jannat malik👑 Posted October 3, 2016 Posted October 3, 2016 (edited) پیاس لگی تھی غضب کی مگر پانی میں زہر تھا پیتے تو مر جاتے اور نہ پیتے تو بھی مر جاتے بس یہی دو مسئلے،زندگی بھر نہ حل ہوئے نہ نیند پوری ہوئی ،نہ خواب مکمل ہوئے وقت نے کہا .... کاش تھوڑا سا صبر ہوتا صبر نے کہا .... کاش تھوڑا سا وقت ہوتا صبح صبح اٹھنا پڑتا ہے کمانے کے لیے صاحب آرام کمانے نکلتا ہوں آرام چھوڑ کر ہنر" سڑکوں پر تماشا کرتا ہے اور "قسمت" محلات میں راج کرتی ہے" عجیب سوداگر ہے یہ وقت بھی جوانی کا لالچ دے کر بچپن لے گیا اب امیری کا لالچ دے کر جوانی بھی لے جائیگا لوٹ آتا ہوں واپس گھر کی طرف ...ہر روز تھکا ہارا آج تک سمجھ نہیں آیا جینے کے کام کرتا ہوں یا کام کرنے کے لیے جیتا ہوں تھک گیا ہوں تیری نوکری سے اے زندگی مناسب ہو گا میرا حساب کر دے بھری جیب نے 'دنیا' کی پہچان کرائی اور خالی جیب نے 'اپنوں' کی ہنسنے کی خواہش نہ ہو تو بھی ہنسنا پڑتا ہے کوئی جب پوچھے کیسے ہو....؟ تو "مزے میں ہوں" کہنا پڑتا ہے یہ زندگی کا تھیٹر ہے دوستو یہاں ہر اک کو ڈرامہ کرنا پڑتا ہے ماچس کی ضرورت یہاں نہیں پڑتی !.....یہاں آدمی آدمی سے جلتا ہے Edited October 3, 2016 by Jannat malik 2
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now