Urooj Butt 861 Posted June 5, 2018 Posted June 5, 2018 اُنہیں بس ہم سے رغبت تھی تھے ہم بھی جانتے لیکن ہمیں ان کا بکھر جانا بکھر کے پھر سمٹ جانا ہمارے ہاتھ کو تھامے ہم سے پھر لپٹ جانا بہت مجبور کرتا تھا کہ اپنے دل کے تہہ خانے میں دفنائے ہوئے سب غم سبھی رنج و ستم ان کے نہ لکھ ڈالیں کتابوں پر کہ لکھ دینے سے یوں شکوے کوئی ان کو نہ کہہ ڈالے جو کہہ ڈالے کوئی احمق انہیں ظالم٬ ہمیں مظلوم تو ہم کیا معاف کر دیں گے؟ خود ہی کو بخش دیں گے ہم؟ ارے جاناں! ارے پاگل نہیں ہوتا کبھی ایسا محبت کے فسانےمیں جسے ہم سونپ دیں سب کچھ اسے ہم بخش دیتے ہیں سبھی خوشیاں زمانے کی اگرچہ جان بھی جائے خوشی سے سونپ آتے ہیں صنم کی اک جھلک پر ہم خود ہی کو وار دیتے ہیں جو وہ کہہ دیں کہ ہنسنا مت ہنسی قربان کر دیں ہم جو کہہ دیں وہ کہ رونا مت تو آنکھیں خشک ہو جائیں جو وہ کہہ دیں کہ میرے ہو تو کیسا ظلم ہو جاناں جن پہ پہلے مرتے ہوں خوشی سے پھر سے مر جائیں چلو سن لو کیوں رغبت تھی انہیں ہم سے بس اک دم سے ہم ان پہ مر مٹے تھے بس وہ ہم سے جی اٹھے تھے بس یونہی سب عشق بن بیٹھا ہمیں برباد کر بیٹھا انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی لو تم بھی جان بیٹھے ہو انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی انہیں کیوں ہم سے رغبت تھی ©S.S Writes 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.