Jump to content
Search In
  • More options...
Find results that contain...
Find results in...

Welcome to Fundayforum.com

Take a moment to join us, we are waiting for you.

Rate this topic

Recommended Posts

ہے سکوں اتنا کہ آزار کی ضد کرتے ہیں 
 ہم وہ مجرم ہیں کہ خود دار کی ضد کرتے ہیں

تھک گیا ہوں در و دیوار سے کہتے کہتے 
 اب تو یہ غم کسی غمخوار کی ضد کرتے ہیں

ہم اصولوں کے نہیں ہم ہیں اناؤں والے
 سر کٹا دیتے ہیں دستار کی ضد کرتے ہیں

ہے تباہی کہ ہمیں راس نہیں آزادی
 ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں

کوئی سمجھے تو مری دھرتی کی مشکل کو ذرا
 بے وفا سب ہیں وفادار کی ضد کرتے ہیں

بہ خوشی تخت نشیں اب وہ کئے جاتے یہاں 
 زندہ بستی میں جو مردار کی ضد کرتے ہیں

خود کو بیچ آئے جو اغیار کے ہاتھوں سارے
 ہم سے وہ بھی یہاں کردار کی ضد کرتے ہیں

ہاتھ آ جائے کوئی عیب ہمارا ان کے
 سر قلم کرنے کو تلوار کی ضد کرتے ہیں

ہے گھٹن اتنی کہ لفظوں کا بھی دم گھٹتا ہے
 لوگ سادہ ہیں کہ اشعار کی ضد کرتے ہیں

مانا غفلت میں ہے ڈوبی یہ مری قوم مگر
 اب بھی زندہ ہیں جو انکار کی ضد کرتے ہیں

اپنے ہاتھوں ہی بدلنا ہے زمانہ ابرک
 کون کہتا ہے کہ بے کار کی ضد کرتے ہیں

اتباف ابرک

alone fundayforum.jpg

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺳﺎﻧﺲ ﮔﺮﺍﮞ ﻟﮕﮯ ﯾﮧ ﻭﺟﻮﺩ ﻭﮨﻢ ﻭ ﮔﻤﺎﮞ ﻟﮕﮯ 
__ﻣﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺧﻮﺍﺏ ﻭ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ

  • Like 2

Share this post


Link to post
Share on other sites

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکیں، اگر تُو آئے

بھیگ جاتی ہیں اِس اُمّید پر آنکھیں ہر شام 
شاید اِس رات وہ مہتاب لبِ جُو آئے

ہم تیری یاد سے کترا کے گزُر جاتے مگر
راہ میں پُھولوں کے لب، سایوں کے گیسُو آئے

وہی لب تشنگی اپنی، وہی ترغیبِ سراب
دشتِ معلوُم کی، ہم آخری حد چُھو آئے

سینے وِیران ہُوئے، انجمن آباد رہی 
کتنے گُل چہرے گئے، کتنے پری رُو آئے

آزمائش کی گھڑی سے گزُر آئے تو ضیا
جشنِ غم طاری ہُوا آنکھ میں آنسو آئے

ضیا جالندھری

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites
محبت مانگتی ھے یوں 
گواہی اپنے ھونے کی
کہ جیسے کوئی طفل سادہ
دن میں بیج بوئے اور
شب میں بارہا اُٹھے
زمین کو کھود کے دیکھے
کہ پودا اب کہاں پہنچا __________!!

21742850_1421743284605484_5543737109134803487_n.jpg

  • Like 1

Share this post


Link to post
Share on other sites

میں تیرے ساتھ بجھ نہ سکا حد گزر گئی
اے شمع میں ہوں تجھ سے پشیمان الوداع

میں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میں
دامان الوداع! گریبان الوداع

اِک رودِ نا شناس میں ہے ڈوبنا مجھے
سو اے کنارِ رود ، بیابان الوداع

سہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کی
اب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداع

اے شام گاہِ صحنِ ملالِ ہمیشگی
کیا جانے کیا تھی تری ہر اک آن ، الوداع

اب میں نہیں رہا ہوں کسی بھی گمان کا
اے میرے جاں الوداع ' اے میرے مان الواداع

Share this post


Link to post
Share on other sites

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now

  • Recently Browsing   0 members

    No registered users viewing this page.

  • Forum Statistics

    1,864
    Total Topics
    7,959
    Total Posts
×