Atbaf Abrak
Atbaf Abrak Best poetry Collection.
6 topics in this forum
-
- 0 replies
- 3.1k views
گر نہیں ہے تو اسے مت کیجے گر نہیں ہے تو اسے مت کیجے یونہی ضائع نہ محبت کیجے کیا دکھاوے کا تعلق رکھنا اس سے بہتر ہے کہ نفرت کیجے جو نہیں تیرا اسی کا ہونا ہے حماقت نہ حماقت کیجے مار ڈالے گی مروت ہم کو ختم ہر اپنی عنایت کیجے بے وفا ہو یا ہو مجبور کوئی بہ خوشی ایسوں کو رخصت کیجے جانے والوں کو دعا دے کے کہو پھر سے آنے کی نہ زحمت کیجے مانا مشکل ہے سنبھلنا دل کا دل سے ہر گز نہ رعایت کیجے دل کی فطرت ہے بغاوت کرنا اب کہ اس دل سے بغاوت کیجے ایک ہی شخص کو لکھے جانا بند ابرک یہ بلاغت کیجے اپنے حصے میں بھی کچھ رکھ لیجے اب کہ ابرک جو محبت کیجے ..... اتباف ابرک .....
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 7 replies
- 2.6k views
ہے سکوں اتنا کہ آزار کی ضد کرتے ہیں ہم وہ مجرم ہیں کہ خود دار کی ضد کرتے ہیں تھک گیا ہوں در و دیوار سے کہتے کہتے اب تو یہ غم کسی غمخوار کی ضد کرتے ہیں ہم اصولوں کے نہیں ہم ہیں اناؤں والے سر کٹا دیتے ہیں دستار کی ضد کرتے ہیں ہے تباہی کہ ہمیں راس نہیں آزادی ہم وہ در ہیں کہ جو دیوار کی ضد کرتے ہیں کوئی سمجھے تو مری دھرتی کی مشکل کو ذرا بے وفا سب ہیں وفادار کی ضد کرتے ہیں بہ خوشی تخت نشیں اب وہ کئے جاتے یہاں زندہ بستی میں جو مردار کی ضد کرتے ہیں خود کو بیچ آئے جو اغیار کے ہاتھوں سارے ہم سے وہ بھی یہاں کردار کی ضد کرتے ہیں ہاتھ آ جائے کوئی عیب ہمارا ان کے سر قلم کرنے کو تلوار کی ضد کرتے ہیں ہے گھٹن اتنی کہ لفظو…
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 2.7k views
غیر کے چاک گریباں کو بھی ٹانکا کیجے اور کچھ اپنے گریباں میں بھی جھانکا کیجے بن کے منصف جو کٹہروں میں بلائیں سب کو اس ترازو میں ذرا خود کو بھی جانچا کیجے خود میں دعویٰ جو بڑائی کا لئے پھرتے ہیں یہ بھی فتنہ ہے ذرا اس کو بھی چلتا کیجے سب کو دیتے ہیں سبق آپ بھلے کاموں کا پہلے اس فن میں ذرا خود کو تو یکتا کیجے راستی پر ہیں فقط آپ غلط ہیں سارے اس تعصب میں حقیقت کو نہ دھندلا کیجے ہے توقع کہ محبت سے سبھی پیش آئیں خود محبت سے کوئی ایک تو اپنا کیجے اور کے نقص پہ جو اُگلے زباں تیری زہر اپنے حصے کا ذرا زہر بھی پھانکا کیجے برہمی ٹھیک ہے جاہل کی جہالت پہ مگر علم حاضر ہے ذرا خود کو تو بینا کیجے کاہے ابرک ہے گلہ رات کی تاریکی کا آ…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 0 replies
- 852 views
میں جس کے در گیا ,,,,,,,,,, وہی عالی مقام تھا سب حاکموں کے شہر میں , میں ہی عوام تھا کٹھ پتلیوں کی طرح سے ہے ,,,,,,,, اب نچا رہا ظالم ,,,,,,,,,,, کبھی یہ وقت بھی اپنا غلام تھا نکلا جو داستاں سے تو ,,,,,, اس پہ شباب تھا آیا جو لوٹ کر ہوں تو ,,,,,,,,,,, قصہ تمام تھا کتنے خلوص سے کوئی ,,,,,,,,,,, پھر اجنبی ہوا بھولا ہے گھر کا راستہ ,,,,, جس میں قیام تھا یہ دل عجیب شے ہے ,,,, سمجھتا نہیں کبھی اس کے کئے سلام کو ,,,,,,,,,, سمجھا سلام تھا مڑ کر جو دیکھوں آج ,,,,,,,,, پشیمانیاں بہت دو پل کی زندگی میں ,,,,,,, جو چاہا دوام تھا ابرک ! تمھارے بعد بھی ,,,,,,,,,,, لکھا گیا بہت پر مستند وہی تھا ,,,,,,,,,, جو پچھلا کلام تھا اتباف اب…
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.2k views
حال ماضی سے ہم بھگوتے ہیں جو نہ اپنا تھا اس کو روتے ہیں عاق کر کے جہاں کی سب خوشیاں غم میں خود غم نئے پروتے ہیں خواب ٹوٹے کی کرچیاں چنتے عمر بھر جاگتے نہ سوتے ہیں روندتے خود بہار آنگن کی بیج کیوں خود خزاں کے بوتے ہیں گم شدہ کی تلاش میں ناداں ہم سفر کو بھی اپنے کھوتے ہیں دوریاں بھی عذاب ہیں لیکن کم کہاں قرب پر یہ ہوتے ہیں حد ہے دیوانگی کی یہ ابرک داغ کو داغ سے ہی دھوتے ہیں اتباف ابرک
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 893 views
کبھی خوابوں پہ مرتا ہوں، کبھی تعبیر مارے ہے کبھی تدبیر سے مرتا، کبھی تقدیر مارے ہے ہوس ہے میرے اندر کی جو مجھ کو ہے دغا دیتی کبھی پانے کی حسرت تو کبھی تسخیر مارے ہے کبھی سوچوں بھلا ہے یہ، کبھی سوچوں کہ وہ اچھا انہی سوچوں میں گم اکثر مجھے تاخیر مارے ہے عجب فطرت ہے انساں کی وہ چاہے جو نہیں ہوتا کبھی زندان کی خواہش، کبھی زنجیر مارے ہے بنے یکتا یگانہ یہ، نہیں کچھ ہاتھ میں اس کے کبھی لشکر پہ حاوی ہے، کبھی اک تیر مارے ہے فنا ہونا ہی قسمت ہے، بدلنا جس کا ناممکن نہ پیتا زہر جو ظالم اسے اکسیر مارے ہے کتابوں میں لکھے قصے، بتاتے ہیں مجھے فاتح جو اپنا حال اب دیکھوں تو وہ تحریر مارے ہے محبت بھی ہے اک پھندا، نہ جس سے کوئی بچ پایا وہ جو اپنوں سے بچ جائے اس…
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
