Jump to content

Recommended Posts

Posted

بہلتے کس جگہ ، جی اپنا بہلانے کہاں جاتے

تری چوکھٹ سے اُٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے

 

نہ واعظ سے کوئی رشتہ، نہ زاہد سے شناسائی

اگر ملتے نے رندوں کو تو پیمانے کہاں جاتے

 

خدا کا شکر ، شمعِ رُخ لیے آئے وہ محفل میں

جو پردے میں چُھپے رہتے تو پروانے کہاں جاتے

 

اگر ہوتی نہ شامل رسمِ دنیا میں یہ زحمت بھی

کسی بے کس کی میّت لوگ دفنانے کہاں جاتے

 

اگر کچھ اور بھی گردش میں رہتے دیدہِ ساقی

نہیں معلوم چکّر کھا کے میخانے کہاں جاتے

 

خدا آباد رکّھے سلسلہ اِس تیری نسبت کا

وگرنہ ہم بھری دنیا میں پہچانے کہاں جاتے

 

نصیرؔ اچھا ہوا در مل گیا اُن کا ہمیں ، ورنہ

کہاں رُکتے ، کہاں تھمتے ، خدا جانے کہاں جاتے

Screenshot_20190120_085440.png

Posted

میری تصویر کےٹکڑے جلا دینا ، بھلا دینا
میری ہستی کو تم بلکل مٹا دینا ، بھلا دینا

میں تم کو یاد آؤں گر،سلگتی چاندنی شب میں
تو اپنے گھر کے سب پردے گرا دینا ، بھلا دینا

کوئی تم سے اگر پوچھے، جو وجہ_ دیدہ_ پرنم
تو میری ذات کو مٹی بنا دینا ، بھلا دینا

فقط تنہائیاں ہی اب ہیں میری آخری منزل
تم اپنی زندگی کو رخ نیا دینا ، بھلا دینا

کہاں تم اک صبح _ روشن، کہاں میں ڈوبتا تارہ
مجھے منظر سے بلکل ہی ہٹا دینا ، بھلا دینا

دسمبر کی رتوں میں جب، جبیں تر ہو پسینے سے
تو آتش دان کو فورآ بجھا دینا، بھلا دینا

کتاب_ زیست میں لکھو گی جب اک اور افسانہ
میرے کردار کو چہرہ نیا دینا، بھلا دینا

سکون _ دل کبھی جب مانگنے بیٹھو مصلے پر
میرا دم بھی نکل جائے دعا دینا، بھلا دینا

نہ پوری ہو سکے گی یہ تمھاری آخری خواہش،
میرے بس میں نہیں تم کو بھلا دینا ، بھلا دینا

یہ بکھرے بال،سوکھے لب،یہ کیا صورت بنا لی ہے؟
 ..... کہا تھا ناں، بھلا دینا ، بھلا دینا ، بھلا دینا

(شاعر : زوہیب حسن)

 

15B-Burning-Man-2014-.jpg

Posted

اب اپنی رُوح کے چھالوں کا کُچھ حِساب کرُوں
میں چاہتا تھا چراغوں کو ماہتاب کرُوں

بُتوں سے مجھ کو اِجازت اگر کبھی مل جائے !
تو شہر بھر کے خُداؤں کو بے نقاب کرُوں

میں کروَٹوں کے نئے زاویے لِکھوں شب بھر
یہ عِشق ہے تو کہاں زندگی عذاب کرُوں

ہے میرے چاروں طرف بِھیڑ گونگے بہروں کی !
کسے خطیب بناؤں، کسے خطاب کرُوں؟؟

اُس آدمی کو بس اِک دُھن سوار رہتی ہے
بہت حَسِیں ہے یہ دُنیا، اِسے خراب کرُوں

یہ زندگی، جو مجھے قرض دار کرتی ہے
کہیں اکیلے میں مِل جائے، تو حِساب کرُوں.

Im-Fine.jpg

  • 5 weeks later...
Posted

اب میں خود کو بگاڑ بیٹھا ہوں
دل کی بستی اجاڑ بیٹھا ہوں

سات رنگوں میں آٹھواں تھا میں
اب تو حلیہ بگاڑ بیٹھا ہوں

آنکھ مجھ کو نکالتا ، تُو ہے
میں تو سورج پچھاڑ بیٹھا ہوں

چُٹکلے نا سُنا مجھے پھر سے
کاٹ غم کے پہاڑ بیٹھا ہوں

یوں گلے تُو نہ پڑ مرے، چل جا
بند کر سب کواڑ بیٹھا ہوں

Posted

کتنی دلچسپ ہے سردی کی یہ بارش جاناں
کھل کے برسے بھی نہیں، تن کو بھگوئے بھی نہیں

اتنے پر لطف تواتر سے برستی بارش
جس طرح یاد تری دل میں ہے قطرہ قطرہ

جو بظاہر تو بہت بے ضرر سی لگتی ہے
ہاں مگر اس کا تسلسل کرے روح کو چھلنی

صبح سے شام تلک سرد سی بوندوں کی پھوار
رات کو جھیل کی سی شکل میں جل تھل کرتی

کتنے دلچسپ ہیں سردی میں تیری یاد کے پل
اس مسلسل سی، لگاتار سی بارش کی طرح

اب ترا درد اذیت نہیں دیتا مجھ کو
اس میں شدت کی جگہ اب ہے تواتر جاناں

کتنی پر کیف ہے میٹھی سی کسک یادوں کی
ہو ہتھیلی پہ چبھن جس طرح ان قطروں کی

 

Posted

وجود اپنا، نہ روح اپنی
بس اک تماشہ یہ زیست ٹھہری..
نہ دل لگی میں سکون پایا
نہ عاشقی میں قرار پایا
نہ وصال لمحے یہ راس آئی
نہ ہجر ہی ہم گزار پائے.... ؛
عجیب چاہت کے مرحلے ہیں
نہ جیت پائے، نہ ہار پائے..؛
نہ تیری یادوں کی دھند اتری
نہ دل کے دامن کو جھاڑ پائے..؛
نہ آنکھیں خوابوں کو ڈھونڈ پائیں
نہ خواب آنکھوں کو ڈھونڈ پائے..؛
عجیب تماشہ یہ زیست ٹھہری
وجود اپنا ، نہ روح اپنی..

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.