Jump to content

Recommended Posts

Posted

جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں
ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں 
ہجر کے پیڑ سے غم کا جو ثمر گرتا ہے
یوں تیری یاد کے انبار سے لگ جاتے ہیں
پہلے کیا کم تھے میری جاں پہ عذاب دم
کیا خبر تھی نئے آزار سے لگ جاتے ہیں
اک مدت ہوئی کہ وحشتوں کو جانا ہے
اب تو ہر سینہ حب یار سے لگ جاتے ہیں
آج ہم اپنی عداوت کو بھی یوں پرکھیں گے
آج دشمن کے گلے پیار سے لگ جاتے ہیں
جب مقدر میں ہی منزل نہ ہو تو ہم کو
دو قدم رستے بھی دشوار سے لگ جاتے ہیں
کاش مرہم ملے ہم کو کہیں ان زخموں کا
زخم جو اپنے کی گفتار سے لگ جاتے ہیں
ان کی تصویر کو سینے سے لگا کر مشعل
ہم تخیل میں گلے یار سے لگ جاتے ہیں 
جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں
ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں

sad_song_for_the_lonely_soul_by_veuliahzg-d5m0dza.jpg

  • 1 month later...

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.