jannat malik👑 Posted December 16, 2016 Posted December 16, 2016 ضبط کر کے ہنسی کو بھول گیا میں تو اس زخم ہی کو بھول گیا ذات در ذات ہم سفر رہ کر اجنبی اجنبی کو بھول گیا صبح تک وجہ جاں کنی تھی جو بات میں اسے شام ہی کو بھول گیا عہد وابستگی گزار کے میں وجہ وابستگی کو بھول گیا سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں بحث کیا تھی اسی کو بھول گیا کیوں نہ ہو ناز اس ذہانت پر ایک میں ہر کسی کو بھول گیا سب سے پر امن واقعہ یہ ہے آدمی آدمی کو بھول گیا قہقہہ مارتے ہی دیوانہ ہر غم زندگی کو بھول گیا خواب ہا خواب جس کو چاہا تھا رنگ ہا رنگ اسی کو بھول گیا کیا قیامت ہوئی اگر اک شخص اپنی خوش قسمتی کو بھول گیا سوچ کر اس کی خلوت انجمنی واں میں اپنی کمی کو بھول گیا سب برے مجھ کو یاد رہتے ہیں جو بھلا تھا اسی کو بھول گیا ان سے وعدہ تو کر لیا لیکن اپنی کم فرصتی کو بھول گیا بستیو اب تو راستہ دے دو اب تو میں اس گلی کو بھول گیا اس نے گویا مجھی کو یاد رکھا میں بھی گویا اسی کو بھول گیا یعنی تم وہ ہو واقعی؟ حد ہے میں تو سچ مچ سبھی کو بھول گیا آخری بت خدا نہ کیوں ٹھہرے بت شکن بت گری کو بھول گیا اب تو ہر بات یاد رہتی ہے غالباً میں کسی کو بھول گیا اس کی خوشیوں سے جلنے والا جونؔ اپنی ایذا دہی کو بھول گیا 3
waqas dar⚙ Posted December 29, 2016 Posted December 29, 2016 Bohat khooob تیرے پہلو میں رات بھر جی کے آدمی صبح خودکشی کر لے (جون ایلیاء) 1
jannat malik👑 Posted December 29, 2016 Author Posted December 29, 2016 Thnx @Anabiya Haseeb @waqas dar 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now