Jump to content

Recommended Posts

Posted (edited)

پیاس لگی تھی غضب کی
مگر پانی میں زہر تھا
پیتے تو مر جاتے اور نہ پیتے تو بھی مر جاتے
بس یہی دو مسئلے،زندگی بھر نہ حل ہوئے
نہ نیند پوری ہوئی ،نہ خواب مکمل ہوئے
وقت نے کہا .... کاش تھوڑا سا صبر ہوتا
صبر نے کہا .... کاش تھوڑا سا وقت ہوتا
صبح صبح اٹھنا پڑتا ہے کمانے کے لیے صاحب
آرام کمانے نکلتا ہوں آرام چھوڑ کر

ہنر" سڑکوں پر تماشا کرتا ہے اور "قسمت" محلات میں راج کرتی ہے"
عجیب سوداگر ہے یہ وقت بھی
جوانی کا لالچ دے کر بچپن لے گیا
اب امیری کا لالچ دے کر جوانی بھی لے جائیگا
لوٹ آتا ہوں واپس گھر کی طرف ...ہر روز تھکا ہارا
آج تک سمجھ نہیں آیا جینے کے کام کرتا ہوں یا کام کرنے کے لیے جیتا ہوں
تھک گیا ہوں تیری نوکری سے اے زندگی
مناسب ہو گا میرا حساب کر دے
بھری جیب نے 'دنیا' کی پہچان کرائی اور خالی جیب نے 'اپنوں' کی
ہنسنے کی خواہش نہ ہو تو بھی ہنسنا پڑتا ہے
کوئی جب پوچھے کیسے ہو....؟
تو "مزے میں ہوں" کہنا پڑتا ہے
یہ زندگی کا تھیٹر ہے دوستو
یہاں ہر اک کو ڈرامہ کرنا پڑتا ہے
ماچس کی ضرورت یہاں نہیں پڑتی
!.....یہاں آدمی آدمی سے جلتا ہے

16 - 1.jpg

Edited by Jannat malik
  • 2 weeks later...

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.