Zarnish Ali Posted November 29, 2016 Report Posted November 29, 2016 رُودادِ محبّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے دو دِن کی مُسرّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے (ساغر صدیقی) 2 Quote
Zarnish Ali Posted November 30, 2016 Author Report Posted November 30, 2016 @Hareem Naz thankx 2 Quote
Zarnish Ali Posted February 20, 2017 Author Report Posted February 20, 2017 دو جہانوں کی خبر رکھتے ہیں بادہ خانوں کی خبر رکھتے ہیں خارزاروں سے تعلق ہے ہمیں گُلستانوں کی خبر رکھتے ہیں ہم اُلٹ دیتے ہیں صدیوں کے نقاب ہم زمانوں کی خبر رکھتے ہیں اُن کی گلیوں کے مکینوں کی سُنو لا مکانوں کی خبر رکھتے ہیں چند آوارہ بگولے اے دوست کاروانوں کی خبر رکھتے ہیں زخم کھانے کا سلیقہ ہو جنہیں وہ نشانوں کی خبر رکھتے ہیں کُچھ زمینوں کے ستارے ساغرؔ آسمانوں کی خبر رکھتے ہیں (ساغر صدیقی) Quote
Zarnish Ali Posted February 20, 2017 Author Report Posted February 20, 2017 ہَر شے ہے پُر ملال بڑی تیز دُھوپ ہے ہَر لب پہ ہے سوال بڑی تیز دُھوپ ہے چکرا کے گِر نہ جاؤں میں اِس تیزُ دھوپ میں مُجھ کو ذرا سنبھال بڑی تیز دُھوپ ہے دے حکم بادلوں کو خیابان نشین ہُوں جام و سبُو اُچھال بڑی تیز دُھوپ ہے ممکن ہے ابرِ رحمت یزداں برس پڑے زُلفوں کی چھاؤں ڈال بڑی تیز دُھوپ ہے اب شہر آرزُو میں وہ رعنائیاں کہاں ہیں گلُ کدے نڈھال بڑی تیز دھوپ ہے سمجھی ہے جس کو سائیہ اُمّید عقلِ خام ساغرؔ کا ہے خیال بڑی تیز دُھوپ ہے (ساغر صدیقی) Quote
Zarnish Ali Posted February 20, 2017 Author Report Posted February 20, 2017 ذرا کُچھ اور قُربت زیرِ داماں لڑ کھڑاتے ہیں مئے شعلہ فگن پی کر گلستاں لڑکھڑاتے ہیں تخیّل سے گزرتے ہیں تو نغمے چونک اُٹھتے ہیں تصّور میں بہ انداز بہاراں لڑکھڑاتے ہیں قرارِ دین و دُنیا آپ کی بانہوں میں لرزاں ہے سہارے دیکھ کر زُلفِ پریشاں لڑکھڑاتے ہیں تیری آنکھوں کے افسانے بھی پیمانے ہیں مستی کے بنامِ ہوش مدہوشی کے عُنواں لڑکھڑاتے ہیں سُنو! اے عِشق میں توقیرِ ہستی ڈھونڈنے والو یہ وہ منزل ہے جس منزل پہ انساں لڑکھڑاتے ہیں تمہارا نام لیتا ہُوں فضائیں رقص کرتی ہیں تمہاری یاد آتی ہے تو ارماں لڑکھڑاتے ہیں کہیں سے میکدے میں اس طرح کے آدمی لاؤ کہ جن کی جنبشِ اَبرو سے ایماں لڑکھڑاتے ہیں یقینا حشر کی تقریب کے لمحات آپہنچے قدمِ ساغرؔ قریب کوئے جاناں لڑکھڑاتے ہیں Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.