لپٹے تو سفر کھُلتے ہیں یہی خوشبو جو مجھے گھر سے اُٹھا لائی ہے اب کسی طور پلٹ کر نہیں جانے دیتی میری دہلیز بلاتی ہے مجھے! لوٹ آو یہی خوشبو مجھے واپس نہیں آنے دیتی رنج و غم میں ڈوبی یہ بہار اتری ہے کوئی خوشبو میری دہلیز کے پار اُتری ہے 3
jannat malik👑 Posted January 12, 2017 Author Posted January 12, 2017 گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وه عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ 1
waqas dar⚙ Posted January 12, 2017 Posted January 12, 2017 Just now, Jannat malik said: گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وه عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ کوئی جیتا ، کوئی مرتا ہی رہا عِشق اپنا کام کرتا ہی رہا جمع خاطر کوئی کرتا ہی رہا دِل کا شیرازہ بِکھرتا ہی رہا غم وہ میخانہ، کمی جس میں نہیں دِل وہ پیمانہ، کہ بھرتا ہی رہا حُسن تو تھک بھی گیا ، لیکن یہ عِشق کارِ معشوقانہ کرتا ہی رہا وہ مِٹاتے ہی رہے، لیکن یہ دِل نقش بن بن کر اُبھرتا ہی رہا دھڑکنیں دِل کی، سبھی کُچھ کہہ گئیں دِل کو مَیں خاموش کرتا ہی رہا تُم نے نظریں پھیر لیں تو کیا ہُوا دِل مین اِک نشتر اُترتا ہی رہا 2
Zarnish Ali👑 Posted January 12, 2017 Posted January 12, 2017 رسمِ اُلفت سے کارِ رنجش تک کچھ تو اپنے بھی سر لِیا ہوتا
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now