Jump to content
Zarnish Ali

Kuch yad rahi, Kuch bhool gay

Rate this topic

Recommended Posts

رُودادِ محبّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے
دو دِن کی مُسرّت کیا کہیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں
اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے

اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے
بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں
آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن
احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں
پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے
(ساغر صدیقی)

 

 

 

 

 

 

14708120_1098322470217589_1919082550456571451_n.jpg

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

دو جہانوں کی خبر رکھتے ہیں
بادہ خانوں کی خبر رکھتے ہیں
خارزاروں سے تعلق ہے ہمیں
گُلستانوں کی خبر رکھتے ہیں
ہم اُلٹ دیتے ہیں صدیوں کے نقاب
ہم زمانوں کی خبر رکھتے ہیں
اُن کی گلیوں کے مکینوں کی سُنو
لا مکانوں کی خبر رکھتے ہیں
چند آوارہ بگولے اے دوست
کاروانوں کی خبر رکھتے ہیں
زخم کھانے کا سلیقہ ہو جنہیں
وہ نشانوں کی خبر رکھتے ہیں
کُچھ زمینوں کے ستارے ساغرؔ
آسمانوں کی خبر رکھتے ہیں
(ساغر صدیقی)

Share this post


Link to post
Share on other sites

ہَر شے ہے پُر ملال بڑی تیز دُھوپ ہے
ہَر لب پہ ہے سوال بڑی تیز دُھوپ ہے
چکرا کے گِر نہ جاؤں میں اِس تیزُ دھوپ میں
مُجھ کو ذرا سنبھال بڑی تیز دُھوپ ہے
دے حکم بادلوں کو خیابان نشین ہُوں
جام و سبُو اُچھال بڑی تیز دُھوپ ہے
ممکن ہے ابرِ رحمت یزداں برس پڑے
زُلفوں کی چھاؤں ڈال بڑی تیز دُھوپ ہے
اب شہر آرزُو میں وہ رعنائیاں کہاں
ہیں گلُ کدے نڈھال بڑی تیز دھوپ ہے
سمجھی ہے جس کو سائیہ اُمّید عقلِ خام
ساغرؔ کا ہے خیال بڑی تیز دُھوپ ہے
(ساغر صدیقی)

Share this post


Link to post
Share on other sites

ذرا کُچھ اور قُربت زیرِ داماں لڑ کھڑاتے ہیں
مئے شعلہ فگن پی کر گلستاں لڑکھڑاتے ہیں
تخیّل سے گزرتے ہیں تو نغمے چونک اُٹھتے ہیں
تصّور میں بہ انداز بہاراں لڑکھڑاتے ہیں
قرارِ دین و دُنیا آپ کی بانہوں میں لرزاں ہے
سہارے دیکھ کر زُلفِ پریشاں لڑکھڑاتے ہیں
تیری آنکھوں کے افسانے بھی پیمانے ہیں مستی کے
بنامِ ہوش مدہوشی کے عُنواں لڑکھڑاتے ہیں
سُنو! اے عِشق میں توقیرِ ہستی ڈھونڈنے والو
یہ وہ منزل ہے جس منزل پہ انساں لڑکھڑاتے ہیں
تمہارا نام لیتا ہُوں فضائیں رقص کرتی ہیں
تمہاری یاد آتی ہے تو ارماں لڑکھڑاتے ہیں
کہیں سے میکدے میں اس طرح کے آدمی لاؤ
کہ جن کی جنبشِ اَبرو سے ایماں لڑکھڑاتے ہیں
یقینا حشر کی تقریب کے لمحات آپہنچے
قدمِ ساغرؔ قریب کوئے جاناں لڑکھڑاتے ہیں

Share this post


Link to post
Share on other sites

Your content will need to be approved by a moderator

Guest
You are commenting as a guest. If you have an account, please sign in.
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,985
    Total Topics
    8,225
    Total Posts
×