jannat malik👑 Posted October 21, 2016 Posted October 21, 2016 جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں ہجر کے پیڑ سے غم کا جو ثمر گرتا ہے یوں تیری یاد کے انبار سے لگ جاتے ہیں پہلے کیا کم تھے میری جاں پہ عذاب دم کیا خبر تھی نئے آزار سے لگ جاتے ہیں اک مدت ہوئی کہ وحشتوں کو جانا ہے اب تو ہر سینہ حب یار سے لگ جاتے ہیں آج ہم اپنی عداوت کو بھی یوں پرکھیں گے آج دشمن کے گلے پیار سے لگ جاتے ہیں جب مقدر میں ہی منزل نہ ہو تو ہم کو دو قدم رستے بھی دشوار سے لگ جاتے ہیں کاش مرہم ملے ہم کو کہیں ان زخموں کا زخم جو اپنے کی گفتار سے لگ جاتے ہیں ان کی تصویر کو سینے سے لگا کر مشعل ہم تخیل میں گلے یار سے لگ جاتے ہیں جب تیری یاد کے بازار سے لگ جاتے ہیں ڈر کے ہم بھیڑ میں دیوار سے لگ جاتے ہیں 3
waqas dar⚙ Posted October 25, 2016 Posted October 25, 2016 ھر دن ھے محبت کا ، ھر رات محبت کی ھم اھل محبت میں ، ھر بات محبت کی
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now