👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Recommended Posts

Posted

ہے سکوں اتنا کہ آزار کی ضد کرتے ہیں 
 ہم وہ مجرم ہیں کہ خود دار کی ضد کرتے ہیں

تھک گیا ہوں در و دیوار سے کہتے کہتے 
 اب تو یہ غم کسی غمخوار کی ضد کرتے ہیں

ہم اصولوں کے نہیں ہم ہیں اناؤں والے
 سر کٹا دیتے ہیں دستار کی ضد کرتے ہیں

ہے تباہی کہ ہمیں راس نہیں آزادی
 ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں

کوئی سمجھے تو مری دھرتی کی مشکل کو ذرا
 بے وفا سب ہیں وفادار کی ضد کرتے ہیں

بہ خوشی تخت نشیں اب وہ کئے جاتے یہاں 
 زندہ بستی میں جو مردار کی ضد کرتے ہیں

خود کو بیچ آئے جو اغیار کے ہاتھوں سارے
 ہم سے وہ بھی یہاں کردار کی ضد کرتے ہیں

ہاتھ آ جائے کوئی عیب ہمارا ان کے
 سر قلم کرنے کو تلوار کی ضد کرتے ہیں

ہے گھٹن اتنی کہ لفظوں کا بھی دم گھٹتا ہے
 لوگ سادہ ہیں کہ اشعار کی ضد کرتے ہیں

مانا غفلت میں ہے ڈوبی یہ مری قوم مگر
 اب بھی زندہ ہیں جو انکار کی ضد کرتے ہیں

اپنے ہاتھوں ہی بدلنا ہے زمانہ ابرک
 کون کہتا ہے کہ بے کار کی ضد کرتے ہیں

اتباف ابرک

alone fundayforum.jpg

  • 2 months later...
Posted

‏خود سے مشروط کرکے ہر رستہ

.....اب وہ کہتا ہے بھول جا مجھ کو 

Posted

‏جب وہ چھوڑ گیا تب دیکھا___ اپنی آنکھوں کا رنگ
حیران الگ__ پریشان الگ__سنسان الگ___بیابان الگ

Posted

زندگی کی حقیقت کو بس اتنا جانا هے

درد میں اکیلے اور خوشیوں میں زمانہ هے

Posted

ﻣﺠﮭﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﺳﺎﻧﺲ ﮔﺮﺍﮞ ﻟﮕﮯ ﯾﮧ ﻭﺟﻮﺩ ﻭﮨﻢ ﻭ ﮔﻤﺎﮞ ﻟﮕﮯ 
__ﻣﯿﮟ ﺗﻼﺵ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﺮﻭﮞ ﻣﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺧﻮﺍﺏ ﻭ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ

Posted

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
درد پھولوں کی طرح مہکیں، اگر تُو آئے

بھیگ جاتی ہیں اِس اُمّید پر آنکھیں ہر شام 
شاید اِس رات وہ مہتاب لبِ جُو آئے

ہم تیری یاد سے کترا کے گزُر جاتے مگر
راہ میں پُھولوں کے لب، سایوں کے گیسُو آئے

وہی لب تشنگی اپنی، وہی ترغیبِ سراب
دشتِ معلوُم کی، ہم آخری حد چُھو آئے

سینے وِیران ہُوئے، انجمن آباد رہی 
کتنے گُل چہرے گئے، کتنے پری رُو آئے

آزمائش کی گھڑی سے گزُر آئے تو ضیا
جشنِ غم طاری ہُوا آنکھ میں آنسو آئے

ضیا جالندھری

  • 3 months later...
Posted
محبت مانگتی ھے یوں 
گواہی اپنے ھونے کی
کہ جیسے کوئی طفل سادہ
دن میں بیج بوئے اور
شب میں بارہا اُٹھے
زمین کو کھود کے دیکھے
کہ پودا اب کہاں پہنچا __________!!

21742850_1421743284605484_5543737109134803487_n.jpg

  • 1 month later...
Posted

میں تیرے ساتھ بجھ نہ سکا حد گزر گئی
اے شمع میں ہوں تجھ سے پشیمان الوداع

میں جا رہا ہوں اپنے بیابانِ حال میں
دامان الوداع! گریبان الوداع

اِک رودِ نا شناس میں ہے ڈوبنا مجھے
سو اے کنارِ رود ، بیابان الوداع

سہنا تو اک سزا تھی مرادِ محال کی
اب ہم نہ مل سکیں گے ، میاں جان الوداع

اے شام گاہِ صحنِ ملالِ ہمیشگی
کیا جانے کیا تھی تری ہر اک آن ، الوداع

اب میں نہیں رہا ہوں کسی بھی گمان کا
اے میرے جاں الوداع ' اے میرے مان الواداع

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts


×
×
  • Create New...